خودکشی

خودکشی اور خودکشی کی کوششوں کے اہم جذباتی، جسمانی اور مالی اثرات ہیں۔ خود کشی کی کوشش ان کی زندگی پر دیر پا اثر انداز ہوتی ہے، خود کشی کرنے والے کا نا صرف خاندان بلکہ دوست و ساتھی بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بات مجھے پریشان کرتی ہے کہ کوئی انسان زندگی سے منہ کیسے موڑ لیتا ہے، جب غم غصہ، صدمہ، ڈپریشن حد سے بڑھ جائے تو انسان خود کشی کو ہی ترجیح دیتا ہے۔ طارق جو ایک دکاندار ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس کی دو بیویاں تھیں اور اس کی دوسری بیوی کے تین بچے تھے،اس کی دوسری بیوی کے چھوٹے بیٹے کا نام ظفر بٹ تھا اور 21 سال کا تھا، وہ کرائے کے مکان میں رہتے تھے۔

طارق کہتے ہیں کہ اس کی پہلی اور دوسری بیوی کے بچوں میں جھگڑا ہوتا تھا، ظفر جو کہ اکیس سال کا تھا اور بہت ہی زیادہ جذباتی تھا، کہتے ہیں کہ ایک دن دونوں بھائیوں میں جھگڑا ہوا، اور اس نے غصے میں آ کر گندم میں رکھی جانے والی گولیاں کھا لی ظفر ایک دن تک زندہ رہا اور پھر فوت ہو گیا۔ طارق کہتے ہیں کہ ڈاکٹر نے بتایا کہ گولی اس کے گردوں پر اثر کر گئی تھی اور ظفر کی اس حرکت سے مجھے کئی عرصہ نیند نہیں آئی اور ہمارے گھر میں کافی عرصہ دہشت رہی۔ اس کی والدہ کہتی ہیں کہ ظفر کی کمی کوئی انسان پورا نہیں کر سکتا اور آج بھی اس کا دل روتا ہے اور وہ اپنے بیٹے کو بہت یاد کرتی ہے۔

سائکالوجسٹ صبیحہ

کہتی ہیں کہ خود کشی کرنے والا انسان نہ صرف اپنی ذات پر ظلم کرتا ہے بلکہ وہ اپنے والدین پر بھی ظلم کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب کوئی انسان کسی غم میں بہت لمبا عرصہ مبتلا رہے تو وہ خود کشی کرلیتا ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ گھر والے کوشش کریں کہ اس بچے کا خیال رکھیں اور ساتھ ہی ساتھ دوستوں کو چاہیے کہ وہ جذباتی دوستوں کو وقت دیں اور تیسرا حل یہ ہے کہ جب والدین اپنے بچے کو ڈپریشن میں دیکھیں تو اسے کسی سائیکالوجسٹ کو چیک کروائیں تاکہ اس کا مکمل طور پر ٹریٹمنٹ ہو سکے۔

خود کشی کو جرم قرار دینے والی شک 325 کو پارلیمنٹ کی جانب سے ترمیمی ایکٹ 2022 کے ذریعے حذف کر دیا گیا۔ یہ ترمیم سینٹر شہادت نے 2021 میں پییش کی اور 2022 میں خود اسمبلی میں منظور ہوئی، بل کے ذریعے خودکشی کی کوشش کی سزا متعلقہ سیکشن 325کو ختم کر دیا گیا۔اس سیشن میں کہا گیا تھا کہ جب کوئی خودکشی کرتا ہے یا خودکشی کی حرکت کرتا ہے تو اس کو ایک سال قید اور ایک لاکھ جرمانہ ہوگا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے