لاہور جی پی او کے سامنے تانگوں کا اڈہ ہوا کرتا تھا۔ وہاں ایک تانگے والے کو ایک سواری نے کرشن نگر تک چلنے کو کہا اور تانگے میں سوار ہو گیا۔ وہ ایک نوجوان تھا جو شکل و صورت او حلیے سے خاصا معزز دکھائی دے رہا تھا۔ کرشن نگر پہنچ کر اس نوجوان نے تانگے والے کے ساتھ کرائے کی بحث چھیڑ دی۔ اچھی خاصی تکرار کے بعد جب نوجوان کو اور کوئی ترکیب نہ سوجھی تو اس نے جیب سے کارڈ نکالا اور تانگے والے کو دکھاتے ہوئے کہنے لگا۔ "تم لوگوں نے جو زیادتی کا بازار گرم کر رکھا ہے اس کی خبر کل تمہارے نام کے ساتھ اخبار میں آئے گی” اور پھر وہ کچھ فخریہ انداز میں گویا ہوا” میں صحافی ہوں” یہ بات سن کر تانگے والے نے تانگے سے اترنے کی زحمت کیے بغیر ہی جیب سے کارڈ نکالا اور نوجوان کو دکھا کر بولا ” میں اسی اخبار کا چیف ایڈیٹر ہوں جس کے تم صحافی ہو.”
گزشتہ کچھ برسوں سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس والہانہ انداز میں صدر پاکستان کی جانب سے ایوارڈز کی بارش کی گئی ہے اس سے یہ خدشہ لاحق ہو چکا ہے کہ ایوارڈز اور ستارے چھاپنے اور بنانے والی فیکٹری کا کثرت استعمال کی بدولت کہیں سانچہ ہی ٹیڑھا نہ ہو جائے۔
ہماری ترجیحات کیا ہیں آپ اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماضی میں ایک ایوارڈ حصہ داری کی بنیاد پر بھی عطا فرمایا گیا اور ساٹھ برس تک اردو ادب کی خدمت کرنے والے جناب مستنصر حسین تارڑ صاحب کو کمال فن کا سانجھا ایوارڈ دیا گیا۔ انہیں کہا گیا کہ آدھا ایوارڈ ممتاز شاعر جناب اشو لال صاحب کا ہے۔ کمال فن ایوارڈ کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک ادیب اور ایک شاعر دونوں کو ایک ہی ایوارڈ میں بھگتا دیا گیا جس پر اشو لال صاحب اور مستنصر حسین تارڑ صاحب نے اپنے اپنے حصے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرتے ہوئے ایوارڈ دینے والوں کو یہ پیغام دیا کہ ادیب اور شاعر ٹماٹر کے ساتھ مفت ملنے والا دھنیا نہیں نہ ہی اتنے گئے گزرے ہیں کہ ان کے کمال اور فن کے ایوارڈ کو دونوں کے مابین ریڈ کلف ایوارڈ کی لکیر کی مانند کھینچا جائے۔ آج تک ہر ادیب ہر شاعر اس خوش فہمی میں مبتلا رہا ہے کہ ان کے لکھنے سے قوم تہذیب سے آشنا ہو کر اپنی ترجیحات درست اور بہتر بنائے گی لیکن قوم کے رہنماؤں نے یہ ثابت کیا ہے کہ جتنا مرضی زور لگا لو میاں ہم سدھر گئے تو اپنے باپ کے سگے نہیں۔ حال ہی میں جس انداز سے ایوارڈز جن جن شخصیات کو نوازے گئے ہیں اس سے یہ خدشہ لاحق تھا کہ کہیں راقم الحروف کو ذاتی رہائش گاہ پر صدر پاکستان کی جانب سے ایوارڈ بذریعہ ڈاک ارسال نہ کر دیا جائے اسی خوشی اور خوف میں ناچیز پلک جھپکنے کے لیے بھی گھر سے باہر نہیں جا پا رہا کہ کچہری تک یا مبادا گھر کے برابر میں دھوبی کی دکان تک جاؤں اور ڈاکیا دہلیز کو پہنچ کر واپس پلٹ جائے۔ صدر پاکستان کو چاہیے کہ پچیس کروڑ میں جس جس کو ایوارڈ اس سال نہیں دیا گیا اسے مطلع فرما دیں تا کہ ہم اپنے روز مرہ کے کام کاج تسلی سے سر انجام دے سکیں۔
اسی طرح ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ مجھے اگر ایوارڈ سے نواز بھی دیا گیا تو مذکورہ بالا اس صحافی کی طرح کہیں یہ نہ ہو کہ میرا منشی اس بات پر فخر کرے کہ اگر وہ صدر پاکستان کو ریکمنڈیشن نہ بھیجتا تو میرا ایوارڈ جاری ہی نہ ہوتا۔