سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا ایک اہم ترین پہلو زیر بحث نہیں آ سکا۔ انتہائی اختصار کے ساتھ اس پہلو پر بات کرتے ہیں۔
فیصلے کے سیاسی پہلو پر بہت بات ہو رہی ہے لیکن جورسپروڈنس کا پہلو اس سے زیادہ اہم ہے۔
یہ فل کورٹ کا فیصلہ تھا۔ کیا آپ کو یاد ہے قاضی فائز عیسی سے پہلے فل کورٹ نے کب کوئی فیصلہ دیا تھا۔ 2015 میں۔ اگر ان 9 سالوں میں کوئی قیامت نہ ٹوٹی تو اب بھی فل کورٹ نہ بنتی تو کیا قیامت آ جاتی؟
مشہور زمانہ تین رکنی بنچ کی طرز پر بنچ بنا لیا جاتا تو کیا ہو جاتا ؟ یاد رہے کہ مشاوت کے وقت جسٹس منصور صاحب نے پانچ رکنی بنچ کی تجویز دی تھی۔ اور جسٹس منیب صاحب سات رکنی بنچ کی۔ لیکن چیف جسٹس نے کہا نہیں معاملہ اہم ہے فل کورٹ ہی سنے گی۔ یہ وہ بھاری پتھر ہے جو ماضی میں کتنے ہی چیف جسٹس نہ اٹھا سکے۔
چیف جسٹس ایک اور کام بھی کر سکتے تھے۔ وہ اسے سماعت کے لیے لگاتے ہی نہیں۔ پھر کیا ہو جاتا۔ حامد خان جو چیختے رہے کہ جسٹس گلزار اب بعض کیس لگاتا ہی نہیں تو کیا ہو گیا تھا۔
یہ بھی دیکھیے کہ صرف آج کے دن فیصلہ نہ سنایا جاتا تو آگے تعطیلات تھیں۔ دو ماہ تو معاملہ ویسے ہی لٹک سکتا تھا۔
یہ بھی بڑے عرصے بعد ہوا کہ چئف جسٹس کا موقف منارٹی میں رہا اور اکثریت دوسری طرف تھی۔ ورنہ یہاں تو افتخار چودھری جیسے چیف جسٹس دعوے کرتے تھے کہ عدلیہ میں چین آف کمانڈ قائم ہو گئی۔
قاضی فائز عیسی نہ بنچ بنانے ہر اثر انداز ہوئے۔ نہ بنچ کے کام پر۔ ان کا مفاد اور ضد ہوتی تو فل کورٹ ہی نہ بنتی۔
چیف جسٹس کی آمریت ختم ہو رہی ہے اورجج اپنی رائے کے مطابق آزادانہ قائم کر رہے ہیں۔
یہ ہے آزاد عدلیہ کی طرف پہلا قدم۔ آزاد اور باوقار جورسپروڈنس۔
بلاشبہ قاضی فائز عیسی تحسین کے مستحق ہیں