وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر ایچ نائن کی رمشا کالونی کے مکین مالکانہ حقوق سے محروم کیوں؟

اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں پندرہ سو گھروں اور سات ہزار سے زائد نفوس پر مشتمل آبادی رمشا کالونی مسیحوں کی کچی آبادی ہے مگر شہر کے انتظامی ادارے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی(سی ڈی اے)کے کاغذات میں اسے ابھی کچی آبادی کا درجہ نہیں دیا گیا ہے۔ جس وجہ سے یہاں نہ تو ترقیاتی کاموں کے لئے فنڈز جاری ہو سکتے ہیں نہ ہی بنیادی سہولیات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہاں کے مکین اپنے مکانات اور دکانوں کے مالکانہ حقوق سے محرومی کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ان کے مکانات کے مالکانہ حقوق دیئے جائیں۔ انہوں نے اس مطالبے کے حق میں جلسے جلوس بھی کیے ہیں لیکن اس کے باوجود ایسا نہیں ہو سکا۔

رمشا کالونی 2012 میں وجود میں آئی جب راول ڈیم کے پاس واقع ایک آبادی "اس آبادی کا کیا نام تھا اور یہ راول ڈایم کے کس جانب واقع تھی؟” کی رہنے والی 12 سالہ رمشا مسیح پر ایک مقامی مسجد کے مولوی نے توہین مذہب کا الزام لگایا۔ اگرچہ یہ الزام بعد میں غلط ثابت ہوا لیکن مقامی مسیحی آبادی کے تحفظ کے پیش نظر اسلام آباد کی انتظامیہ نے عدالتی احکامات کے تحت اسے ایچ سیکٹر کے ایک غیرآباد علاقے میں بسا دیا۔ بعد ازاں دیگر شہروں اور اسلام آباد کے دیگرحصوں سے مسیحیوں کی بڑی تعداد یہاں آ کر آباد ہو گئی اور یوں یہ علاقی مسیحوں کی سب سے بڑی کچی آبادی بن گیا اور رمشا کی نسبت سے رمشا کالونی کے نام سے مشہور ہو گیا۔ یہاں منتقل ہونے والوں میں اسلام آباد کے سیکٹر جی 11 کے پاس واقع میرا آبادی کے رہنے والے تقریباََ تیرہ سو کے قریب لوگ بھی شامل تھے۔

رمشا کالونی میں رہنے والوں میں چالیس سالہ رضیہ کنول بھی شامل ہیں، وہ ایک سماجی کارکن ہیں اور وہ گزشتہ دس سال سے یہاں رہائش پذیر ہیں۔ ان کے مطابق یہاں رہنے والے لوگوں کو جن مشکلات کا سامنا ہے ،ان کا احساس کوئی اور نہیں کر سکتا۔ جو لوگ ان مشکلات کے باوجود بھی یہاں رہ رہے ہیں وہ "صرف اپنی کمزوریوں اور مجبوریوں کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں”۔ وہ کہتی ہیں کہ کچھ غیر حکومتی اداروں نے بھی رمشا کالونی کے مکینوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائی ہے جبکہ عوامی ورکر پارٹی نامی سیاسی جماعت نے بھی ان کا بہت ساتھ دیا ہے لیکن مقامی باشندوں کی طرف سے کیے گئے متعدد احتجاجی جلسے جلوسوں کے باوجود حکومت اور سی ڈی اے نے ان مطالبات پر کوئی غور نہیں کیا۔

نادر مسیح رمشا کالونی میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے ٹائروں میں پنکچر لگانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی عمر 53 سال ہے اور رمشا کالونی میں آنے سے پہلے وہ میرا آبادی میں رہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں حکومت نے ہی کہا تھا کہ تم یہاں رہ سکتے ہو”۔ لیکن ان کے مطابق انہیں یہاں کسی قسم کی شہری سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

ایک اور مقامی باشندے 56 سالہ نذیر مسیح اسلام آباد کے جڑواں شہر راولپنڈی میں فرنیچر کی دکان پر کام کرتے ہیں۔ وہ 12 سال پہلے میرا آبادی سے رمشا کالونی منتقل ہوئے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں جس گھر میں رہتا ہوں اسے میں نے اپنے خرچے سے تعمیر کیا ہے”۔ انہوں نے اس مکان کا سامنے کا حصہ کرائے پر دے رکھا ہے جبکہ وہ خود اس کے پچھلے حصے میں رہتے ہیں۔ انہیں شکایت ہے کہ "حکومت پاکستان نے مسیحیوں کو صرف صفائی کا کام کرنے کے لیے رکھا ہوا ہے کیونکہ نہ تو ہمیں کوئی زمین دی جاتی ہے اور نہ ہی کوئی اور شہری سہولتیں یہاں تک کہ ہمیں اپنی رہائش کا حق بھی نہیں دیا جاتا”۔

رمشا کالونی کے دوسرے مکین بھی اپنے مصائب و مشکلات پر رنجیدہ و غمگین ہیں۔ ان میں 25 سالہ رضاگل بھی شامل ہیں۔ وہ بیروزگار ہیں اور اپنے گھر کے سات افراد کے ساتھ رمشا کالونی میں رہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "بجلی اور گیس کے خرچے تو ہم بہت مشکل سے پورے کر رہے ہیں لیکن ہمیں اپنے مکانوں کے مالکانہ حقوق نہیں دیئے جارہے”۔

رمشاکالونی میں بارہ سال سے مقیم 45 سالہ سبزی فروش شہباز مسیح کا بھی کہنا ہے کہ جب اسلام آباد کی مسیحی برادری کے افراد یہاں منتقل ہونا شروع ہوئے تو ایک شخص نے ایک رجسٹر بنایا ہوا تھا جو پیسے لے کر یہاں آنے والے لوگوں کو زمین دے دیتا تھا۔ ہم ان پڑھ لوگ ہیں۔ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ حقیقت کیا ہے اس لیے ہم اسے پیسے دیتے رہے”۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ شخص ہر کسی کو بتاتا تھا کہ "وہ سی ڈی اے سے ملا ہوا ہے اس لیے وہ سب کو مالکانہ حقوق دلوا دے گا”۔

پینتالیس سالہ مقامی درزی سجاد نسیم کو بھی یہی شکایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو بھی سیاسی نمائندے یہاں آتے ہیں توکہتے ہیں کہ آپ کو مالکانہ حقوق جلد ملیں گے پانی بھی ملے گا بجلی بھی ملے گی سب کچھ ملے گا۔ گلیاں بھی پکی ہوں گی اور بچوں کو بھی تمام سہولیات ملیں گی۔ مگر ہمارے بچے تو غربت اور مسائل کی وجہ سے منشیات کا استعمال کررہے ہیں۔ اس وجہ سے نہ ان کے پاس پڑھائی ہے، نہ کاروبار ہے”۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ "ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جس مکان میں ہم پچھلے سات سال سے یہاں رہ رہے ہیں وہ ہم نے پیسوں سے خریدا ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں اس کے مالکانہ حقوق حاصل نہیں ہیں”۔

حقیقت یہ ہے کہ سجاد نسیم کی طرح کئی اور لوگوں نے بھِی حالیہ سالوں میں رمشا کالونی میں دکانیں اور مکان خریدے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب کالونی کی زمین کسی کی ملکیت نہیں ہے تو پھر یہ خریدوفروخت کیسے ہو رہی ہے۔ سجاد نسیم کا کہنا ہے کہ ایک "پوری تنظیم اس کام میں ملوث ہے، جس میں مبینہ طور پہ سی ڈی اے کا آدمی بھی شامل ہے”۔ تاہم وہ خود کبھی اس تنظیم کے کسی نمائندے سے نہیں ملے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنا مکان خریدنے کے لیے تمام ادائیگی اپنے بھائی کے ذریعے کی تھی کیونکہ وہ خود اس وقت ملک سے باہر تھے۔

پچپن سالہ مقامی دکان دار شفاقت نصیر، جو نو سال سے یہاں رہ رہے ہیں، بھی یہی الزام لگاتے ہیں کہ "اس سارے عمل میں سی ڈی اے کے اہلکار پوری طرح شامل ہیں”۔ ان کے مطابق "جب کوئی اس کالونی میں گھر بناتا ہے تو مبینہ طور پہ سی ڈی اے والے آتے ہیں اور مار کٹائی کرتے ہیں لیکن بعد میں پیسے لیکر واپس چلے جاتے ہیں”۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ "سیاسی لوگ ووٹ وغیرہ لینے کے لئے یہاں آجاتے ہیں اس کے بعد یہ کچھ بھی نہیں کرتے”۔

تاہم سی ڈی اے کے ایک اہلکار نے اپنا نام خفیہ رکھنے کی شرط پر بتایا کہ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں سکیورٹی کے مسائل کی وجہ سے اسلام آباد کے علاقے راول ٹائون سے مسیحی خاندانوں کوعدالتی احکامات کے بعد رمشا کالونی میں عارضی طور پر آباد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے ساتھ بہت سے باہر سے آنے والے لوگ بھی یہاں رہائش پذیر ہو گئے۔ اس اہل کار کے مطابق سی ڈی اے کے افسران بھی ان دیگر افراد کی یہاں منتقلی میں ملوث تھے۔

اس کا یہ بھی کہنا ہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)نے 2015 میں تحقیقات کیں جن کے نتیجے میں سی ڈی اے کے 49 کے قریب اہل کار جیل چلے گئے کیونکہ وہ اس کالونی میں لوگوں کو غیر قانونی طور پر آباد کرانے میں ملوث پائے گئے تھے۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ یہ کیس ابھی چل رہا ہے اس لیے ابھی یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کون رمشا کالونی میں قانونی طور پر رہتا ہے اور کون غیرقانونی طورپر۔

رمشا کالونی میں شہری سہولتوں کے فقدان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ کالونی غیر قانونی طور پر قائم کی گئی ہے اس لیے جب تک اسے قانونی حیثیت نہیں مل جاتی اس وقت تک حکومت کے پاس یہاں شہری سہولیات فراہم کرنے کا کوئی طریقہ کار نہیں۔

تاہم یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اقلیتی رہنمائوں کے احتجاج اور عدالتی احکامات پراسلام آباد کی کچھ کچی بستیوں کو قانونی حیثیت مل چکی ہے۔ اس لیے رمشا کالونی کے مکینوں کا سوال ہے کہ آخر ان کی بستی کو قانونی حیثیت دینے میں حائل قانونی رکاوٹیں دور کیوں نہیں کی جا رہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے