مشرقِ وسطیٰ کا نازک توازن

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس نازک موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں طاقت، حکمتِ عملی اور نفسیاتی دباؤ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو چکے ہیں کہ حقیقت اور بیانیہ میں امتیاز کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو جارحانہ اختیارات دینے اور ایرانی اہداف کے خلاف کھلی وارننگ نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو نئی جہت دی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور سفارتی توازن پر بھی گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عسکری پیش قدمی معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے پسِ پردہ طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ مذاکراتی برتری حاصل کرنے کی ایک پیچیدہ حکمتِ عملی بھی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل رسد کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے، محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان نفوذ و اثر کا پیمانہ بن چکی ہے۔ ایران کی جانب سے اس آبی راستے پر اپنی گرفت کا اظہار اور بحری مشقوں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ دراصل اس پیغام کا اعادہ ہے کہ تہران کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری جانب ریاستہائے متحدہ امریکا کی جانب سے اس گزرگاہ پر کنٹرول کے دعوے اور بارودی سرنگوں کے خاتمے کے نام پر عسکری سرگرمیوں میں اضافہ ایک ایسے تصادم کی بنیاد رکھ رہا ہے جس کے اثرات محض خطے تک محدود نہیں رہیں گے۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تمام تر کشیدگی کے باوجود دونوں فریق بظاہر جنگ سے گریز کی بات بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ مسعود پزشکیان کی جانب سے قومی اتحاد پر زور اور علی خامنہ ای کے بیانیے میں داخلی استحکام کی تلقین اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ایران اپنی اندرونی صفوں کو منظم رکھنے کے ساتھ ساتھ بیرونی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ اسی تناظر میں عباس عراقچی کا یہ بیان کہ جنگ کے نتائج کی ذمہ داری جارح قوتوں پر عائد ہوگی، ایک سفارتی انتباہ بھی ہے اور عالمی برادری کو متوجہ کرنے کی کوشش بھی۔

دوسری طرف ریاستہائے متحدہ امریکا کی حکمتِ عملی میں تضاد نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ ایک جانب طاقت کے بھرپور استعمال کی دھمکیاں اور عسکری برتری کے دعوے، تو دوسری جانب بہتر معاہدے کی خواہش کا اظہار یہ دوہرا بیانیہ دراصل اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن مکمل جنگ کے مضمرات سے بخوبی آگاہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ براہِ راست تصادم کے بجائے دباؤ، پابندیوں اور محدود عسکری کارروائیوں کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس پورے منظرنامے میں اسرائیل کا کردار بھی خاصا اہم ہے۔ اسرائیل کاٹز کے بیانات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ تل ابیب اپنی سلامتی کو ایران کے ممکنہ خطرے سے جوڑ کر دیکھتا ہے اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے امریکا کی حمایت کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ تاہم اسرائیلی سکیورٹی ذرائع کی جانب سے فوری حملے کی تردید ایک محتاط حکمتِ عملی کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس میں براہِ راست تصادم کے بجائے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اقتصادی زاویے سے دیکھا جائے تو اس کشیدگی کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ خلیجی ریاستوں کے ہوائی مراکز کی بندش، عالمی پروازوں میں خلل اور تیل کی ترسیل میں غیر یقینی صورتحال اس امر کا ثبوت ہے کہ جنگ محض محاذ تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر ایران کی جانب سے ناکہ بندی کے باوجود تیل کی برآمدات کا جاری رہنا اس بات کی دلیل ہے کہ اقتصادی محاذ پر بھی تہران نے متبادل راستے اور حکمتِ عملیاں اختیار کر رکھی ہیں۔

یہ سارا منظرنامہ دراصل ایک محدود نوعیت کے منظم تصادم کی عکاسی کرتا ہے، جہاں مکمل جنگ سے گریز کرتے ہوئے دباؤ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ امریکا کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی عالمی برتری کا اظہار کرے، جبکہ ایران کے لیے یہ اپنی خودمختاری اور مزاحمتی بیانیے کو مضبوط کرنے کا مرحلہ ہے۔ تاہم اس کھیل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ کسی بھی غلط اندازے یا غیر متوقع اقدام سے یہ محدود کشیدگی ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

مزید برآں، اس بحران میں اطلاعاتی جنگ بھی پوری شدت سے جاری ہے۔ بیانات، دعوے اور جوابی بیانیے دراصل رائے عامہ کو متاثر کرنے اور مخالف کو نفسیاتی دباؤ میں رکھنے کے حربے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی قیادت کے انتشار کے دعوے اور اس کے جواب میں ایرانی قیادت کا یکساں پیغام اس بات کی واضح مثال ہے کہ یہ جنگ محض ہتھیاروں کی نہیں بلکہ بیانیوں کی بھی ہے۔

حتمی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے نازک توازن پر کھڑا ہے جہاں ہر قدم نہایت سوچ سمجھ کر اٹھایا جا رہا ہے۔ طاقت کے مظاہرے، سفارتی اشارے، اقتصادی دباؤ اور اطلاعاتی جنگ یہ سب مل کر ایک پیچیدہ تصویر تشکیل دے رہے ہیں۔ اگرچہ بظاہر تمام فریق جنگ سے گریز کے خواہاں نظر آتے ہیں، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ایک ایسے تصادم کی نشاندہی کرتے ہیں جو کسی بھی لمحے شدت اختیار کر سکتا ہے۔ ایسے میں عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ اس کشیدگی کو ایک بڑے المیے میں تبدیل ہونے سے روک سکے، کیونکہ اگر یہ توازن بگڑ گیا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے