گزشتہ برس دسمبر 2023 میں سابقہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ لاہور میں سموگ کو ختم کرنے کیلئے مصنوعی بارش یا کلاؤڈ سیڈنگ کا، کامیاب تجربہ کیا گیا . جس کی وجہ سے دس علاقوں میں بارش ہوئی۔ اس تجربے کو متحدہ عرب امارات کی طرف سے پاکستان کیلئے ایک تحفہ قرار دیا گیا۔ اس تجربے میں دو خصوصی جہازوں کے ذریعے پہلی پرواز میں 48 فلیئرز فائر کیے گئے۔ رپورٹ کیمطابق عرب امارات کی ٹیم نے اس آزمائش کے لیے کئی دنوں تک موزوں حالات کا انتظارکیا تھا۔ حکومت کیمطابق مصنوعی بارش کا مقصد سموگ سے نبٹنا تھا تاکہ بارش سے یہ آلودگی بیٹھ جائے۔
گزشتہ کئی برسوں سے موسم سرما کی آمد کیساتھ ہی سموگ بھی لاہور میں ڈیرے جما لیتی ہے، سموگ دراصل دھند اور دھویں کی خطرناک قسم ہے، جس سے فضا میں بہت باریک، خوردبینی پارٹیکلز بھر جاتے ہیں جو سانسں کے راستے پھیپھڑوں میں گھس کر انسان کو بیمار کردیتے ہیں۔ جدید رپورٹس کے مطابق اسکی وجہ سے شہر کے باسیوں کی اوسطً پانچ سے سات سال عمر کم ہونے کا اندیشہ بھی ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے زمانے میں مصنوعی بارش کیا انسانوں کیساتھ ساتھ ماحول کیلئے بھی اچھی ہے؟ اس حوالے سے ماہرین کیا رائے رکھتے ہیں.
یاسر حسین سربراہ کلائمنٹ ایکشن سینٹر کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر دنیا میں مصنوعی بارش کا استعمال کافی عرصے سے ہی جاری ہے، مگر اسکا استعمال ہمیشہ ہی متنازعہ رہا ہے، ماضی میں اسکو غیر معمولی صورتحال، جنگ وغیرہ، میں بھی استعمال کیا گیا ہے یعنی خطرناک صورتحال سے بچنے کیلئے۔ لاہور میں گزشتہ برس متحدہ عرب امارات کی مدد سے جو کلاؤڈ سیڈنگ کی گئی تھی، اسکا مقصد ہوا کی کوالٹی کو بہتر کرنے کا تجربہ تھا۔ آجکل کلاؤڈ سیڈنگ کا استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب بارش نہ ہو رہی ہوں۔ کلاؤڈ سیڈنگ یا مصنوعی بارش ایک ایسا عمل ہوتا ہے جس کے ذریعے امیچور بادلوں پرنمک پاشی کے ذریعے انکو میچور بنا کر برسایا جاتا ہے۔ ایک سے دو بار چھڑکاؤ کے بعد چھ سے چوبیس گھنٹے تک انتظار کیا جاتا ہے۔ اس عمل کیلئے اس علاقے کی ہوا میں نمی کا زیادہ ہونا اور بادلوں میں بھی پانی موجود ہونا لازمی ہے۔ اس عمل کیلئے ہوائی جہاز کے ذریعے بادلوں پر سلور آئیوڈائیڈ یا سادہ نمک چھڑکا جاتا ہے جو بادلوں کیساتھ کیمیائی عمل سے پانی کے بخارات کو میچور کرکے انھیں بارش میں بدل دیتے ہیں۔
مصنوعی بارش کا یہ عمل دبئی کی وجہ سے مشہور ہوا، صحرائی ممالک میں بارش کم ہوتی تھی اس لئے انہوں نے اس سسٹم کو استعمال کیا۔ وہ ملک اس سسٹم کو استعمال کرنے میں ماہر ہوچکے ہیں اور وہ کلاؤڈ سیڈنگ صرف ہلکے پھلکے بادلوں پر کرتے ہیں، بھاری بادلوں کو اسکی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن دبئی میں حالیہ بارش کے طوفان اور سیلاب کا کلاؤڈ سیڈنگ سے تعلق نہیں ہے۔ اسکا تعلق ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں اچانک بارش کا فینومینا ہے۔
مصنوعی بارش کے حوالے سے ’’ہمارا یہ کہنا ہے کہ جس وقت مصنوعی بارش ہوتی ہے وقتی طور پر آلودگی پانی کے ساتھ چپک کر زمین پہ آ جاتی ہے لیکن ایک گھنٹے بعد اسکا اثر ختم ہوتے ہی یہ آلودگی واپس آ جاتی ہے، کیونکہ بڑے شہروں، کراچی اور لاہور میں ٹریفک کا تیز بہاؤ جبکہ لاہور میں دیگر عناصر زرعی باقیات کو جلانا اور سموگ کا فینومینا بھی آلودگی کو بڑھانے کے ذمے دار عناصر ہیں، اور گزشتہ برس سموگ کو دبانے کیلئے ایمرجینسی کلاؤڈ سیڈنگ کے ذریعے بارش کرائی گئی۔ اس لئے یہ صرف ایک دکھاوا تھا کہ دیکھو ہم نے کچھ کیا! یہ اچھا قدم نہیں تھا اسکی دو وجوہات ہیں؛ ایک، یہ متنازعہ سسٹم/کام ہے، دوسرا یہ ایک گھنٹے رہتا ہے، پائیدار نہیں ہے۔ بڑے شہروں میں 60 سے 80 فیصد فضائی آلودگی کی وجہ فوسل فیول یعنی پٹرول پہ چلنے والی گاڑیاں ہیں۔ ہمیں گزشتہ بیس برس کے ماحولیاتی آلودگی ڈیٹا بیس کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ کراچی میں 60 فیصد فضائی آلودگی ٹریفک کی وجہ سے ہے۔‘‘
یاسر حسین کا مزید کہنا تھا کہ کلاؤڈ سیڈنگ متنازعہ ہونے کے علاوہ، ماحول پر اس کے منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ آپ قدرت کیساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے ہیں، ایک امیچور بادل کو مصنوعی طریقے سے میچور بنا رہے ہیں، اسکے علاوہ نمک پاشی میں کچھ نمک کی کیمیکل بناوٹ خطرناک بھی ہوسکتی ہے اس میں جو آئیوڈائزڈ نمک ہے ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جانوروں کے لئے نقصان دہ ہوسکتے ہیں یعنی وہ ماحول کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ عام حالات میں ٹیکنالوجی کا بے جا اور حد سے زیادہ استعمال بھی ماحول کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے، گو کہ ایک سائنس فکشن فلم ’جیو سٹارم‘ میں ٹیکنالوجی سے زمینی فضا کو کنٹرول کرنا دکھایا گیا ہے لیکن یہ اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ جو ٹیکنالوجی متنازعہ ہو اس کو استعمال نہ کیا جائے۔
یاسر نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گلوبل وارمنگ دراصل فضا میں کاربن کی زیادتی سے ہے، جس کیلئے وہ ایک حل یہ دیتے ہیں کہ کیمیکل کے ذریعے فضا میں کاربن کو کم کیا جائے۔ اب کچھ سائنسدان اس کو غلط سمجھتے ہیں، اور کچھ صحیح! لاہور میں کلاؤڈ سیڈنگ سے بارش کرانے والے سائنسدان بھی انہی ایک فیصد میں سے ہیں جو اس عمل کو تعمیری گردانتے ہیں۔
ڈ اکٹرسردار سرفراز محکمہ موسمیات کراچی کے چیف میٹرولوجسٹ کا کہنا ہے کہ کلاؤڈ سیڈنگ یا مصنوعی بارش کے برے اثرات کے حوالے سے ابھی تک کسی قسم کی کوئی ریسرچ انہوں نے نہیں پڑھی، اس لئے اسکا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ جبکہ اسکے فوائد یہ ہیں کہ خشک سالی والے علاقے میں محدود مدت کیلئے کمی لائی جاسکتی ہے۔ لیکن بہتر نتائج کیلئے اس جگہ ہلکے بادلوں کا ہونا اشد ضروری ہے، محکمہ موسمیات متعلقہ علاقے میں بادلوں کی موجودگی، ہوا کی رفتار اور سمت، فضا میں نمی اور گرد کے متعلق تازہ صورتحال سائنسدانوں کیساتھ شئیر کرتے ہیں پھر وہاں بادلوں پہ مطلوبہ مقدار میں مخصوص وقت میں ہی نمک پاشی کرکے بارش کرائی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر سرفراز کیمطابق دبئی کے حالیہ سیلاب میں کلاؤڈ سیڈنگ کی بجائے شدید بارشوں کے ایسے سلسلے ہیں، جن کیوجہ سے بلوچستان میں بھی اس سال سیلاب آیا ہے، یہ ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے کیونکہ ماضی میں بھاری بارشوں کا سلسلہ اتنی شدت اختیار نہیں کرتا تھا لیکن ماحولیاتی تبدیلی کے باعث بارشوں کا سلسلہ اب شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صنعتی دور سے قبل زمینی درجہ حرارت کے مقابلے میں گزشتہ برس تقریباً C1.5 ڈگری درجہ حرارت بڑھ چکا ہے۔
انجینئیر خرم خان، ڈائریکٹر ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اسلام آباد (ڈاکٹر آف فلاسفی ان واٹر مینجمنٹ) کہتے ہیں کہ 1940 کی دہائی میں پہلی جنگ عظیم کے وقت سے ہی لوگوں نے کلاؤڈ سیڈنگ پر کام شروع کردیا تھا، خشک سالی سے نمبٹنے کےلئے جدید دنیا بھی اسکا استعمال کر رہی ہے۔ امریکہ، روس، ہالینڈ، کینیڈا اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، کلاؤڈ سیڈنگ کے مختلف طریقوں میں سے سب سے زیادہ استعمال کیا جانیوالا طریقہ بادلوں پر نمک پاشی ہے۔ کینیڈا میں سائنسدان بارش کو پانی کی شکل میں آنے سے پہلے ہی اسکو برفباری میں بدل دیتے ہیں تاکہ سیلاب کی بجائے برفباری سے نمٹ لیا جائے۔
سیلاب کے حوالے سے دوسرا پہلو نکاسی آب کا ڈھانچہ/نظام ہے، حالیہ دبئی کے سیلاب میں وہاں کا نکاسی آب کا نظام شدید بارشوں کے لئے نہیں ہے، کراچی میں بھی تین چار سال قبل جب شہری سیلاب آیا تو اسکی وجہ بھی نکاسی آب کا بہتر نظام نہ ہونا تھا، لاہور اور اسلام آباد کا بھی یہی مسئلہ ہے، یہ کثیر جہتی مسئلہ ہے۔
کلاؤڈ سیڈنگ پر چار قسم کا خرچ آتا ہے، بادلوں کے اوپر چھڑکاؤ کےلئے چھوٹا جہاز، اس کا ایندھن، نمک ، اور چھڑکاؤ کے آلات شامل ہیں۔، پاکستان میں یہ کام چھوٹے موسمیاتی جہاز کے ذریعے کیا گیا تھا، پھر اس جہاز کو بادلوں پر چھڑکاؤ کیلئے تقریبا دو سے تین گھنٹے فضا میں رہنا ہوتا ہے، اسکے بعد 8-10 گھنٹے میں میچور ہوتا ہے تو بارش ہوتی، اس تکنیک کیلئے سب سے پہلے سیٹلائٹ ڈیٹا کی مدد سے ایسے بادلوں کی نشاندہی کی جاتی ہے جو ممکنہ طور پر شدید بارش کا باعث بن سکیں۔ خصوصی جہاز کی پرواز وہاں کی جاتی ہے جہاں بادلوں سے ٹربیلنس پیدا ہوتی ہے۔ وہاں پہنچ کر ایسے کیمیائی مادے خارج کیے جاتے ہیں جن سے چین ری ایکشن ہو۔ اس سے بادل غیر مستحکم ہوتا ہے اور جہاز کو فوراً وہاں سے باہر نکالنا پڑتا ہے۔
اس سسٹم کیلئے موسمیاتی پیٹرن اور ہوا کا رُخ اور کوالٹی دیکھنا بیحد ضروری ہوتا ہے، اگر کراچی میں اس سسٹم کو استعمال کیا جائے تو وہاں سمندر کی ہوا کی وجہ سے بھی کیلکولیشنز مختلف ہوں گی۔ لاہور میں اگر انارکلی میں چھڑکاؤ کیا جائے گا تو وہ جا کر کہیں اور گرے گی ایچیسن کالج وغیرہ ۔ لاہور پہلے سے ہی کیمیکل سموگ کو برداشت کررہا ہے، ایسے میں کیمیکل سے مصنوعی بارش سے کیا اثرات مرتب ہوں گے، اسکی تحقیق ہونا چاہیئے، کیونکہ آلودہ فضا میں مصنوعی بادلوں کی نچلی سطح اسی فضاء سے بخارات اور نمی اٹھائے گی۔ تو ایسی بارش میں پانی کی فائنل کیمیکل کمپوزیشن کیا ہوگی؟ لاہور میں جن اداروں نے اس تجربے میں مدد دی ہے انہیں تجربہ پورا کرنے کے بعد کی رپورٹ بھی جاری کرنا چاہیئے۔
ماہرین ماحولیات کیمطابق ابھی تک ان مصنوعی بارشوں کے اثرات کی پیمائش کےلئے کوئی وقف شدہ dedicated تحقیق نہیں کی گئی جس کی وجہ سے اس بارے میں مصدقہ یا تحقیق کی بنیاد پر کچھ نہیں کہا جا سکتا مگر اس حوالے سے مطالعاتی اور تجزیاتی مشاہدے کی بنیاد پر اسکے اثرات پر بات کی جاسکتی ہے۔ کلاؤڈ سیڈنگ کے عمل کو ہارپک ٹیکنالوجی کا نام بھی دیا جاتا ہے، ماہرین کیمطابق کلاؤڈ سیڈنگ میں بادلوں کو بارش برسانے کے قابل تو بنایا جا سکتا ہے مگر ان کے برسنے کی شدت پر کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، یعنی وہ بادل 100 ملی میٹر بارش برسائیں گے یا 200 ملی میٹر۔ اس بارش کے شروع کرنے کے علاوہ اسکی مقدار اور اسکو روکنے کے حوالے سے کسی قسم کی کوئی تکنیک کے بارے میں بھی ابھی تک کچھ واضح نہیں کیا گیا۔
کچھ ماہرین ماحولیات کو اندیشہ لاحق ہے کہ زبردستی بارش کروانے سے بھی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں اگر اس سلسلے میں مناسب قانون سازی نہ ہوئی اور ہر مُلک یا چھوٹے بڑے ادارے بنا کسی روک ٹوک کے اس میں کام کرنے لگے تو مجموعی طور پر موسمیاتی، ماحولیاتی اور فضائی سائکل پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اسکے حوالےسے کوئی قانون موجود نہیں ہے ترقی یافتہ مُمالک تو اس میں سرمایہ کاری کرکے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر غریب ممالک کے پاس ایسا کرنے کے لیے سرمایہ موجود نہیں اُن پر اس کے اثرات خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس لیے اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ عالمی سطح پر کلاؤڈ سیڈنگ کے حوالے سے قانون سازی کو یقینی بنایا جائے۔
پاکستان کے علاوہ چین، متحدہ عرب امارات اور انڈیا مصنوعی بارش کی آزمائش کرچکے ہیں۔ جنگی حربے کی مثال میں 1960 کی دہائی میں ویتنام کے علاقوں میں فوجی سامان کی ترسیل روکنے کے لیے امریکی فوج نے متنازع طور پر اس تکنیک کو استعمال کیا تھا۔