اشرافیہ اور ان کی اجارہ داری آج کل ایک بکنے والا مدعا بن گیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ الیٹ کپچر کا ذکر کرنے والوں کو بکنے والوں میں شامل قرار دیا جاتا تھا اور اس کا مجھے ذاتی تجربہ بھی ہے۔ کسی کو اشتیاق ہو تو میرا انٹرویو کر لے، سب کچھ کھول کھول کر بتا دوں گی، شرط یہ ہے کہ وہ انٹرویو نشر یا شائع ضرور ہو اور کسی اصلی صحافی نے کیا ہو۔
صحافت میں بھی نقل ہو رہی ہے۔ منّت ، سماجت اور دلالت یہاں بھی رائج ہو چکی۔ صورت حال یہ ہے کہ بہت محنت سے اصولوں پر چل کر اپنے آپ کو منوانے والے اور والیاں بھی در حقیقت گیو اپ (give up )کر چکے۔ کیوں بھلا ؟ ایک تو عقلمندی کی وجہ سے اور دوسری وجہ غالب کے ان اشعار سے بوجھ لیں۔
میں نے کہا کہ بزم ناز چاہیئے غیر سے تہی
سن کے ستم ظریف نے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں
یا
ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی
جس کو ہوں دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں؟
غالب کو سمجھنا سہل نہیں ہے اور ان کی ماننا تو اس سے بھی زیادہ مشکل ہے پھر بھی ان کو سب ہی مانتے ، جانتے اور پہچانتے ہیں۔
پلیز سماجی میڈیا پر یا ای میل پر یہ نہ پوچھا کریں کہ غالب کون ہے ؟ آپ نے علامتی افسانے کی طرح علامتی کالم تو نہیں لکھا ؟
خیر خواہ نے کہلوایا ہے کہ ہر بات کھل کر لکھی جائی تو کسی کو کھل بھی سکتی ہے۔
تھوڑا کنفیوژن کا اچار ڈال دیں کچھ مزہ بھی رہے گا۔
حکم حاکم مرگ مفاجات !
اشرافیہ صرف سیاست میں نہیں ہوتے بلکہ ہر سیکٹر ہر میدان ہر شعبے میں ہوتے ہیں۔
صحافت میں بھی اب اشرافیہ کا دور دورہ ہے۔ صحافت کے اشرافیہ بھی کئی طرح کے ہیں۔
کچھ شرارت سے بنے کچھ ریاضت سے بنے کچھ لجاجت سے بنے کچھ بنے بنائے نکلے۔
طریقہ کچھ بھی ہو یہ بات واضح ہے کہ اب گیا دور قلاشی گیا —- تماشا دکھا کر مداری گیا، نہیں بلکہ اطمینان سے براجمان ہے اور سب ناچ رہے ہیں۔
ڈفلی والے ڈفلی بجا رہے ہیں اور ” صحافی ” ناچ رہے ہیں۔
جن کو کھیل سمجھ نہیں آرہا وہ میری طرح پریس کلب کے ممبر تک نہیں بن سکے۔
اور جن کو قلم کی طاقت کا ادراک ہو چلا وہ پاور انجنس والی گاڑیوں میں ہیں اور پاور کی رہ داریوں میں بھی۔
قلم کشی،قلم کشائی اور قلم فروشی میں شائد اب زیادہ فرق نہیں رہا۔ سب ایک ہی صف میں ہیں۔
یقین نہیں آتا تو کسی بھی منافع بخش اخبار کا پہلا صفحہ یا کالم نگاروں کی وجہ شہرت یا ٹی وی چینل کا کوئی بھی پینل اور اینکر دیکھ لیں۔
شک نہ کریں
بد گمانی نہ کریں
میں صرف پاکستانی صحافت کی بات نہیں کر رہی۔
ساری دنیا اب سادی نہیں رہی۔
موزوں وہی مضمون ہے وہی موضوع ہے، جس سے کسی منظور نظر کی حجامت نہ بنے یا اس پر ہلکی سی آنچ بھی نہ آئے۔
ثبوت کے طور پر فلسطین ( غزہ، رفح ) میں جاری نسل کشی ، کشمیر کا مسئلہ یا محب وطن محصورین پاکستانی بہاریوں کے حوالے سے میڈیا کے تعصبات اور ترجیحات پر ایک طائرانہ نظر ہی ڈال لیں۔ معاملات اور نیتیں عیاں ہو جائیں گی۔ جو کوئی ان پہلوؤں پر روشنی یا روشنائی ڈالنا چاہے، اس کو بہت پیچھے ڈال دیا جاتا ہے۔
شائد آپ میں سے اکثر کو میری باتیں انٹ شنٹ لگ رہی ہوں گی، شائد آپ متفق نہیں ہوں گے شائد آپ کے ذہن میں ان "بے باک ” افراد کے نام اور تصویریں چل رہی ہوں گی، جو ہر میڈیا پر راج کرتے ہیں اور ” آزاد ” بھی ہیں۔
جی ایسا بھی ہے اور میری دلی دعا ہے کہ میں سراسر غلط ہوں۔
کیا کروں ؟ میں تو یہی اب تک جان پائی ہوں کہ
جو بچا ہوا ہے وہ بکا ہوا ہے۔
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
وہ عہد تمام ہوا جب صحافت کا مطلب صرف سچ بتانا تھا سچ اور صرف سچ۔
اب سچ کی تشریح بھی بدل چکی ہے اور صحافت کسی خاص تصور کی تشہیر ،کسی کی تضحیک ، کسی کی توثیق کا اہتمام کرنے کا وسیلہ بن چکی ہے۔
واللہ عالم