آزادکشمیر کے وزیرقانون کو اپوزیشن کے کارکنوں اور عوام نے محصور بنا لیا

آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے علاقے قلعاں میں سکول کے افتتاح کے موقع پر حکومت اور اپوزیشن کے کارکنوں کے درمیان تصادم ،پولیس کا لاٹھی چارج جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں اور عوام علاقہ کے احتجاج میں وزیر قانون آزاد کشمیر سردار فاروق طاہر محصور ہو کر رہ گئے۔

تصادم اور پولیس کے لاٹھی چارج اور فائرنگ سے درجنوں شہری زخمی ہو گئے جبکہ ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہے ہے۔

منگل کے روز وزیر قانون آزاد کشمیر سردار فاروق طاہر قلعاں بلوچ میں اسلامک ڈیویلپمنٹ بنک کے تعاون سے تعمیر ہونے والی سکول کی عمارت کا افتتاح کرنے گئے ۔ یہ اسکول پہلے مڈل تھا تاہم مطلوبہ تعداد پوری نہ ہونے کے باعث اسے مڈل سے پرائمری کر دیا گیا جس پر عوام میں غم و غصہ اور ردعمل کی صورتحال پائی جاتی تھی۔

وزیر قانون اور اسٹاف کی گاڑیوں کے ٹائروں سے ہوا نکال دی گئی

عوام علاقہ اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے وزیر حکومت کو پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا کہ وہ اس جگہ نہ آئیں کیونکہ عوام غصے میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی عوام نے حکومتی جلسے کے مقام پر پروگرام شروع کر دیا تھا جس میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے لوگ بھی شامل تھے۔

اسکول میں‌اپوزیشن کا پروگرام جاری ہونے کے باوجود وزیر حکومت سردار فاروق طاہر پولیس فورس کے ساتھ سکول کے افتتاح کیلئے آئے جس پر عوام نے احتجاج شروع کر دیا جس کے بعد حکومتی کارکنوں اور اپوزیشن کارکنوں کے درمیان تصادم کی راہ ہموار ہوئی۔

احتجاج پر قابو پانے کیلئے پولیس نے لاٹھی چارج اور فائرنگ کی جس سے درجنوں لوگ زخمی ہوئے جن میں سے ایک شخص کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ مقامی حکومتی کارکنوں کا موقف ہے کہ یہاں پہلے سے حکومتی پروگرام جاری تھا جس پر اپوزیشن نے دھاوا بولا اور اس کے نتیجے میں تصادم ہوا۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ ہو گئی اور عوام علاقہ اور اپوزیشن نے وزیر حکومت کے واپسی کے رستے بند کر دیے ہیں اور وزیر حکومت اسکول میں محصور ہو کر رہ گئے۔

مخالف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور عوام نے سڑک بند کر رکھی ہے

مقامی ذرائع بتا رہے ہیں کہ عوام علاقہ نے وزیر حکومت اور ان کے سٹاف کی گاڑیوں کے ٹائروں سے ہوا نکال دی ہے ۔ بتایا جا رہا ہے اسکول کے اطراف بڑی تعداد میں عوام علاقہ موجود ہیں اور حکومت سے وزیر کےمستعفی ہونے اور فائرنگ کے احکامات پر مقدمہ درج کرنے کے مطالبات کر رہے ہیں۔

اس واقعے پر حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ ”اپوزیشن اور عوام علاقہ نے حکومتی رٹ کو چیلنج کیا ہے پھر بھی حکومت طاقت کے استعمال کے بجائے بات چیت سے معاملہ حل کرنا چاہتی ہے۔ حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں کہ کچھ لوگ احتجاج کریں اور وزیر استعفا دے دے۔ اگر ایسا ہو تو کل چند ہزار لوگ مظفرآباد جمع ہو کر وزیراعظم سے استعفا مانگنا شروع ہو جائیں تو کیا وزیر اعظم استعفی دے دے گا؟”

حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ”مقامی انتظامیہ اس معاملے کا کوئی پر امن حل نکالنے کی کوشش کر رہی ہے اور معاملہ جلد حل ہو جائے گا۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے