انگریزی کا محاورہ ہے کہ قبرستان ناگزیر افراد سے بھرا پڑا ہے۔ شیکسپئیر دنیا کو ایک اسٹیج اور انسانوں کو محض کردار کہتا ہے جہاں ہر ایک آتا ہے اور اپنا متعین رول ادا کرکے رخصت ہوجاتا ہے۔ ثبات اک تغیر کو ہے اور ہر ذی نفس نے کمال پہ پہنچ کر رو بہ ذوال ہونا ہے۔
ہماری تعمیر میں یہ صورتِ خرابی مضمر تھی کہ ہمارے ملک کا خواب دیکھنے کا کریڈٹ ایک شخص کو گیا اور اس کی عملی تعبیر بھی ایک شخص کی مرہونِ منت ہے۔ آج ان حوالوں سے انہیں 2 کی Hero-worshiping ہو رہی ہے۔ یہ خواب بہت سارے لوگوں نے دیکھا تھا، لکھا تھا اور ایک روڈ میپ بھی دیا تھا۔ اس خواب کو عملی جامہ پہنانا بھی ایک شخص کے بس کا روگ نہ تھا۔ ایک طرف دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی بدلتا منظر نامہ، ہندوستان میں برطانیہ راج کا غروب ہوتا سورج، ہندوستان کے زمینی حقائق اور کروٹ لیتی صورت حال، مسلمانوں کے سیاسی اور سماجی حل طلب مسائل کی مسدود ہوتی راہیں، جیسے عوامل کارفرما تھے تو دوسری طرف مسلم لیگ کی ایک بڑی جماعت اور اس کے اہم رہنماء پیش پیش تھے۔ تب کہیں جا کر یہ خواب شرمندہء تعبیر ہوا۔ مگر ہم نے اپنی آسانی کے لیے ایک شخص کو ناگزیر ٹہرا کر اس کا نام رٹ لیا اور امتحانی پرچوں میں لکھتے رہے۔
یہ خواب دیکھنے والا پاکستان کو دیکھ نہ پایا۔ جس نے تعبیر ڈھونڈی، وہ بھی ایک سال سے زیادہ نہ رہا۔ اس ملک کو بننا تھا۔ اس ملک کو چلنا تھا۔ سو یہ بنتا اور چلتا رہا مگر یہاں جو بھی آیا، اس نے اپنے آپ کو ناگزیر خیال کیا۔ چار وزراء کو دو سالوں میں فارغ کرنے والے اور آئین منسوخ کرکے مارشل لاء کی راہ ہموار کرنے والے اسکندر مرزا کا جب اپنا بوریا بستر گول کرکے دیس بدر کیا گیا تو انہیں پتا چلا کہ وہ ناگزیر نہ تھا۔ وہ خدا کا نور، مہرِ صبح نو، جس کے وجود سے ملک کی نجات اور سدا صدر رہنے کی دعا تھی، وہ ایوب خان بھی ماضی کا مزار بن گیا۔ کل تلک جس ساقی کے گردش میں جام تھے، آج اس کو رونے والا بھی کوئی نہیں۔ کرشماتی شخصیت رکھنے والے شعلہ نوا بھٹو کی پھانسی پر کوہِ ہمالیہ نہ رویا اور ضیا کا وہ چراغِ کُشتہ شہابِ ثاقب کی طرح ہوا میں تحلیل ہوگیا۔ فوج اور اس فوج کا ملک ایسے ہی چلتا رہا۔ کوئی قیامت برپا نہ ہوئی۔ دو تہائی اکثریت والے نواز شریف نے خود کو امیرالمومنین بن کر امر کرنا چاہا تو جدہ ائرپورٹ پر پیچھے مڑ کر زبانِ حال سے کہا: نواز خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں؟
ایک قدیر خان کو ہم نے ایسا ناگزیر بنایا کہ سارا ایٹمی پروگرام انہیں کے کھاتے میں ڈال دیا اور جو دوسرے سائنس دان، حکومتی سپورٹ تھا، سب پسِ منظر میں چلا گیا۔ اے کیو خان کو بھی محسوس ہوا کہ گر میں تنِ تنہا اس ملک کو ایٹمی طاقت بنا سکتا ہوں تو زمام کارِ سیاست اپنے ہاتھ میں لے کر کیا کچھ نہیں کر سکتا۔ سو ایک پارٹی بنا ڈالی جس کا نام بھی اس وقت ذہن میں نہیں آرہا۔
چیف جسٹس افتخار چودھری کے ساتھ ہیرو پلینگ ہوئی۔ ریشمی عبایا پہنا کر مسندِ انصاف پہ بٹھایا مگر وہ بھی اس سسٹم کا ایک حصہ رہ کر رخصت ہوا۔ ستم یہ کہ قدیر خان کی طرح انہوں نے بھی اپنے آپ کو ناگزیر جان کر پارٹی بنا لی۔ نہ آج پارٹی کا اتاپتا ہے اور نہ ناقابلِ تسخیر سمجھنے والی شخصیت کا۔
پرویز مشرف بھی راہِ عدم ہوئے۔ عمران خان اچھا کھلاڑی اور کپتان تھا۔ شوکت خانم اور نمل ان کے بڑا کارنامے ہیںَ۔ مگر اتنا بڑا آدمی اگر کسی دوسرے ملک میں ہوتا تو اس کو انہیں کارناموں اور اپنے کاموں تک محدود رکھا جاتا۔ بل گیٹس، ایلن مسک کوئی نئی پارٹی نہیں بنا رہے۔ سیاست سے دور ہیں۔ اگر وہ اس میدان میں قدم رنجه فرمائیں تو گورے لوگ حیرت و استعجاب سے مر جائیں۔ ہم تو وہ مغل زادے ہیں جس پر مرتے ہیں، اس کو مار رکھتے ہیں۔ کچھ تو ہم عوام بھی ظالم ہیں مگر کچھ انہیں بھی منیر نیازی کی طرح مرن دا شوق یعنی ناگزیر ہونے کا گھمنڈ ہوتا ہے۔
اتنی بڑی فوج میں کیسے کیسے قابل اور اہلیت رکھنے والے جرنیل ہوں گے۔ کیانی نے قد آدم آئنے میں اپنا آپ دیکھا تو دل ہار بیٹھا اور اپنا سا منا لے کر رہ گیا۔ توسیع چاہی۔ حالات تو ایسے نہ تھے مگر یہ سوچ دامن گیر تھی کہ میرے بعد وطنِ عزیز کا کیا ہوگا؟ راحیل شریف کی ایک ایسی لارجر دین لائف تصویر تراشی کہ ایک عام انسان کو دیوتا بنا دیا۔ اس کو بھی ایکسٹنشن کی ضرورت محسوس ہوئی مگر نہ ملی۔ ملک کی جو صورتِ حال تھی، وہی رہی۔ باجوہ آیا۔ بقول ایک ستم ظریف، عجب سین ہوا۔ اپنی مدت پوری کرنے کے بعد ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر بیٹھ گیا کہ "مانا کہ ہمیشہ نہیں، اچھا کوئی دن اور”۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ قانون منع کرتا ہے۔ اسی طرح ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر کہہ دیا کہ قانون بنا دو۔ ساری اپوزیشن اور حکومت نے مل کر راتوں رات قانون بنا دیا۔ دعویٰ کہ اس ادارے میں ایک سے بڑھ کر ایک اہلیت و صلاحیت کا پیکر موجود ہے۔ ان میں جو چیف بنتا ہے، اس کو اپنے آپ میں ایک ناگزیر شخص کی دیوتائی تصویر کیوں نظر آتی ہے۔
فیض حمید، عمران خان کے لیے بطورِ ڈی جی آئی ایس پی آر ناگزیر ہوگیا تو ادارے کے لیے اس کو آرمی چیف بنانے کے لیے کوائف پورے کرنے کی پڑ گئی۔ ٹھن گئی۔ جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ اچھا نہ ہوا۔ نہ ادارے کے لیے، نہ عمران خان اور نہ ہی فیض حمید کے لیے۔ باجوہ چلا گیا۔ فیض حمید کا بانکپن ماند پڑ گیا۔ تب ایک دوسری طرح کا سرکس لگا۔ نیا چیف آف آرمی اسٹاف کسے بنایا جائے؟ پی ٹی آئی کو یہ اندازہ تو ہو گیا تھا کہ فیض حمید کا فیضِ خاص اب نہیں ہو سکتا۔ پھر کس کا؟ عاصم منیر؟ وہی جس کو آئی ایس پی آر کے عہدے سے ہٹایا تھا، وہی جس کے ساتھ عمران خان کی چشمک تھی۔ اب اس ایک شخص کو آرمی چیف ہونے سے کیسے روکا جائے؟ فوج کے اندر بغاوت کی فضا سے لے کر فوجی تنصیبات نشانہ بنانے اور بڑے فوجی بھائیوں کی حویلیوں میں گھس کر مور چرانے تک، ایک خون چکاں داستاں رقم کر دی۔ کیوں کہ ایک شخص کا راستہ روکنا تھا۔
مسندِ انصاف پہ بیٹھے منصفوں کی کہانی افتخار چودھری سے نہ شروع ہوتی ہے اور نہ ان پر ختم ہوتی ہے۔ کوئی ڈیم بابا ثاقب نثار کو کیسے بھول سکتا ہے۔ یا ایک ناگزیر شخص کو تخت نشیں کرنے کے لیے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے منصفین کو۔ عمر عطا بندیال نے جو بندر بانٹ کی اور عدالت کو تماشا کوچہ و بازار بنایا، وہ اپنی مثال آپ تھا۔ وہ وراثت میں ایک شکست خوردہ ، دھڑا بندی کا شکار اور ٹولوں میں بٹی عدالت چھوڑ گئے۔
قاضی صاحب سے کافی توقعات تھیں کہ پریشاں تسبیح کے دانوں کو اک دھاگے میں پروئیں گے اور مسندِ انصاف کے چہرے کے کالک کو مٹائیں گے۔ مگر آج قاضی وہی عدالت چھوڑ کر جا رہے ہیں جو عمر عطا بندیال نے اس کے سپرد کی تھی۔ مگر اب کہ یہ سوال آن کھڑا ہے: قاضی جا رہا ہے کہ آ رہا ہے؟
کچھ دن پہلے چیف جسٹس نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی ایکسٹینشن نہیں لے گا۔ یعنی اس آئینی ترمیم کا انہیں کچھ فائدہ نہیں ہونے والا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا اگلا چیف جسٹس منصور علی شاہ ہوگا؟ کیا آئنی ترمیم پاس ہونے کے بعد قاضی سچ مچ میں حج عمرہ کو نکل جائیں گے؟ کیا نئی وفاقی آئینی عدالت کا عہدہ بھی قبول نہیں کریں گے؟ یہ سارے سوالات اپنی جگہ موجود ہیں اور ہفتہ دس دن میں صورتِ حال واضح ہو جائے گی۔ فی الحال مسندِ انصاف اور اس کے متوالوں کے باب میں تین چیزیں عیاں و پریشاں ہیں۔ ایک نئی وفاقی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور یہ عدالت حکومت کا کام آسان اور سپریم کورٹ کا کام مشکل کرے گی۔ دوسری چیز یہ کہ چیف جسٹس کا انتخاب حکومتِ وقت کرے گی۔ اور آخری یہ کہ ججوں کی رٹائرمنٹ ایج بڑھا دی جائے گی۔ قطعِ نظر اس کے کہ گنبدِ نیلوفری کیا رنگ بدلتا ہے، اتنی بات صاف اور واضح ہے کہ یا تو ایک شخص کے عتاب سے بچنے کے لیے یہ سب ہو رہا ہے یا ایک شخص کے راستے سے کانٹے ہٹا کر پھولوں کی سیج سجانے کے لیے۔
ایک شخص آج پھر ناگزیر ٹہرا ہے۔ ایک شخص کی خاطر پھر قانون ساز، آئین سازی میں جُت گئے ہیں۔ یہ اگر چلا گیا تو انجامِ گلستان کیا ہوگا؟ یہ سوال existential threat بن گیا ہے کہ اس کے چلے جانے سے موجودہ بندوبست (dispensation) لرزہ بر اندام ہو جائے گا اور قیدی نمبر آٹھ سو سمتھنگ پر درِ قفس کھل جائے گا۔ 63 اے کی شق کا معاملہ ہو، انتخابی نشان سے پی ٹی آئی کو محروم رکھنے کا فیصلہ ہو یا مخصوص نشستوں کا مقدمہ ہو، ان سب خدشات و امکانات پر بے یقینی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ یہ اندیشہ ہائے دور دراز ایک مہم میں ڈھل گیا ہے۔ ہماری حکومت اس بھاگ دوڑ میں لگ گئی ہے کہ جو کرنا ہے، پچییس اکتوبر سے پہلے پہلے کرنا ہے۔
26 ویں آئنی ترمیم اگر پچیس کے بعد منظور ہوگئی تو اس کا فائدہ کیا؟ یادش بخیر۔ جب موجودہ چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری ہو رہی تھی وہیں پر عمران خان نے احتجاج کی کال دے رکھی تھی اور اسی دوران کشمیر میں الیکشن ہو رہے تھے۔ سابق وزیر اعظم کشمیر نے خان سے استدعا کی کہ آپ اپنا لانگ مارچ ملتوی کر دیں۔ خان نے مدبرانہ انداز میں کہا: ہمیں عاصم منیر کو آرمی چیف بننے سے روکنا ہے۔ وہ آگیا تو مارچ کا کیا فائدہ؟
تھوڑے سے رد و بدل کے ساتھ وہی ڈائلاگ ہے۔ اگر یہ شخص چلا گیا تو پھر ترمیم کا کیا فائدہ؟ یہی تو اک آس، اک پاس باقی ہے۔ منحصر اک قاضی پہ ہو جس کی امید، نا امیدی اس کی دیکھا چاہئے۔