بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) چین کی جانب سے شروع کی گئی ایک بڑی اقتصادی اور تجارتی پہل ہے، جس کا مقصد یوریشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک کے درمیان تجارت اور تعاون کو بڑھانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں جیسے کہ سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔
چین کی جانب دنیا کے ممالک کو آپس میں جوڑنے کے اس بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI)منصوبے سے تقریباً 140 سے زائد ممالک منسلک ہیں۔ یہ ممالک ایشیا، یورپ، افریقہ، اور لاطینی امریکہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔ چین نے ان ممالک کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ تجارت اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹ کے اس منصوبے کا بنیادی مقصد منسلک ممالک کو سڑکیں، ریلوے، بندرگاہیں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی سہولیات فراہم کرنا ہیں ، جو ان کی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں۔اور تجارت میں اضافہ کرتا ہے یہ منصوبہ تجارتی راستوں کو مختصر اور موثر بناتا ہے، جس سے ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسکے علاوہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور تجارت میں اضافے سے ممالک کی معاشی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔اور ان منصوبوں کے نفاذ کے دوران روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں، جو مقامی آبادی کے لیے فائدہ مند ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی تعاون BRI ممالک کے درمیان تعاون کو بڑھاتا ہے، جس سے علاقائی استحکام اور ترقی کو فروغ ملتا ہے۔ اور توانائی کے منصوبوں جیسے کہ پاور پلانٹس اور توانائی کی ترسیل کے نظام کی تعمیر سے ممالک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملتی ہے۔
مثال کے طور پر بولیویا کا پہلا جدید انٹیگریٹڈ اسٹیل پلانٹ لے لیجئے جس نے اپنی پیداوار فروری کے آخر میں شروع کر دی ہیں۔ سالانہ 200,000 ٹن کی صلاحیت کے ساتھ، اس پلانٹ سے ہزاروں نوکریاں پیدا ہونے کی توقع ہے اور اس سے گرد و نواح کے اسٹیل پروڈکٹ پروسیسنگ انڈسٹریز کی ترقی میں مدد ملے گی۔بولیویا کی صنعتی ترقی میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتے ہوئے، یہ منصوبہ چین-بولیویا کی صلاحیتی تعاون کی کامیابیوں کو بھی ظاہر کرتا ہے جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کے تحت ہوا ہے۔
تیزی سے بڑھتے ہوئے ممالک انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے لیے ایک کمیونٹی بنانے میں فعال طور پر حصہ لے رہے ہیں۔ 100 سے زیادہ ممالک گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو (GDI)، گلوبل سیکیورٹی انیشیٹو اور گلوبل سولائزیشن انیشیٹو کو سپورٹ کرتے ہیں، جبکہ دنیا کے تین چوتھائی سے زیادہ ممالک بیلٹ اینڈ روڈ تعاون میں شامل ہو چکے ہیں۔
2013 میں متعارف ہونے کے بعد سے یہ منصوبہ اب مشترکہ مستقبل کے تصویر کو حقیقت میں بدل رہا ہے اور بین الاقوامی اتفاق رائے سے ٹھوس نتائج مرتب کر رہا ہے.
بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کے اہم منصوبے – جیسے سیہانوک وِل اسپیشل اکنامک زون، جکارتہ-بانڈونگ ہائی سپیڈ ریلوے، چین-پاکستان اکنامک کوریڈور، چین-یورپ ریلوے ایکسپریس اور نیو انٹرنیشنل لینڈ-سی ٹریڈ کوریڈور – علاقائی اور عالمی سطح پر تجارت اور معاشی ترقی کے اہم محرک ہیں۔
بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کے تحت چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) پاکستان کے لیے ایک اہم منصوبہ ہے۔ CPEC پاکستان اور چین کے درمیان ایک معاشی راہداری ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تجارت، توانائی، اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے پاکستان کو متعدد فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔
سی پیک کے تحت پاکستان میں سڑکوں اور ریلوے کے نیٹ ورک کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن کی اپ گریڈیشن شامل ہے۔ 6 ارب 70 کروڑ ڈالر کے اس منصوبے کے تحت کراچی سے پشاور تک 1726 کلومیٹر ڈبل ٹریک کو اپ گریڈ کیا جائے گا، جس کے بعد شہریوں کو ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک سفر کرنے کے دوران وقت کی بچت ہوگی، ریلوے کی جانب سے سامان کی نقل و حرکت میں بھی کم وقت صرف ہوگا۔
اسکے علاوہ گوادر بندرگاہ کی ترقی سے پاکستان کو ایک اہم تجارتی مرکز بنانے میں مدد مل رہی ہے۔ یہ بندرگاہ چین کے لیے بحیرہ عرب تک رسائی کو آسان بناتی ہے اور پاکستان کے لیے تجارت کو فروغ دیتی ہے۔ اور پاکستان کے علاقائی رابطوں کو فروغ مل رہا ہے ۔ سی پیک پاکستان کو وسطی ایشیا، مشرق وسطیٰ، اور چین کے ساتھ جوڑتا ہے، جس سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے راستے کھل رہے ہیں۔
CPEC کے تحت پاکستان میں متعدد توانائی کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں کوئلہ، ہوا، شمسی، اور ہائیڈرو پاور پلانٹس شامل ہیں۔ ان منصوبوں سے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکلنے میں مدد ملی ہے۔مثال کے طور پر، ساہیوال کوئلہ پاور پلانٹ، کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ (K-2, K-3)، اور دیامر بھاشا ڈیم جیسے منصوبے توانائی کی پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں۔ چین سے ٹیکنالوجی اور مہارتوں کی منتقلی سے پاکستان کی مقامی صنعتوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔
سی پیک کے منصوبوں سے پاکستان کی معیشت کو فروغ مل رہا ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور توانائی کے منصوبوں سے صنعتوں کو تقویت ملتی ہے،اور سی پیک ے تحت چلنے والے منصوبوں سے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے مواقع مل رہے ہیں، جس سے معیار زندگی بہتر ہو رہا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان پر 25 جنوری کو شائع ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) 21ویں صدی کا اہم ترقیاتی اور سفارتی اقدام ہے،اس کے تحت 29 ارب ڈالر کے 36 منصوبے مکمل ہوچکے جبکہ 22 پر کام جاری ہے،چین عالمی سطح پر 3000 بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) منصوبوں میں ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرچکا اور 40 ملین سے زیادہ لوگوں کو غربت سے نکال کر ان کی زندگی پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں.
اسکے علاوہ چین کی جانب سے پیش کردہ گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو بھی ایک بڑا پروگرام ہے ، جس کا مقصد دنیا کی مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا حصول ہے ، اور یہ دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کی خواہشات و توقعات کے عین مطابق ہے۔چین اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کی تکمیل کے لیے اپنی دانشمندی اور چینی حل کے ذریعے عالمی تعاون اور مشترکہ ترقی کا ایک نیا دروازہ کھول رہا ہے.
2025 کے آغاز میں، چین کے گلوبل ڈویلپمنٹ انیشیٹو کے گروپ آف فرینڈز اور اقوام متحدہ کے درمیان پہلا پالیسی ڈائیلاگ نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔ اقوام متحدہ میں چین کے نائب مستقل نمائندے گنگ شوانگ اور اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل حنیف نے اجلاس میں شرکت کی اور تقریریں کیں۔ اجلاس میں 40 سے زائد ممالک اور اقوام متحدہ کی تقریباً 20 ایجنسیوں کے 100 سے زائد نمائندوں نے شرکت کی اور بین الاقوامی ترقیاتی تعاون میں چین کی قیادت کی تعریف کی گئی۔