جی ہاں آپ نے بلکل سہی پڑھا ہے کہ ہماری نوجوان نسل موت کی ایک خاموش وادی کی طرف بڑھ رہی ہے، جو ہے تمباکو نوشی اور ہمارے حکمران اپنی آنکھیں موندے بیٹھے ہیں اور روزانہ جو نوجوان اس موت کی وادی میں دبے پاؤں اتر رہے ہیں، ان کو روکنے کے لئے عملی اقدامات کرنے سے قاصر دیکھائی دیتے ہیں۔
وہ لوگ جو میری اس بات سے اختلاف کریں وہ امریکن لنگز ایسوسی ایشن کی یہ رپورٹ ضرور پڑھ لیں جو کہ ایک سال پرانی ہے اور اس رپورٹ کے مطابق، ہر روز، 18 سال سے کم عمر کے تقریباً 2,500 بچے اپنا پہلا سگریٹ آزماتے ہیں اور ان میں سے 400 سے زیادہ نئے، باقاعدہ روزانہ سگریٹ نوشی کرنے والے بن جاتے ہیں اور ان میں سے آدھے بالاخر اپنی اس عادت کی وجہ سے وقت سے پہلے مر جائیں گے۔
اسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر تمباکو کے استعمال کے موجودہ اعداد و شمار برقرار رہے تو ایک اندازے کے مطابق 18 سال سے کم عمر کے آج کے 5.6 ملین نوجوان آخرکار تمباکو نوشی سے منسلک بیماریوں سے قبل از وقت مر جائیں گے۔
یہاں سوال یہ آتا ہے کہ ہماری حکومت ان نوجوانوں کو بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں چلائے گی یا ہمیشہ کی طرح تمباکو کی صنعت کو؟
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی تکنیکی معاونت کی رپورٹ نے سفارش کی ہے کہ حکومت تمباکو پر یکساں ٹیکس عائد کرے تاکہ کھپت کو روکا جا سکے اور محصولات کو بڑھایا جا سکے۔
پاکستان کو تمباکو کی صنعت کے حق میں غلط پالیسیوں کی وجہ سے گزشتہ سات سالوں میں ممکنہ آمدنی میں پہلے ہی 567 ارب روپے کا زبردست نقصان ہوا ہے۔ پاکستان سالانہ 60 ارب سے زیادہ سگریٹ پیدا کرتا ہے، جس کی متوقع شرح نمو 6.94 فیصد ہے۔
تمباکو کی صنعت اپنا گریبان چھڑانے کے لئے اپنا الزام سگریٹ کی غیر قانونی انڈسٹری پر ڈالتی دیکھائی دیتی ہے کہ ہم تو ٹیکس ادا کر کے حکومتوں کو مالی فائدہ دیتے ہیں اور غیر قانونی صنعت جو ٹیکس ادا نہ کرنے کی وجہ سے سستے سگرٹس بناتی ہے، وہ نہ صرف حکومت کا نقصان پہچاتی ہے بلکے منافع بھی خوب بناتی ہے۔
اس جھوٹے دعؤی کا راز ڈبلیو ایچ او کی ایک حالیہ رپورٹ میں کھلا، جس کا عنوان تھا : "پاکستان میں سگریٹ کی غیر قانونی تجارت کے واقعات پر مطالعہ:
اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری کے لیے ایک کیس اسٹڈی نے غیر قانونی تجارت کے حجم کے حوالے سے صنعت کے دعووں کو مسترد کر دیا ہے اور اس دلیل کی تردید کی ہے کہ تمباکو پر زیادہ ٹیکس غیر قانونی تجارت کو متحرک کرتے ہیں۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ مارکیٹ کے سائز کے بارے میں صنعت کے دعووں کی حمایت کرنے کے لیے "کوئی ثبوت نہیں ہے”۔
ماضی میں پاکستان میں غیر قانونی تجارت کے حجم کے بارے میں کئی مطالعات سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ غیر قانونی تجارت کا بازار 9 سے 17 فیصد تک تھا۔جبکہ تمباکو انڈسٹری اس کو ۴۰ سے ۴۵ فیصد تک بتاتی ہے۔
مزید برآں صنعت کی طرف سے "انڈر رپورٹنگ” کی وجہ سے اہم نقصانات دیکھنے میں آئے ہیں۔ سوشل پالیسی اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر کی حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ۲۰۱۵۔۱۶ میں پاکستان کو مقامی طور پر تیار کردہ سگریٹ پر ٹیکس چوری کی وجہ سے 53.8 بلین روپے کا نقصان ہوا۔
یہ صنعت اپنے ٹیکس ادائیگیوں کی صورت قومی خزانے میں جمع کئے گئے پیسوں کا راگ الاپتی نظر آتی ہے مگر نوجوانوں کو اس لت میں لگانے اور اپنا منافع سمیٹنے پر خاموش دیکھائی دیتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں روشنی ڈالی گئی کہ تمباکو کی ایک سب سے بڑی کمپنی کے منافع میں 2023 میں متاثر کن 35.8 فیصد یا 28.96 بلین روپے کا اضافہ ہوا۔
اب مزید سننے میں آرہا ہے کہ سگریٹ کی دس سگرٹوں والی ڈبی بھی متعارف کروائی جارہی ہے تاکہ وہ بچے جو ۲۰ والی نہیں خرید سکتے وہ بھی باآسانی یہ ذہر خرید سکیں، اور مقتدرہ حلقوں میں اس عمل کو آسان بنانے کی لئے معاونت بھی کی جارہی ہے۔جلد ہی یہ سستا ذہر ہمیں دوکانوں پر بکتا دیکھائی دے گا۔
تمباکو کی صنعت دنیا بھر کے ممالک میں اپنے غیر قانونی تجارت کے بیانیے کو فروغ دینے کے لیے خاطر خواہ وسائل مختص کرتی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بہت سے غیر قانونی سگریٹ ان کمپنیوں سے نکلتے ہیں جو پالیسی سازوں کو غیر قانونی مارکیٹ کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتی ہیں۔
حقائق کو مسخ کر کے، صنعت کا مقصد تمباکو پر ٹیکس کی موثر پالیسیوں اور تمباکو کنٹرول کے دیگر اقدامات کو روکنا یا ان کو تبدیل کرنا ہے۔
ان کے دعوؤں کی حمایت کرنے کے لیے، صنعت تحقیق کو مختصر وضاحتی دائرہ کار کے ساتھ فنڈ کرتی ہے جو پہلے سے طے شدہ نتائج کی ضمانت دیتے ہیں۔پھر تمباکو کے عالمی دن کی مناسبت سے پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں اور اہم سیاسی شخصیات کو اکثر اعلیٰ سطح کے سیمینارز میں مدعو کیا جاتا ہے، جہاں یہ ہیرا پھیری کے نتائج میڈیا کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ صنعت ٹیکسوں میں کم از کم 40 فیصد اضافے کو جذب کرسکتی ہے، اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے پاکستان کو سگریٹ کے لیے سنگل ٹائر ٹیکس کا ڈھانچہ متعارف کرانے کی سفارش کی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو اس موت کی وادی میں جانے سے بچانے کے لئے سگرٹوں کی قانونی اور غیر قانونی صنعتوں پو ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ جو کہ غیر قانونی صنعت کی مکمل بندش اور قانونی صنعت پر مزید ٹیکس کی صورت میں ممکن ہے کیونکہ سینٹر فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ۲۰۲۲۔۲۳ میں ۱۸ فیصد لوگوں نے سگریٹ نوشی مہنگے ہونے کی وجہ سے ترک کر دی ہے۔