تاریخ میں زمانۂ جاہلیت کو بد امنی، ظلم و ستم، قتل و غارت گری، بغاوت اور خونریزی کے دور سے خاص کیا جاتا ہے۔ یہ وہ دور تھا کہ طاقت کے بل بوتے پر دل جو چاہتا کیا جاتا، قوت اور طاقت کے ہوتے ہوئے کمزور اور لاچار کو سکون و خوشحالی کا کوئی حق حاصل نہ تھا۔ اپنی بیٹیوں اورلڑکیوں کو زندہ زمین میں گاڑھ دینا، ایک کا دوسرے قبیلے کو تباہ کرنے کے منصوبہ بنانا، غلاموں کی کوئی حیثیت کا نہ ہونااس زمانے کے حالات تھے۔مذہبی عبادات، معاشرتی اقدار، رسم و رواج غریبوں کے الگ، صاحبِ اختیار اور مالداروں کے الگ ہوتے تھے۔ہرشخص اور قبیلے کے الگ مقاصد کے لیےالگ خدا ہوتےتھے۔ غلام کو سکون سےجینے کا کوئی اختیار نہ تھا، جیسے حالات و واقعات دور ِجاہلیت کے چیدہ چیدہ نکات ہیں۔
عرب کے وسیع و عریض علاقےکے انسانوں کی کثیرآبادی کو تاریکی سے نکالنا، ایک کٹھن اور مشکل ترین مرحلہ تھا۔ مخلوق کی اس تباہی اور بربادی کو روکنا کسی کے بس کی بات نہ تھی ۔ انسانیت کی اصلاح اور سکون کی زندگی بخشنے کے لیےخالقِ کائنات نے مخلوق کی قسمت بدلنے کا ارادہ کیا۔ لاتعداد معبودوں کی عبادت کرنے والوں کو ایک اللہ کی عبادت پر آمادہ کرنا، لامتناہی بتوں کی جگہ ایک اللہ پر ایمان لانے کے لیے انسانیت کو راغب کرنا، نقصان کو فائدے، جہالت کو علم، بدامنی کو امن، قتل و غارت گری کو اخوت و بھائی چارے، ایک دوسرے کے خون کے پیاسوں کو خیرخواہ بنانے کی ضرورت تھی۔
انسانوں کی مزید تباہی کو قابو میں لانے کی ضرورت تھی۔ انسانیت کے طور طریقوں اور رسم و رواج میں اصلاح لانےکی ضرورت تھی۔ ظلم و ستم اور تباہی و تنزلی کے خاتمے کے لیے اللہ تعالیٰ جل جلالہ و عمّ نوالہ نے انسانیت کے ساتھ خیر کا معاملہ فرمایا اور دنیا کی اصلاحات کی خاطر امام الانبیاء، افضل البشر، پیغمبرِانسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کورحمت بنا کر بھیجا، پیغمبرؑ کی تعلیمات کو صرف عرب تک محدود نہ رکھا بلکہ تمام انسانیت کے نیکوکاروں کو بشارت دینے اور برے اعمال والوں کو جہنم سے ڈرانے والا بناکر بھیجا۔ اس پر اپنا کلام، افضل الکتاب، مصدّق کتبِ سماویہ اور الٰہی کتب کی جدید ترین ایڈیشن، اپڈیٹڈ ورجن اور تازہ ترین کتاب قرآن کریم کا نزول فرما کر لوگوں کو زندگی گزارنے کے اصول دیئے،عزت بخشی، سکون بخشا، رسم و رواج دیئے، غریب و غربت کا احساس دلایا، بھائی چارے اور یکسانیت کو فروغ دیا اور یوں انسانیت کی از سرِ نو تشکیل کرکے قیامت تک انسانوں کو کامیاب زندگی گزارنے کی تعلیم دی۔
اتر کر حرا سے سوئے قوم آیا
اور اِک نسخۂ کیمیا ساتھ لایا
عرب جس پہ تھا قرنوں سے تھا جہل چھایا
پلٹ دی بس اک آن میں اس کی کایا
ادیان میں دینِ ا سلام، کتب ِالہامی میں قرآنِ مجیداور انبیاء ِکرام میں حضرت محمدالرسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری ، تصدیق شدہ، پسندیدہ اور ہدایت کے اپڈیٹڈ ذرائع ہیں۔ ان کی خاصیت قیامت تک انسانیت کی رہنمائی کرنا ہے۔ ان مذکورہ تینوں کی ہدایات اور تعلیمات مشعلِ راہ ہیں۔سکون و اطمینان کے ذرائع ہیں۔ زندگی سے وابستہ ہر شعبے میں انسانیت کی راہنمائی کرتے ہیں اور انسانی زندگی کو کامیاب بناتی ہے۔
اُخروی زندگی کی کامیابی کا دارُمدار انسانی عقائد اور اعمال پر ہے، جبکہ مسلمانوں کی دنیوی زندگی میں کامیابی کا راز قرآنی اور نبوی تعلیمات ہیں۔ ان تعلیمات کو اپنی دنیاوی زندگی کا مقصد بنا کر پرسکون زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ہمارے ارد گرد مختلف مذاہب اور مسالک کے لوگ رہتے ہیں۔ ہر مذہب و مسلک کے الگ الگ پیروکار ہیں۔ الگ مذاہب ، مختلف سوچ ،نظریات اورعقائد انسانی زندگی کے مختلف رنگ ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ایک طرف اللہ تعالیٰ کا بڑاامتحان ہے۔آزمائشوں پر پورا اترنا ایک کھٹن مرحلہ ہوتا ہے۔ ان مراحل میں درست فیصلے انسان کو انسانوں کے قریب کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی تقرب کا ذریعہ ہے اور آخرت کی نقصان سے نجات کا ذریعہ ہے۔
رزق کا حصول اور امن سے جینے کا حق ہر شخص کو حاصل ہے، خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب اور علاقےسے ہو، جیسے قرآن نے تذکرہ فرمایا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےخانہ کعبہ کی بنیاد رکھی، بیت اللہ کی تعمیرمکمل ہوئی تو ساتھ ہی دعا فرمائی کہ”اے اللہ! اس مکہ کو امن کا شہر بنادے، اللہ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان لانے والے یہاں کے باشندوں کو ہر قسم پھل عطا فرما”۔ اس دعا پر اللہ تعالی نے جواباً فرمایا” کہ یہاں کے کفر کرنے والوں کو بھی تھوڑا فائدہ دوں گا”۔اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ دنیوی معاملات میں تقسیمِ رزق اورزمین سے فائدے کی حد تک تمام انسانوں کو فائدے دینا رب ِتعالیٰ کا فیصلہ ہے ، جس کو کسی طرح رد نہیں کیا جا سکتا ۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے دینِ اسلام کو پسند فرمایا ہے۔ اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا دین قابلِ قبول نہیں۔ قرآن کا حکم ہے کہ "کفر کی حالت میں مرنے والوں کا ٹھکانہ جہنم ہے، یہ لوگ قیامت کے دن سونے سے بھری زمین بدلے یا سفارش کے طور پر دینا چاہےتو قبول نہیں کی جائے گی "۔مندرجہ بالا حکم کے ہوتے ہوئےمعلوم ہوتا ہےکہ انسانی عقائد کا تعلق اللہ تعالی کی ذات سے ہے، وہی فیصلہ فرمانے والا ہے۔اس کے ساتھ حکمت بھری اسلام کی دعوت دینا قرآنی حکم ہے۔ کسی کے اعتقادات اور نظریات میں خلل یا دراڑ ڈالنے کی اجازت نہیں۔ کفار کے متعلق قرآن حکم دیتا ہے کہ "اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی عبادت کرنے والوں کو گالیاں نہ دو، وہ عداوت اور نا سمجھی میں اللہ تعالی کو گالیاں دیں گے” ، اس قسم کے حالات سے مذہبی اختلافات اور ٹکراؤ جنم لیتے ہیں، جو ایک سطح پر مذہبی شدت پسندی اور مذہبی فسادات کی روپ دھار لیتے ہیں۔ جن میں دونوں اطراف انسانوں کی ایک کثیر تعداد صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہے ، لاکھوں، اربوں روپے کی مالیت کا نقصان ہو جاتا ہے اور زمین پر فسادات برپا ہو کر امن و سکون برباد ہو جاتا ہے۔
عقائد کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔ فیصلہ فرمانے والا وہی وحدہ لا شریک ذات ہے ۔جہنمی اور جنتی ہونے کا فتویٰ اورحکم جاری کرنے کا اختیار بھی انسان کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ بعض اوقات ایک چھوٹی سی بات کہنے یا کسی عمل پر کفر، گستاخ اور توہینِ مذہب جیسے حکم لگ جاتے ہیں، جس میں بسا اوقات غلط بیانی اور ذاتی حصول کی خاطرتمام علاقہ کسی کے قتل میں شریک ہوجاتا ہے، یا نقصان پہنچ جاتا ہے۔ ان تمام باتوں میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور ان میں مکمل تحقیق کے بعد ہی شرعی فیصلہ اور حدود قائم کیے جا سکتے ہیں۔ اس قسم کےفیصلے کا اختیار صاحب اختیار اور صاحب الرائے کے علاوہ کسی کو حاصل نہیں۔اس حوالے سے ایک جنگ کے دوران "ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو قتل کیا، پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا واقعہ بیان فرمایا کہ وہ کافرتھا، قتل کے خوف سے بچنے کے لیے اسلام کا کلمہ پڑھا، تو میں نے قتل کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا آپ نے اس کا دل چیرکر دیکھا تھا”؟۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ کے اپنے اصول ہیں۔ قیدیوں کے حقوق ہیں، لہٰذا یسے حالات میں احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے کہ قاتل اور مقتول کےایمان کا ضیاع نہ ہو۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات انتقام کے تھے اور نہ ہی بدلہ لینے کے تھے۔ طائف کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا۔ اسلام کی دعوت اور حضور کی تبلیغ پرسردارانِ طائف طیش میں آگئے اورلوگوں سے حضورؑ کے پیچھے آوازیں کسنے اورپتھر پھینکنے کا حکم دیا۔ عوام نے سردارانِ طائف کا حکم قبول کرتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زخمی کیا ۔کچھ ہی دیر میں فرشتوں نے تشریف لا کر تسلی دی اور اجازت چاہی کے حکم ہو تو پہاڑوں کے بیچ ان کو مسل کر ختم کر دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمانے لگے کہ یہ لوگ نہیں تو ان کی اولاد ایمان قبول کر لیں گے۔لہٰذا معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو سخت اور مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے پرامید ہونا چاہیے اور حالات کا مقابلہ کرنا چاہیے۔
امن اور ترقی ہر دور کی ضرورت ہے۔ ہر علاقے میں مختلف ذہن، فکر، سوچ، عقیدے اور نظریئے کے لوگ رہتے ہیں۔ ان تمام لوگوں کا اس زمین پر رہنے کا بنیادی حق اسلام دیتا ہے۔ کسی پر ظلم کی اجازت نہیں۔ سب مل کر معاشرے کی بہتری اور ملکی ترقی کے لیے کردار ادا کریں گے۔ہجرتِ مدینہ کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ کی ترقی اور امن کی بقا کے لیے اہلِ مدینہ سے کچھ معاہدے کیے ، جو میثاقِ مدینہ کے نام سے یاد کیے جاتے ہیں۔اس مقصد کے لیے مدینہ کے تمام مذاہب اور خصوصاً یہود کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کیا ، جس کی بدولت امن اور ترقی ممکن ہوئی اور مدینہ منورہ ایک پرامن شہر کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔
اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ ایک عظیم باب ہے۔ اس معاہدے سے اسلام کو جو تقویت ملی شاید کسی اور معاہدے سے ملی ہو۔ اس معاہدے کی بدولت اسلام جزیرۂ عرب سے نکل کر دوسرے جزائر اور ممالک تک پھیل گیا۔ یہ معاہدہ اہلِ مکہ کے سرداران کے ساتھ تھا ۔اس معاہدے کے اکثر شرائط مسلمانوں کے خلاف تھے، لیکن ایک شرط کہ دس سال تک جنگ بندی ہوگی، کا شق اہم ہونے کی بناء پر معاہدہ طے پایا۔معاہدے کا عنوان تھا کہ "یہ معاہدہ سردارانِ قریش اور محمدالرسول اللہ کے درمیان ہے” پر اعتراض ہوا کہ ہم محمد کو اللہ کا رسول مانتے نہیں، لہٰذااس کو مٹاؤ اور محمد بن عبداللہ لکھو۔ کاتب ِ معاہدہ نے مٹانے سے انکار کیا۔ حضور ؑنے خود اپنے ہاتھوں سے مٹایا تاکہ امن کا معاہدہ ہے تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
اسلامی تاریخ میں حضور علیہ السلام کے ایسے کئی معاہدات ہیں، جن میں امن کو ترجیح دی گئی ہے۔جس سے یہی استنباط ہوتا ہے کہ اسلام امن کا داعی ہے۔امن کی دعوت پر کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ایسے واقعات اسلامی تاریخ کے وہ واقعات ہیں جو اسلام کی ترویج کا ذریعہ بنے۔ اسلامی تعلیمات جذبات ،تشدد، قوت اور اسلحہ کے بل بوتے پر نہیں پھیلے، بلکہ دور اندیشی ، حسنِ سلوک، رواداری اور اچھے تعلقات کی بنیاد پر پھیلے ہیں۔ عقائد اور نظریات پر فیصلے یوم الحشر کےدن ہوں گے۔ظلم و ستم اور بد امنی کی سزاؤں پر کوئی نرمی نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں کوئی مقدس گائے نہیں۔ زبان اور اعضاء کے غلط استعمال پر سزا ضروری ہے، خواہ انسان کا تعلق جغرافیائی اعتبار سے کسی بھی ملک ، علاقے ، مذہب اور مسلک سے ہو،لیکن اُخروی نجات کا دارومدار عقیدے ، نظریہ اورنیت پر ہےجس کے فیصلے لِلّٰہِ الواحد القہار کی منشاء پر ہوں گے۔