مہنگائی کا نیا طوفان

اسلام آباد: نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی مہنگائی میں کمی کی امیدوں کے برعکس اضافے کے خدشات نے سر اٹھا لیا ہے، جس سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

وزارت خزانہ کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں مہنگائی کی اوسط شرح 7.1 فیصد رہی، جو اس سے پہلے سال کے 4.5 فیصد کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے، جبکہ جون میں یہ شرح بڑھ کر 11.1 فیصد تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے پہلے مہینے جولائی میں مہنگائی 9 سے 10 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ بیرونی شعبے کے استحکام کی توقع ظاہر کی گئی ہے، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی افراطِ زر کے لیے نیا خطرہ بن سکتی ہے۔

اس کے باوجود معاشی سرگرمیوں کی بحالی کا عمل جاری ہے اور مجموعی معاشی استحکام برقرار رہنے کی امید بھی ظاہر کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران ترسیلات زر 41 ارب 60 کروڑ ڈالر رہیں، جبکہ برآمدات 30 ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں، اور ریونیو میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے، تاہم اگر معاشی استحکام قائم رہا تو آئندہ مہینوں میں بہتری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے