پاکستان کہنے کو تو صنفی برابری کی عالمی رینکنگ میں دنیا کے 146 ممالک میں 142 ویں نمبر پر یعنی دردناک حد تک نچلے درجے پر ہے، یعنی صرف بقیہ چار ممالک جو ایران ،الجزائر ، چاڈ اور افغانستان ہیں، ان سے بہتر ہے۔ یہ درجہ بندی خواتین اور مردوں کے درمیان صحت ، تعلیم ، اقتصادی امور میں شراکت اور شمولیت اور سیاسی خود مختاری کے اشاریوں کو بنیاد بنا کر کی جاتی ہے۔
بہت ساری کوتاہیوں اور ناکامیوں کے باوجود ہمارا پاکستان ایک باہمّت اور حیران کن ملک ہے۔ صنفی عدل ، مساوات اور حالات کو ہی دیکھ لیں۔ اسی مٹی اور ماحول سے محترمہ فاطمہ جناح سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو تک اور پھر ان کے بعد بہت سی خواتین نے نہ صرف مختلف میدانوں میں بلکہ سیاست میں بھی اپنے سیاسی تدبر، شعور، جرات اور استقامت سے اپنے آپ کو منوایا بھی اور چونکایا بھی۔
آپ کی سیاسی وابستگی جو بھی ہو ، میرٹ کے حوالوں سے آپ کے جو بھی خدشے ہوں اور طرز خطبات سے آپ کے جو بھی اختلافات ہوں، یہ بات شائد ہی کوئی روشن اور کھلا زہن رد کر سکے کہ آج کے پاکستان میں مریم نواز شریف ایک اہم ترین سیاسی شخصیت اور آئینی عہدے دار ہیں۔ ان کی وزیر اعلٰی پنجاب کی حیثیت سے کئی تقریریں اور تصویریں آج کل دلچسپی کا محور ہیں – سجنوں اور بیریوں دونوں کے لئیے۔
ان کی ایک حالیہ تقریر جو انھوں نے اردو زبان میں انگریزی الفاظ کے تڑکے کے ساتھ ( جی ایسی ہی زبان ہم سب اکثر بولتے ہیں اور لکھتے بھی ہیں، جس کو منگلش بھی کہا جا تا ہے ) پنجاب کلچر ڈے پر کی۔ مجھے بہت پرلطف محسوس ہوئی۔ انھوں نے سادگی سے ایک ہی سانس میں پنجاب کی رومانوی لوک داستانوں کی ہیروئنس کا بیساختگی اور معصومیت سے ذکر کیا اور سراہا، اچھا لگا۔
رات ایک خواب دیکھا۔ ایسا لگا کہ شاہ لطیف بھٹائی کچھ کہانیاں سنا رہے ہیں۔ ایک شادی شدہ عورت ہے، اس کا شہزادہ عزت بیگ ہے، جس سے اس کو محبّت ہے اور شوہر صاحب جن کا نام دم ہے، جس سے اس کو نفرت ہے۔ وہ عورت سوہنی ہے۔ چناب کی لہروں سے لڑ کر شہزادے سے ملنے جاتی ہے۔ نند کو پتا چلتا ہے تو گھڑا بدل کر کچا رکھ دیتی ہے، جس سے سوہنی مر جاتی ہے۔
پھر منظر بدل جاتا ہے۔ دھندلا سا احساس ہے، شاہ حسین کی کافی سنائی دیتی ہے۔ سمجھ نہیں آتا، پھر وارث شاہ ایک کلام پڑھتے ہیں۔ پھر کچھ قفل کھلتے ہیں، عزت بی بی کو شادی والے دن کیدو نے زہر دے دیا تھا۔ یہ کون سی بی بی ہیں؟ میں خواب میں ہی ایک اور خواب میں داخل ہو جاتی ہوں۔ اسی اثنا میں،میں جھنگ پہنچ جاتی ہوں، ارے یہ تو عزت بی بی یعنی ہیر ہیں۔ میاں عمر جو ہمارے اور آپ کے لئیے رانجھا ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ہی قبر میں مدفون ہیں۔
آنکھ کھل جاتی ہے۔ محبّت سے نفرت بھی ہمارے کلچر کا حصّہ ہے۔ عزت و غیرت عورت کی ذات میں اس کی آرزو میں اس کی اڑان کے امکان سے جڑی ہوئی ہے۔ ہر صدی میں اپنے زہن سے سوچنے والی عورت کو ، محبّت کو بطور حق استعال کرنے والی عورت کو ، پدر سری روایت سے ٹکرانے والی عورت کو روندا گیا ہے اور اگر کوئی مرد اس کے ساتھ مخلص ہوا تو اس کو بھی جان کی بازی ہارنی پڑی۔
یہ کالم پنجاب کی چیف منسٹر یا پنجاب کی دھی رانی مریم نواز شریف کی مدح نہیں ہے۔ قصیدہ گوئی میں میری کوئی مہارت نہیں ہے ۔ میرا مطالبہ اور میری دعا ضرور ہے کہ وہ فیمنسٹ گورننس کریں ۔ پدر سری کے سارے بتوں کو پاش پاش کردیں کیونکہ ان کی جیت نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کی کروڑوں ہیر، سوہنی ، مہینوال، سسی ، شیربانو ، ہانی …. جیسی خواتین کی جیت ہو گی۔ آپ کے پاس طاقت کے پانچ سال ہیں۔ ان کی تاثیر دائمی ہو گی ۔ کچھ ایسا کر جائیں کہ آیئندہ کسی عطیہ داود کو اپنی بیٹی کے نام نظم میں یہ نہ لکھنا پڑے کہ
"اگر تمہیں کاری کہہ کر قتل کر دیں
مر جانا
پیار ضرور کرنا
شرافت کے شو کیس میں
نقاب ڈال کر مت بیٹھنا
پیار ضرور کرنا ”
بلکہ ہر لڑکی کیا ہر لڑکے کو اس طرف جانے کی ممانعت نا ہو جو جہاں شعور کے درخت لگتے ہوں ، سوچ کا پھل اگتا ہو اور فیصلے کرنے کی آزادی ہو۔ امید ہے کہ جب پنجاب میں نصاب میں پنجابی زبان شامل ہو گی تو اس میں ہماری المناک لوک داستانیں مکمل سچائی کے ساتھ شامل ہوں گی۔ اس کے علاوہ اس طرح کا صوفی کلام بھی مرکزی دھارے میں لیا جائے تا کہ اصل مسائل کی طرف توجہ رہے۔
"پنج رکن اسلام دے ، تے چھے واں فرید ٹک
جے نے لبھے چھے واں، تے پنجے ای جاندے مک ”
حضرت فرید الدین مسعود گنج شکرؒ