اسلام آباد: پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی بےدخلی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔
پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلاء کی 31 مارچ 2025 کی ڈیڈلائن ختم ہو چکی ہے اور حکومت نے آج سے ان کی بےدخلی کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق عید کی تعطیلات کے باعث یہ عمل یکم اپریل کو شروع نہیں ہو سکا تھا لیکن اب ملک بھر میں غیر قانونی افغان شہریوں کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کی تعداد کتنی ہے؟
جیو نیوز کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت مجموعی طور پر 21 لاکھ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں جب کہ وزارت سیفران کے ذرائع کے مطابق 14 لاکھ افغان مہاجرین قانونی طور پر رجسٹرڈ ہیں اور 8 لاکھ افغان شہری ایسے ہیں جو ’افغان سٹیزن کارڈ‘ رکھتے ہیں لیکن ان کے قیام کو اب غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب حکومت کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں کل 30 لاکھ افغان مہاجرین موجود ہیں جنہیں رواں سال غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کی بے دخلی پلان کے تحت واپس بھیجا جائے گا۔
پاکستان میں مقیم قانونی اور غیر قانونی افغان باشندوں کی تقسیم کیا ہے؟
پاکستان میں دہائیوں سے مقیم افغان باشندوں کی 4 اقسام ہیں۔
پہلی قسم وہ افغان شہری ہیں جو ریفیوجی کے طور پر افغانستان میں بدامنی کی وجہ سے پاکستان آئے اور ان کو 2007 میں پاکستان میں شناخت کے کارڈز کا اجراء ہوا۔ ان پروف آف رجسٹریشن کارڈز (proof of registration cards) کے حامل افغان باشندوں کی تعداد 13 لاکھ ہے، حکومت کی جانب سے ان کارڈز کا اجراء ایک ہی مرتبہ کیا گیا، وقتاً فوقتاً تجدید کی گئی اور ان کی معیاد اس سال 30 جون کو مکمل ہو رہی ہے۔
دوسری قسم ان افغان باشندوں کی ہے جن کو افغان سٹیزن کارڈز جاری کیے گئے اور وہ رجسٹرڈ غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہری تصور ہوتے ہیں، ان کارڈز کا اجراء تقریباً 8 لاکھ افغان باشندوں کو 2016 میں کیا گیا اور اب ان کو واپس بھیجنے اور بےدخلی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
تیسری قسم وہ افغان شہری ہیں جو 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد فرار ہو کر پاکستان آئے اور ان افراد کو بین الاقوامی طرز پر پاکستان میں پناہ دی گئی۔
حکومت پاکستان کا دعویٰ تھا کہ 6 لاکھ افغان شہریوں کو 2021 میں امریکی انخلاء کے بعد پاکستان نے پناہ دی جب کہ اقوام متحدہ ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق 2021 میں 2 لاکھ افغان پناہ گزین پاکستان آئے اور رجسٹر ہوئے۔
حکومت نے غیر قانونی افغان مہاجرین کو عارضی طور پر رکھنے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں 54 ریفیوجی کیمپ قائم کیے ہیں
چوتھی قسم وہ افغان باشندے ہیں جوغیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم ہیں، ان کے پاس پاکستان کا پروف آف رجسٹریشن کارڈ ہے نا ہی افغان سٹیزن کارڈ اور نا ہی یہ باشندے 2021 میں آنے والے پناہ گزین میں رجسٹرڈ ہیں جبکہ ان میں وہ بھی شامل ہیں جو پاکستان آئے اور یہاں آ کر شادیاں کر لیں اور شہریت حاصل کر لی۔
ان افراد نے جعلی شناختی کارڈ بنوائے جو 2 سال سے نادرا کی جانب سے شروع نادرا قومی تجدید و تصدیق مہم کے ذریعے کینسل ہو رہے ہیں اور اب ان کو غیر قانونی تصور کیا جا رہا ہے۔
کیا حکومت نے افغان مہاجرین کے لیے کوئی متبادل بندوبست کیا ہے؟
حکومت نے غیر قانونی افغان مہاجرین کو عارضی طور پر رکھنے کے لیے ملک کے مختلف حصوں میں 54 ریفیوجی کیمپ قائم کیے ہیں، جن میں خیبرپختونخوا میں مختلف اضلاع میں 43 کیمپ، پنجاب میں 10 کیمپ اوربلوچستان میں 1 کیمپ قائم کیا گیا ہے۔
ان ریفیوجی کیمپس میں خوراک، رہائش، پرائمری اسکول اور بنیادی صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی سہولیات پر سوال اٹھا رہی ہیں۔
اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی تشویش
حکومتی اقدامات کے بعد مہاجرین میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے اور کئی افغان باشندے جو دہائیوں سے پاکستان میں مقیم ہیں، اچانک بےدخل کیے جانے کے خوف میں مبتلا ہیں جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے زبردستی بےدخلی پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔
افغان مہاجرین کی پروقار اور رضاکارانہ واپسی ناگزیر ہے، اقوام متحدہ
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق، "پاکستان میں کئی افغان مہاجرین ایسے ہیں جنہیں اپنے ملک میں شدید خطرات لاحق ہیں، ان کی جبری واپسی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔” جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کا کہنا ہے کہ افغان باشندوں کی پروقار اور رضاکارانہ واپسی ہونی چاہئے جو دیرپا بھی ثابت ہو۔