شہاب صفدرسے میری نیازمندی کم وبیش تین دہائیوں کو محیط ہے۔ان کے نام اور کام کے بارے میں غائبانہ طور پر بہت کچھ سن رکھا تھا۔2001 میں جب میری تعیناتی شہاب صفدرکی جنم بھومی ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہوئی تو ان سے پہلی باالمشافہ ملاقات ہوئی۔شہاب صفدر کے بارے جیسا سن رکھا تھا باالمشافہ ملاقات میں ان کو اس سے کہیں بہتر پایا۔اپنے اندر شعروادب کا شورانگیز ذخیرہ رکھنے والاخاموش طبع آدمی،جس کا اوڑھنا بچھونا ادب،جس کی گفتگو کا مرکز و محور شاعری اور اس کے یمین ویسار بیٹھنے والے ایک سے بڑھ کر ایک اربابِ علم وفن۔شہاب صفدر نے جس گھر میں آنکھ کھولی اس گھر میں دو کام بہت تواتر اور عقیدت سے سرانجام دیے جاتے تھے۔ایک شاعری اور دوسرا عزاداری۔اس کا ذکر شہاب صفدر نے ”تحویل“ میں موجود شہرآشوب کے پہلے بند میں کچھ اس طرح کیا ہے۔
یا رب گناہ بخش مرے والدین کے
دونوں عزا گزار تھے مولا حسین کے
پڑھتے قصیدے فاتحِ بد ر و حنین کے
رو کر سناتے نوحے بھی زہرا کے چین کے
ان کی توجہات نے ایسا کرم کیا
بندے نے کم سنی میں قلم کو علم کیا
شہاب صفدر کے والد گرامی الطاف صفدر ایک کہنہ مشق شاعر تھے اور معروف شاعر غلام محمد قاصرکے قریبی دوستوں میں سے تھے۔اس طرح شہاب صفدر کو ان دونوں نابغہ روزگار ہستیوں سے براہِ راست استفادے کے مواقع میسر آئے۔2001 میں جب میری تعیناتی ڈیرہ اسمٰعیل خان میں ہوئی اس وقت شہاب صفدر کا پہلا شعری مجموعہ” لہریں لیتی پیاس“ 2000 میں شائع ہو چکا تھا جس کی پہلی غزل کا یہ شعر مجھے آج تک اپنے سحر میں لیے ہوئے ہے۔
ملتوی کردی اچانک اُس نے تقریب وصال
اور دل سا تحفہ نایاب رکھا رہ گیا
”لہریں لیتی پیاس“ کے بعد شہاب صفدر کے دو شعری مجموعے ”تکلم“ (2006) اور ”نیلگوں“ (2013) کے نام سے آئے جن میں نظمیں اور غزلیں شامل تھیں مگر اس کے بعد ان کا جھکاؤ تقدیسی شاعری کی طرف نظر آیا جس کے نتیجے میں ان کا نعتیہ مجموعہ”سبیل“ 2016 میں منظرِ عام پر آیا۔لیکن چھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی کے مصداق شہاب صفدر غزل سے بھی منسلک رہے اور2021 میں شہاب صفدر کا ایک اور غزلیہ مجموعہ”گم گشتہ“ کے نام سے شائع ہوا۔اگلے سال یعنی 2022 میں رثائی نظموں کا مجموعہ ”نیازِ اشک“ اور 2024 میں اعترافی نظموں کا مجموعہ”خراج“شائع ہوا۔اور اب سلام ومناقب پر ان کا مجموعہ”معجزہ یہ لہو کا ہے“ بھی آنے کو ہے۔”جمال احسانی شخصیت وفن“ اورغلام محمد قاصر کا شعری انتخاب ”انتخابِ قاصر“ اس کے علاوہ ہے۔جہاں تک ان کے حال ہی میں شائع ہونے والے شعری مجموعے”تحویل“ کاتعلق ہے تو یہ اس لیے بھی منفرد ہے کہ اس میں غزل،نظم،رباعی اورکسی حد تک متروک ہو جانے والی صنفِ سخن ”شہرآشوب“کوازسرِ نوزندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔شعری مجموعے”تحویل“ کے آخر میں 35 بندوں پر مشتمل ”شہر آشوب“ 35 برسوں کی کہانی ہے۔
انیس سو اٹھاسی ستمبر کی تیس تھی
اک موجِ خوں سے دل میں اٹھی غم کی ٹیس تھی
درد و اثر میں شام کلامِ انیس تھی
غربت رفیق ، نوحہ گری ہم جلیس تھی
مظلوم بے زبان تھے ظالم تھے بے ضمیر
جو کر سکے نہ قتل انھیں کر لیا اسیر
اس شہر آشوب کا ایک ایک بند ایک پوری کہانی ہے۔تین دہائیاں قبل شروع ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات اوردہشت گردی کے عِفریت نے جہاں پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا وہاں غلام محمد قاصر اور شہاب صفدر کے شہر ڈیرہ اسمٰعیل خان کو بھی تباہ وبرباد کردیا۔وہ ڈیرہ جو کبھی پھولوں کا سہرا کہلاتا تھا اپنے باسیوں کے لیے کانٹوں کی سیج بن گیا۔دریائے سندھ کے کناروں پر منعقد ہونے والے تہوار،میلے اور ریتیں وقفِ الم ہوئیں۔آنگن،محلے اور جھوکیں اجڑنے لگیں۔”تحویل“ میں شہاب صفدر انھی باتوں پر اشک فشاں ہیں۔
اس قتل وخوں سے شہر کی حالت ہوئی تباہ
نقصِ معاشرت سے معیشت ہوئی تباہ
چھوڑا گھروں کو چین کی صورت ہوئی تباہ
باہم غمی خوشی کی روایت ہوئی تباہ
ہر کوچہ دیوِ خوف نے مقتل بنا دیا
آباد و شاد شہر کو جنگل بنا دیا
شہاب صفدر بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں۔اس مجموعے کا زیادہ ترحصہ بھی غزلیات پر مشتمل ہے لیکن اس مجموعے میں شامل غزلیات میں ان کے علاقے ”دامان“کا رنگ اوراپنے آبائی علاقے سے وابستہ یادیں کچھ زیادہ نمایاں ہیں۔”تحویل“ کے انتساب(جو انھوں نے ڈیرہ اسمٰعیل خان کے اہل قلم کے نام کیا ہے) سے لے کر ”شہر آشوب“ تک (جو ڈیرہ اسمٰعیل خان کی بربادی کا نوحہ ہے)،وہ ماضی کی یادوں میں کھوئے نظر آتے ہیں۔ شہاب صفدکوکچھ ناگزیر وجوہات کی بنا پر ڈیرہ اسمٰعیل خان سے اسلام آباد آنا پڑا اور پھریہاں مستقل طور پر رہائش پذیر ہونا پڑا۔ملازمت کے سلسلے میں بھی ہجرتیں واجب ہوئیں اور اسباب رکھا رہ گیا۔شاید اسی لیے وہ ابھی تک ”دامان“ کی وفا پرور مٹی سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکے۔”دامانی“رنگ میں رنگی ان کی ایک غزل ملاحظہ ہو:
مرے کنارے ملتے ہیں اک صبح،اک شام کے ساتھ
خواب میں گم ہوں شہ عیسیٰ ا ور کیول رام کے ساتھ
پُرکھوں پاس پہنچ جاتا ہوں جس پر چلتے چلتے
پٹڑی سی اک یاد بچھی ہے کوٹلہ جام کے ساتھ
دکھّن میں ہے بزم آرا شیرازی شاہ حسین
اتّر رقصاں پیر قمر سلطان عوام کے ساتھ
پچھم تختِ سلیماں اور بلقیس ِ سبا کا داماں
پورب سندھو مستاں یار کی موجِ خرام کے ساتھ
شہاب صفدر کا غزلوں پر مشتمل یہ پانچواں شعری مجموعہ ہے۔بدلتے معروضی حالات،گزرتے وقت اور ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ انسان کی سوچ اور خیالات کا تبدیل ہونا ایک فطری عمل ہے۔شہاب صفدر کے ہاں بھی یہ تدریجی عمل کارفرما ہے۔ملک میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال سے ہر کوئی پریشان ہے۔اس صورت حال کا سامنا جب کوئی تخلیق کار کرتا ہے تو اس کا اثر لامحالہ اس کی سوچ اور خیالات پر مرتب ہوتا ہے کیونکہ تخلیق کار تو معاشرے کا حساس ترین طبقہ ہوتا ہے اور وہ تن بیتی اور جگ بیتی سے ہی اپنی تخلیقات کے لیے خام مال اکھٹا کرتا ہے۔پچھلی تین دہائیوں سے ہماری مسجدوں،امام بارگاہوں اور کوچہ وبازار میں جو خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے،ہمارے عہد کا تخلیق کار اسے رقم کررہا ہے۔ اللہ کرے پھر سے ہماری عبادت گاہیں محفوظ اورہمارے شہرشاد و آباد ہو جائیں تاکہ معاصر شاعری میں نوحہ گری کا تناسب بھی کچھ کم ہوجائے اور شہاب صفدر اور ان کے ہم عصرپھر سے گیسوئے غزل سنوارنے میں لگ جائیں۔رثائی ادب اور تقدیسی شاعری بھی بہت اہم ہے اور شہاب صفدر کو اپنی صلاحیتیں ہر صنفِ سخن میں منوانے کا پورا حق حاصل ہے مگرمیں سمجھتا ہوں کہ شہاب صفدر کو تواتر سے غزل کہنی چاہئے۔شاید غزل شہاب صفدر کی ضرورت نہ ہو مگر اردو غزل کو شہاب صفدر جیسے توانا لہجے کے شاعر کی اشد ضرورت ہے۔”تحویل“ میں موجود پہلی غزل کی سج دھج دیکھ کر آپ میری رائے سے اتفاق کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔غزل ملاحظہ ہو:
دیے نے کانپتے ہونٹوں سے گفتگو کی ہے
نحیف لَو کو ضرورت نئے لہو کی ہے
ہوئے نہیں ہیں شگوفے یونہی تبسم ریز
تمہاری بات صبا نے چہار سُو کی ہے
کنارِ چشم فروکش ہے انجماد کی رُت
درونِ چشم رواں لہر خواب جُو کی ہے
ہزار بندش و قدغن تھی میکدے میں مگر
بساط بھر ترے رندوں نے ہاؤ ہو کی ہے
نہیں ستاروں کو بھی تابِ لب کشائی شہاب
عجیب انجمن اس ماہِ تُند خوُ کی ہے