پشتون قومی جرگہ – رپورتاژ

ہیلو چنے والے بھائی صاحب، کارخانو کو کون سا راستہ جا رہا ہے۔ جی، جرگے میں جا رہے ہو کیا؟

پولیس والے سے پوچھا، کوکی خیل کا راستہ یہی ہے؟ بولا، نہر کا کنارا پکڑو سیدھا جرگے میں پہنچ جاوگے۔

ریگی ٹاون کے عقب میں خالی ویران راستوں پر راستہ کنفرم کرنے کے لیے منان ایڈوکیٹ نے موٹر سائیکل والے کو دور سے رکنے کا اشارہ کیا، اس نے رکے سنے بغیر اشارے سے کہا، تم لوگ ٹھیک راستے پر ہو۔ چلتے رہو۔

اس دن پورا پشاور ایک بات جانتا تھا، خیبر میں کوکی خیل قبیلے کی میزبانی میں پشتونوں کا قومی جرگہ ہو رہا ہے۔

ہم مشکل گزار راستے سے جرگے کے مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہزاروں لوگ واپس آرہے ہیں۔ لوگ واپس کیوں جا رہے ہیں؟ کیا یہ مایوس ہوگئے ہیں۔ کیا یہ بور ہوگئے ہیں۔ کیا جرگہ شروع ہی نہیں ہوا؟ اور یہ جرگہ یہاں سے آخر ہے کتنی دوری پر؟

بالآخر سامنے روشنیاں نظر آگئیں۔ کچھ خیمے نظر آرہے ہیں اور دھویں بھی اٹھ رہے ہیں جیسے پاس کے گاوں میں تنور جل رہے ہوں۔

کوئی رہنمائی کرنے والا نہیں ہے۔ کوئی اشارہ علامت اور رضاکار نہیں ہے۔ بدنظمی اور بدمزگی طبعیت پر منفی اثرات چھوڑ رہی ہے۔ مگر ہمت اور حوصلہ ساتھ نہیں چھوڑ رہا۔

ہم جرگے کے ساتھ ہی عارضی طور پر آباد ہو جانے والے ایک بازار سے ہوکر جرگہ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ یہاں چائے بسکٹ، گرم تازہ روٹیاں، چپلی کباب، لوبیا دال، توا کلیجی، قابلی پلاو، گڑھ کا شربت، گنے کا جوس، کھیر، چنا چاٹ، لیمن سوڈا، برف میں رکھیں پانی کی بوتلیں، مشروبات، سگریٹ نسوار ضروری ادویات سب یہاں موجود ہے۔

سامنے ریسکیو 1122 اور فائر بریگیڈ کے اہلکار، گاڑیاں اور ایمبولینس کھڑی ہے۔ آگے اندھیرے میں لوگ کھڑے ہیں جنہوں نے لال ٹوپیاں پہن رکھی ہیں جن پر گیارہ اکتوبر پشتون قومی عدالت لکھا ہوا ہے۔

ساتھ ہی ایک شیزور ٹائپ گاڑی پر منظور پشتین کھڑے نظر آرہے ہیں۔ خطاب کر رہے ہیں مگر آواز نہیں آرہی۔ یہ سٹیج ہے؟ یہ کیسا سٹیج ہے؟ اور یہ ساونڈ کوالٹی کیسی ہے؟ کیا یہ سب ایسا ہی چلے گا؟

اب منظور کی آواز واضح سنائی دینے لگی ہے۔ کہہ رہے ہیں، پچھلے دن جو پولیس کی طرف سے حملہ ہوا اس کی وجہ سے سٹیج بنانے میں تاخیر ہوگئی ہے۔ ہم کچھ بہتر فیصلوں کے ساتھ یہاں سے لوٹیں گے۔ ان فیصلوں کی اہم بات یہ ہوگی کہ اس پر تمام پشتون حلقوں کا اتفاق رائے ہوگا۔ ایک بات ذہن میں رکھیں، یہاں آنے والا ہر شخص ہمارا مہمان ہے۔ ماضی میں جس کسی نے ہماری مخالفت کی ہے، ہماری طرف سے سب معاف ہے۔ ڈاکٹر شہزاد نے میڈیکل کیمپ لگایا ہوا ہے، جس کو چیکپ اپ دوا دارو کی ضرورت ہو وہاں پہنچ جائے۔ تین دن آپ سب کا تین وقت کا کھانے جرگے کے ذمے ہے۔

سٹیج کے تین جانب دور تک خیمہ بستی نظر آتی ہے۔ نظر پڑتے ہی محسوس ہوتا ہے تیرھویں صدی میں چلے آئے ہیں۔ ہر ضلعےکا اپنا خیمہ ہے۔ بیچ میں ایک خیمہ عورتوں کا ہے۔ خیموں پر ضلعے کا نام لکھا ہے اور لاپتہ افراد کی تصویریں آویزاں ہیں۔

لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھ رہے ہیں۔ چادر تکیے سائبان اور جگہ فراہم کر رہے ہیں۔ کوئی کہہ دے سر میں درد ہے دس لوگ بیگ کھول کر پیناڈول نکالنے لگتے ہٰیں۔ صحرا میں ہیں، مگر ہر آنے والے سے چائے پانی کا پوچھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود پوچھ رہے ہیں کہ چائے بنانے کی سہولت موجود نہیں ہے اور بازار دور ہے۔ جن کے پاس کوئی مشروب ہے تو بن پوچھے ڈسپوزیبل گلاس میں ڈال کر پیش کر رہا ہے۔

پہلی رات ہے لوگ ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جغرافیے اور انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ کون سا کیمپ کہاں لگا ہے، جاننے سمجھنے میں لگے ہوئے ہیں۔

ہم بوریا بستر ساتھ لے گئے تھے۔ مگر رات گئے پشاور شہر کی طرف لوٹ گئے۔ تمبوانو موڑ پر قابلی پلاو پہ ہاتھ صاف کیا۔ ہوٹل میں دائیں بائیں کرسیوں اور فرشی نشستوں پر بیٹھے لوگوں میں ایک ہی بات زیر بحث ہے، پشتون قومی جرگہ! جو لوگ بیٹھے ٹک ٹاک اور ریلیں سکرول کر رہے ہیں وہاں بھی منظور کی آوازیں ہیں اور پی ٹی ایم کے ترانے ہیں۔ رات کے تین بج رہے ہیں۔ سونا چاہیے۔ شب بخیر!

صبح بخیر! کل کی طرح آج بھی موبائل نیٹورک اور انٹر نیٹ خیبر سے یونیورسٹی ٹاون تک معطل ہے۔ انتظامات البتہ آج پورے ہیں۔ سیکیورٹی اہلکاروں، منتظمین اور قائدین کو رابطے کے لیے واکی ٹاکی کا سہارا ہے۔ باقاعدہ سٹیج بھی نصب کر دیا گیا ہے۔ ساونڈ کوالٹی بھی وشملے ہے۔

جرگے میں پچھلے آدھے گھنٹے سے آواز ہے کہ اے این پی کے صدر ایمل ولی خان آرہے ہیں۔ لوگ سٹیج کے گرد جمع ہونے لگے ہیں۔

اور وہ آگئے۔ جماعتوں سے بالا تر ہوکر سبھی پختونوں نے پلکیں بچھائیں، ہاتھ بلند کیے اور فلگ شگاف نعرے لگائے۔ کڑکتی گرمی میں جوان ان پر ٹوٹ پڑے۔ ہر پہلو کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے لہو گرمایا بھی خوب نرمایا بھی خوب۔ بہت نپی تلی گفتگو کی۔ ایک جملہ کم نہ ایک جملہ زیادہ۔ حق ادا کیا اور چلے گئے۔

اب کیا ہوگا؟ کون آئیں گے کب آئیں گے۔

پتہ چلا کہ تقریروں کا تو سرے سے کوئی کوئی سلسلہ ہی نہیں ہے۔ جو ہوگی حسب ضرورت ہوگی۔ یہ جرگہ ہے، کوئی جلسہ نہیں ہے۔ تمام اضلاع کے لوگ اپنے خیموں میں موجود رہیں گے۔ ان کے نمائندے جرگہ کریں گے، جو صبح سے جاری ہے۔

جاری ہے؟ کہاں جاری ہے؟ سامنے جو الگ سے ایک بڑا خیمہ لگا ہے، پشتون قائدین و عمائدین وہاں موجود ہیں۔ منظور پشتین ایک تفصیلی پریزنٹیشن پیش کر رہے ہیں۔ سلائیڈ بدلتی ہے تو لوگ آنسو پونچھتے ہیں۔ تباہی و بربادی کا ٹخمینہ سنتے ہیں تو سر دھنتے ہیں۔

جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد آئین، قانون اور جمہوریت کا تکون بناکر حقوق کا مقدمہ لڑتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں ایک سطر بھی ایسی نہیں ہوتی جس کا سٹرکچر ریاستی بیانیے سے ماخوذ ہو۔ کمال ہے!

محسن داوڑ مدبرانہ لہجے میں اپنی بات رکھ رہے ہیں۔ ان کے انداز و ادا میں متانت، وکالت اور نظم و ضبط کا چھڑکاو بہت خوب ہے۔ اس شخص میں ایک جھلک خان عبدالولی خان کی بھی ہے۔

میاں افتخار حسین کی گفتگو نے دل لہو سے بھر دیے۔ آج افتخار حسین نامی کوئی لیڈر نہیں بول رہا تھا، جوان بیٹے کی لاش اٹھانے والا ایک زخمی دل بول رہا تھا۔ ایسا شخص بول رہا تھا جو فنائیت، خدمت اور قربانی کا زندہ نمونہ ہے۔ جوانو، ان سے ملتے رہا کرو۔ یہ حریت والے دبستان کی شاید آخری نشانی ہیں۔

ہچکیوں سسکیوں اور حیرتوں میں آج کا یہ جرگہ اختتام کو پہنچ گیا۔

یہ بھی پڑھیں
منظور پشتین کی خدمت میں

خیمہ کھل گیا ہے۔ محسن داوڑ کارکنوں کے حلقے میں اپنے خیمے کی طرف جا رہے ہیں۔ جرگے کے مین آف دی میچ ملک نصیر ہجوم میں کہیں سے چلے آرہے ہیں۔ میاں افتخار حسین لوگوں سے بچ بچا کر گاڑی میں بیٹھ رہے ہیں۔ ہر مکتب کے لوگ سیلفی لینے کے لیے مشتاق احمد کو قدم قدم پر روک رہے ہیں۔

اب ہم بھی تھکے ہارے بازار میں لیمو پانی پی رہے ہیں اور دور سٹیج سے ہوا کے دوش پر سابق سینیٹر عثمان کاکڑ کی آواز لہراتی ہوئی آتی ہے۔ وہی آواز ہے وہی لہجہ ہے۔ وہی رنگ ہے اور وہی آہنگ ہے۔ یہ کہاں سے آگئے۔ وہ تو اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ نہیں، یہ ان کے بیٹے خوشحال کاکڑ خطاب کر رہے ہیں۔ سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کو ئی اور ہے!

وٹ نیکسٹ؟

کل تمام نمائندے اپنے خیموں میں جائیں گے۔ اپنے اضلاع کے لوگوں سے پوچھیں گے کہ بتاو مطالبے کیا ہیں تقاضے کیا ہیں۔ بولو تاکہ لکھا جائے۔ لکھو تاکہ پہنچایا جائے۔

سورج دوسرے دن کا گواہ بن کر خیبر کے پہاڑی سلسلوں کے پیچھے اتر رہا ہے۔ زمین کی تپش اور موسم کی سختی ٹوٹ گئی ہے۔ باضابطہ کاروائیاں ختم ہوگئی ہیں۔ کھانوں کے ڈبوں سے لدی گاڑیاں خیموں کی جانب چل پڑی ہیں۔ پلاو کی مہک دھول میں مکس ہوکر سانسوں میں اتر رہی ہے۔

کسی خیمے میں دسترخوان پھیلے ہوئے ہیں۔ کہیں موسیقی چل رہی ہے۔ کہیں کسی کتاب پر تبصرے ہیں۔ کہیں مقامی مشران سے کچھ سمجھنے کی کوششیں ہیں۔کہیں مشاعرہ ہو رہا ہے اور کہیں نماز ہو رہی ہے۔

روشنیاں مدھم ہوگئی ہیں۔ بازار سے اٹھنے والی آوازیں بیٹھ گئی ہیں۔ یہاں وہاں اندھیرے میں کچھ لوگ بیٹھے ہیں جو ہتھیلیوں پہ تیراہ کا آمیختہ نرم کر رہے ہیں۔ گہرے کش لگتے ہیں دھواں اٹھتا ہے۔

خیموں میں لوگ لمبی تان لیتے ہیں، کروٹ لیتے ہیں، چادر کھینچتے ہیں، سو جاتے ہیں۔ شب بخیر!

صبح بخیر! آج ایک مختلف دن ہے۔ کیونکہ آج فیصلے کا دن ہے۔ یہاں سے وہاں سروں کا سمندر ہے۔ مسجد مندر مے خانے ایک ہی میدان میں سجے ہوئے ہیں۔ لوگ اپنے خیموں میں جمع ہیں۔ مطالبات ترتیب دیے جارہے ہیں۔

لکی مروت کے خیمے سے آواز آتی ہے، ہمارے تعلیمی ادارے سیکیورٹی مقاصد کے لیے نہیں ہیں۔ انہیں مکمل طور پر تعلیم کے لیے کھولا جائے۔

شمالی وزیرستان کے کیمپ سے آواز آتی ہے، ہمیں امن چاہیے اور اس سے بھی پہلے ایکا چاہیے۔

مہمند ایجنسی کے لوگ کہتے ہیں، ہم اپنی ہی زمین پر ثانوی حیثیت کے ساتھ نہیں رہ پائیں گے۔ کرم کے کیمپ میں بحث جاری ہے، ہمیں شیعہ سنی فساد والے کاروبار کے مکمل خاتمے کے لیے الگ سے ایک جرگہ چاہیے۔

عورتوں کے کیمپ سے آواز آتی ہے، افگان ط الب ان سے پرزور مطالبہ کیا جائے کہ وہ تعلیم پر ورتوں کا حق تسلیم کریں۔ پاکستان میں ونی جیسی روایت ، جس میں قتل کے بدلے میں کم عمر لڑکی کو بطور دیت پیش کیا جاتا ہے، کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جائے۔

دن کے دو بج رہے ہیں، پشتون قائدین و عمائدین اور نمائندے جرگے والے کیمپ کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔

عورتیں آج پہلے سے زیادہ ہیں۔ کوئی حجاب میں ہے، کسی نے منظور کیپ تو کسی نے لال باچا خانی ٹوپی پہن رکھی ہے۔ پی ٹی آئی کی شاندانہ گلزار دور دراز سے آئے قبائلی پشتونوں میں گھل مل گئی ہیں۔

روایتی لباس میں ملبوس جواں سال وڑانگہ لونی کے لیے ہر شخص احترام سے جھکا جا رہا ہے۔ کوئی سلام کرے تو وہ سینے پہ ہاتھ رکھ کر جواب نہیں دیتی، قدیم پختون روایات کے مطابق دونوں ہاتھ آگے بڑھاکر مصافحہ کرتی ہیں۔ اندھیری رات میں چراغ لے کر راستوں میں کھڑے ہونے والی عورتوں کی جب تاریخ لکھی جائے گی تو وڑانگہ لونی پر پہنچ کر مورخ رک جائے گا۔ کیا لکھا جائے اور کیسے لکھا جائے!

جرگہ کیمپ بھر گیا ہے۔ کوئی رہنما اور نمائندہ غیر حاضر نہیں ہے۔ صوبے کا وزیر اعلی اور گورنر بھی پہنچ چکے ہیں۔تمام کیمپوں سے آئے ہوئے مطالبات جرگے کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔ اب پورے وطن سے آئے ہوئے مطالبات کو سامنے رکھ کر چند ایسے نکات پر اتفاق کرنا ہے جو تمام ضلعوں، طبقوں، نظریوں اور عقیدوں کے ماننے والوں کے بیچ مشترک ہوں۔ تین بجے شروع ہونے والی کاروائی ابھی رات دس بجے بھی جاری ہے۔

آج بازار میں پاوں رکھنے کو جگہ نہیں ہے۔ شہر کے بھرے بازار میں کھانے پینے کو جو ہوسکتا ہے وہ یہاں موجود ہے۔ آج کتابوں کے سٹال کل سے زیادہ ہیں۔ان سٹالوں پر پشتو اردو اور انگریزی زبان میں فکشن، شاعری، تاریخ، فلسفہ و سیاست کے علاوہ نیشنسلٹوں، کمیونسٹوں اور اسلامسٹوں کا لٹریچر بھی موجود ہے۔

جرگے سے باہر کچھ جوانوں نے آنسو گیس کے وہ شیل اور گولیوں کے خول جمع کر رکھے ہیں جو تین دن پہلے جرگے پر چلے تھے۔ انہوں نے شیلوں کی مدد سے زمین پی ٹی ایم اور امن لکھا ہوا ہے۔

ایک گول دائرہ کھینچ کر اس میں ایک جوان کے جوتے رکھے ہیں، جو اسی ہلے میں قتل ہوگیا تھا۔ جوتوں کے پاس گولی کا ایک خول رکھا ہے جس میں چھوتی سی ایک ہری شاخ اٹکائی ہوئی جو امن اور زندگی کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ احمد فراز کی نظم ‘مت قتل کرو آوازوں کو’ نوجوانوں نے زمین پر تصویر کردیا تھا۔

لوگ سوج ڈھلنے کے بعد جرگے کی طرف کشاں کشاں چلے آرہے ہیں۔ سٹیج کے عقب میں لوگ بھاری تعداد میں جمع ہوگئے ہیں۔ کوئی گاڑی آتی ہے تو لوگوں کو لگتا ہے منظور پشتین آگیا۔ وہ دوڑ پڑتے ہیں۔ مایوس ہوکر واپس آجاتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہیں علم نہیں ہے کہ منظور کہیں باہر نہیں ہے۔ وہ یہیں ایک طرف جرگہ کیمپ کے اندر موجود ہیں۔

ہم دماغ کو چائے کا دم لگا کر سٹیج کے عقب میں آگئے۔ بھرے سگریٹوں کی بہار تھی۔ ایک لڑکے سے پوچھا، کیا امید ہے؟ بولا، جو جرگہ طے کر لے وہ سر آنکھوں پر۔ لیکن مایوسی ہوئی تو پھر؟ جرگے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دل مانے یا نہ مانے ہم نے بڑوں کا فیصلہ قبول کرنا ہوتا ہے۔ اسی میں خیر ہوتی ہے ورنہ پھر تو انارکی ہے!

منظور پشتین سٹیج پر آگئے ہیں۔ ساتھ تمام قائدین اور نمائندے، وزیر اعلی اور گورنر بھی موجود ہیں۔ خیموں سے نکل کر لوگ میدان میں جمع ہوگئے ہیں۔ ریاضی کمزور ہے، ورنہ بتاتا کہ یہ کتنے لوگ ہیں۔

منظور پشتین پورے جرگے کے نمائندے کے طور پر اعلامیہ سنانے لگے ہیں۔ ذرا سا وقت بھی انہوں نے تمہید پر ضائع نہیں کیا۔ سیدھا پوائنٹ پر آگئے۔

منظور کا نعرہ لگتا ہے تو منظور فورا ٹوک دیتے ہیں۔ میرا نعرہ مت لگائیں۔ یہ سنگ میل پشتون قوم کے تمام مشران نے مل کر عبور کیا ہے۔ کسی کا کردار کم یا زیادہ نہیں ہے!

پورا اعلامیہ آپ تک پہنچ چکا ہے۔ چند نکات یہاں رکھتا ہوں!

* ہمارے علاقوں میں موجود فوج کی نفری اور باقی مسلح جتھے، جو ط الب ان اور داع ش یا دیگر ناموں سے جانے جاتے ہیں، دو ماہ میں یہاں سے نکل جائیں۔ نہیں نکلیں گے تو یہ جرگہ پھر اپنا فیصلہ سنائے گا۔

* کرم جیسے علاقوں میں موجود شیعہ سنی اتنازعات (ریاستی کاروبار) کے خاتمے کے لیے الگ سے ایک جرگہ تشکیل دا جائے گا۔

* ایکشن ان ایڈ سول پاور جیسے قانون کا خاتمہ کیا جائے گا۔ (اس قانون کے تحت سیکیورٹی فورسز کسی بھی شہری کو بنا کسی قانونی اور عدالتی کاروائی کے ایویں شوقیہ بھی اٹھا سکتی ہیں)

* صوبے میں قدرتی ذخائر کا تخمینہ لگایا جائے گا، جہاں باقاعدہ کسی ملک کی پارٹنرشپ میں کوئی پراجیکت چل رہا ہے اسے جاری رہنے دیا جائے گا۔ جہاں کسی ادارے کا قبضہ ہے، وہاں سے قبضہ چھڑایا جائے گا۔

* جن علاقوں میں ونی جیسی رسم (اس ارسم کے لیے منظور نے لفظ بدماشی استعمال کیا) جس میں کسی قتل میں لڑکیوں کو بطور دیعت پیش کی جاتا ہے، موجود ہے، وہاں اس رسم کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ (اس شق پر پنڈال میں دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ تالیوں کی شدت توقع سے کہیں بڑھ کر تھی)

* بارڈر کو پرانے طرز پر بحال کیا جائے تاکہ مقامی لوگ آزادانہ طور پر دو طرفہ تجارت میں حصہ لے سکیں۔ اس کے لیے ویزہ پاسپورٹ جیسی زحمتوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔

پشتون قوم کا جرگہ سکھ سلامتی اور امن شانتی کے ساتھ انجام کو پہنچ گیا۔

مہمند ایجنسی کے کیمپ میں کچھ دوست گپ شپ کر رہے تھے اور ساتھ ہی ایک سفید ریش بزرگ نماز پڑھ رہے تھے۔۔ نماز ختم کرکے دوستوں کی گفتگو کا حصہ بنتے ہوئے بولے،

آخرت سنوارنے کے لیے ہر سال یہاں تبلیغی اجتماع ہوتا ہے۔ دنیا سنوارنے کے لیے خیبر جرگہ بھی ہر سال ہونا چاہیے!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے