ملک میں سیاسی استحکام اور خوشحالی کا خواب 2023 میں بھی پورا نہ ہو سکا

ملک میں سیاسی استحکام کا خواب 2023 میں بھی پورا نہ ہو سکا ۔سیاسی حالات نہ صرف ذہنی تناؤ کا باعث رہے بلکہ اس کی وجہ سے ہمارا معاشرہ آہستہ آہستہ اخلاقی پستی کا شکار بھی ہوا ۔ آڈیو ویڈیو لیکس کا بڑھتا ہوا رجحان اور جلسوں میں استعمال ہونے والی زبان ہماری اخلاقی پستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں چاہے حالات کیسے بھی رہے ہوں لیکن اخلاقی قدروں کو اس طرح پامال نہیں کیا گیا۔

گزشتہ سال مسلم لیگ نون کے لیے باحیثیت مجموعی سیاسی میدان میں کامیابیوں کا سال رہا اور مقدمات سے بریت کے بعد مسلم لیگ نون آئندہ انتخابات کے لیے بھرپور تیاریوں میں مصروف ہے۔ نون لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف کی پاکستان آمد کے بعد نون لیگ کے رہنما بہت پر امید ہیں کہ الیکشن میں کامیابی انھیں ہی حاصل ہوگی۔

جبکہ دوسری طرف سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ 2023 میں مہنگائی اور عوام کے مسائل کی وجہ سے نون لیگ کا ووٹ بینک بری طرح متاثر ہوا ہے اور پی ٹی ائی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت ختم ہونے کے بعد بھی سابق وزیراعظم عمران خان انتخابات کا مطالبہ ہی کرتے رہے اور ان کا مطالبہ یہی رہا کہ انھیں انتخابات کی تاریخ دے دی
جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ اب ایک طرف تو پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت رہائی اور پھر گرفتاری کا عمل جاری ہے اور دوسری جانب انتخابات کی بھرپور تیاریاں ہیں۔

پاکستان میں آٹھ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے پی ٹی ائی کے کئی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مسترد ہو چکے ہیں اور ابھی بھی کاغذات نامزدگی جمع ہونے کے بعد منظور یا مسترد کیے جانے کا مرحلہ جاری ہے ۔

کیا انتخابی عمل آئندہ سال میں سیاسی استحکام کا باعث بنے گا یہ ایک سوال ہے۔ اس بارے میں جب عوام کی رائے لی گئی تو معلوم ہوا کہ عوام کی ایک بڑی شرح مایوس ہے اور ہو سکتا ہے کہ ووٹ ڈالنے کے تناسب میں بھی کمی نظر آئے۔

عوام کا اب یہ مسئلہ نہیں ہے کہ اقتدار میں کون آتا ہے ۔ عوامی مسائل ہی اس قدر ہو چکے ہیں کہ اب انھیں اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو کر کون حکومت بنائے گا ۔ اب ان کا مسئلہ مہنگائی اور پٹرول اور بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں اب ان کا مسئلہ روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو ان کی قوت خرید سے باہر ہیں ۔

گزشتہ سال کا ایک مثبت پہلو صرف یہی رہا کہ ملک میں موجود سیاسی تناؤ اور معاشی بحران نے عوام میں سیاسی شعور کو اجاگر کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے