پروازوں کے دوران برقی آلات کے استعمال سے نیا خدشہ جسے جاننا ضروری ہے

کیا آپ کے برقی آلات آپ کو پروازوں کے دوران خطرے میں ڈال سکتے ہیں؟

آج کی دنیا میں فون ، لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ ایک تعویز کی جگہ لے چکے ہیں جو چوبیس گھنٹے ہمارے ساتھ ہیں ۔ ان آلات کے بغیر پرواز کرنا ناقابل تصور محسوس ہوتا ہے کیونکہ سفر کے دوران یہ آلات ہمیں کام کرنے، بچوں کو تفریح فراہم کرنے اور اپنے پیاروں سے جڑے رہنے میں مدد فراہم کرتے ہیں ،تاہم ایک حالیہ واقعہ میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ایک جدید الیکٹرانک جنگ نے جنم لیا ہے جس پر عقل دنگ ہےاور اس واقعے کا اثر خوف کی صورت میں ایک عام آدمی کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس ہفتے کے اوائل میں، 3,000 پیجرز، جو مبینہ طور پر ایران کی طرف سے حزب اللہ کو فراہم کیے گئے تھے، بیک وقت دھماکے، کے ساتھ پھٹ گئےجو بھر پور پلاننگ کے ساتھ کی گئی کارروائی معلوم ہوتی ہے، جس میں حزب اللہ کو نشانہ بنایا گیا ،اب یہ دنیا بھر کے ہوائی مسافروں کے لیے خدشات پیدا کر رہا ہےکہ درمیان پرواز کیا ہمارے ذاتی الیکٹرانکس کا استعمال محفوظ بھی ہے کہ نہیں ؟

آج کل مسافر پروازوں کے دوران الیکٹرانکس پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ ایئر لائنز Wi-Fi فراہم کرتی ہیں، اور لمبے سفر کے دوران تفریح کے لیے فلموں، ٹی وی شوز، اور کاروباری شخصیات کو اس وقت کو استعمال میں لانے کے لیے ذاتی آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اب یہ سب ایک چیلنج بن سکتاہے اور اس کو کس طرح کنٹرول کیا جا سکتاہے؟

ماہرین اب اس امکان کو ظاہر کر رہے ہیں کہ حزب اللہ کے پیجرز کو دھماکے سے اڑانے کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹس یا لیپ ٹاپس پر لاگو ہوسکتی ہے۔ اس سے پہلے یہ سب ہم نے انگریزی فلموں میں ہی دیکھا تھا۔ تصور کریں زمین سے ہزاروں فٹ بلند ہوائی جہاز پر آپ سوار ہیں اور جہاز پر موجود آلات کو ایسےسگنل بھیجے جاسکتے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ گرم ہوکر پھٹ سکتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہوائی سفر کو حفاظتی خدشات کے نئے دور کا سامنا کرنا پڑ ے گا؟

اگر پرسنل الیکٹرانکس میں واقعی اس طرح کی ہیرا پھیری کی جا سکتی ہے تو اس کی وجہ سے نئی اور سخت پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں، جن میں پروازوں میں الیکٹرانک ڈیوائسس کو لے جانے کی اجازت ہے۔ یہ پابندیاں ان لاکھوں لوگوں کے لیے پرواز کو مزید مشکل بنا سکتی ہیں جو پروازکے دوران اپنے آلات پر انحصار کرتے ہیں، خاص طور پر کاروباری مقاصد کے لیے۔

یقینا پرواز کرنے والوں کے لیےیہ بات تکلیف دہ ہوگی۔ کاروباری مسافروں کو آسمان میں ضائع ہونے والے گھنٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا. کام کے علاوہ فلائیٹ پر اکثر اوقات چھوٹے بچے پریشان ہوتے ہیں توطویل پروازوں کے دوران بچوں کو تفریح فراہم کرنے کے لیے ٹیبلیٹ پر انحصار کرنے والے خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ممکنہ اثر کارپوریٹ پیشہ ور افراد سے لے کر تفریح پر جانے والے افراد تک، سب کوہے۔

یہ تصور ہمارے لیے بلاشبہ پریشان کن ہے۔ ہمیں ہائی جیکنگ یا بموں جیسے خطرات کے بارے میں تو معلومات تھیں لیکن الیکٹرانک آلات پر مربوط حملے کا خیال ایک نیا اور خوفناک منظر نامہ ہے۔ جو چیز اسے مزید خوفناک بناتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے تھےکہ خطرہ آلات کے آف ہونے کے باوجودبھی ہے۔ اگر انہیں آف حالت میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تو کیا ایئر لائنز لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونز پر مکمل پابندی عائد کر دے گی؟ اور اگر وائی فائی خود ایک خطرہ بن جائے تو کیا ہوگا؟

اس طرح کے منظر نامے سے نہ صرف مسافروں کوبے جا تکلیف ہوگی بلکہ ایئرلائن سیکیورٹی پروٹوکول میں بھی بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔ یعنی ہمیں ماضی کی طرف دوبارہ لوٹنا ہو گا جب ہماری ذندگیوں میں یہ آلات نہیں تھے لیکن آج کی دنیا کے لیے یہ ایک خوفناک سوچ ہے۔

اب ممکن ہے کہ سیکورٹی حکام ہوائی جہازوں پر ذاتی الیکٹرانکس سے لاحق ممکنہ خطرات کا بغور جائزہ لیں گے۔ اگر ضروری ہوا تووہ سخت حفاظتی اقدامات بھی نافذ کر سکتے ہیں، بشمول آلات کی اسکریننگ میں اضافہ یا ان کے استعمال پر مکمل طور پر پابندی لگا دینا ہے۔ اس طرح کی تبدیلیوں کا ہوا بازی کی صنعت پر بہت زیادہ اثر پڑ سکتا ہے، جیسا کہ 9/11 کے بعد مائع چیزیں لے جانے پر پابندی اور سیکیورٹی چیکس میں مزید اضافے کی صورت میں سامنا کیا جا رہا ہے ،یقینی طور پرہوائی جہازوں پر الیکٹرانکس کا خاتمہ تو ممکن نہیں لیکن یہ جہاز پر سخت کنٹرول کی طرف ایک نیا اشارہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے