اس وقت پوری دنیا کو جن چند مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے گلوبل وارمنگ ان میں سے ایک ہے اور بدقسمتی سے پاکستان اُن چند ممالک میں سے ایک ہے جو تیزی سے اِس سے متاثر ہو رہے ہیں.
زمین کا درجہ حرارت تیزی سے بڑھ رہا ہے، یہ زمین آتشیں گولہ بنتی جا رہی ہے، موسموں کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، فضائی آلودگی بڑھ رہی ہے ، جس سے مختلف قسم کے جان لیوا امراض پھیل رہے ہیں. مختصر یہ کہ یہ زمین ناقابل رہائش بنتی جا رہی ہے.
اب ایسے میں ان تمام مسائل کا جو سب سے مؤثر حل ہے وہ زیادہ سے زیادہ شجر کاری ہے. یہ وقت اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ پودے اُگائے جائیں، نہ صرف اُگائے جائیں بلکہ اُن کی بہتر سے بہترین انداز میں نشونما اور حفاظت کی جائے تاکہ وہ شجر بن جائیں. اس میں عام آدمی سے لے کر ریاست تک، سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا.
ایک ہفتہ قبل، مجھے ایک کال موصول ہوئی. یہ کال، صدر مرکزی انجمن تاجران، واہ ماڈل ٹاؤن واہ کینٹ، الفت حسین صاحب کی تھی. کہنے لگے؛ ہم اس مرتبہ یوم آزادی ایک منفرد انداز سے منانے جا رہے ہیں. ہم اپنے دفتر میں ایک تقریب منعقد کر رہے ہیں، جس میں نہ صرف روایتی انداز کے مطابق پاکستان کے یوم آزادی کا کیک کاٹا جائے گا بلکہ شہریوں میں بہت بڑی تعداد میں مفت پودے تقسیم کیے جائیں گے اور انہیں شجر کاری کے حوالے سے نہ صرف تقریب میں بلکہ ان کے دروازے پر جا کر، آگاہی فراہم کی جائے گی. یہ سن کر مجھے انتہائی مسرت محسوس ہوئی کہ ہمارے لوگ، انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں اور نہ صرف فکر مند ہیں بلکہ اس کا سامنا کرنے کیلئے آج ہی اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں اور اس کی سختیوں سے بچنے کیلئے حفاظتی اقدامات کر رہے ہیں.
مقررہ دن، یہ تقریب منعقد ہوئی. واضح رہے کہ یہ تقریب ایک سلسلے کی کڑی تھی. یہ سلسلہ پچھلے کچھ وقت سے واہ کینٹ سے تعلق رکھنے والے ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ، کامران احمد نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر، ٹھنڈا پاکستان کے نام سے شروع کر رکھا ہے جس کے تحت واہ کینٹ، حسن ابدال اور ٹیکسلا میں بہت بڑی تعداد میں پودے لگائے جا رہے ہیں اور مختلف اداروں اور تنظیموں کے تعاون سے شہریوں میں مفت بانٹے بھی جا رہے ہیں.
اس تقریب میں پاکستان کے ستترویں یوم آزادی کی مناسبت سے کیک کاٹا گیا. مقررین نے اپنے خطاب میں شجر کاری کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی اور پھر تقریباً 500 پودے شہریوں میں مفت تقسیم کیے گئے اور واک کر کے شہریوں میں شجر کاری کے حوالے سے آگاہی پھیلائی گئی.
پاکستان میں دو مافیاز ایسے ہیں جو بہت بڑے پیمانے پر فطرت کو نقصان پہنچا رہے ہیں، جنگلات کا خاتمہ کر رہے ہیں. ایک ہاؤسنگ سوسائٹی مافیا اور دوسرا ٹمبر مافیا. حکومت سے گزارش ہے کہ ان کا راستہ روکا جائے، اگر کسی بھی وجہ سے ان کو روکا نہیں جا سکتا تو اس کا متبادل یہ ہے کہ حکومت ان دونوں مافیاز کو اس بات کا پابند بنائے کہ جتنے بڑے پیمانے پر یہ جنگلات کاٹیں، اُسی جگہ یا متبادل کسی جگہ، اُتنے ہی بڑے پیمانے پر، اُتنے ہی بڑے رقبے پر درخت لگائیں.
میری دعا ہے کہ خدا وند متعال، اُن تمام لوگوں اور تنظیموں کی توفیقات خیر میں برکت عطا فرمائے اور اپنی شان کے مطابق اجر عطا فرمائے، جو انسانیت کے لیے اپنا مال، وقت اور توانائیاں خرچ کر رہے ہیں. یقیناً انسانیت اِن کی مقروض ہے.