تناؤ اور پریشانی کو شکست دے اور جینا شروع کریں

تناؤ اور طویل پریشانیوں پر ایمان، مطالعے اور بامقصد تعمیری سرگرمیوں کے ذریعے قابو پائیں ورنہ زندگی وبال جان بن کر رہ جائے گی۔

بات بات پر شدید غصے میں آنا، رغبت سے کھانا پینا ترک کرنا، میٹھے اور نرم لہجے میں بات چیت سے قاصر ہونا، اپنی ذات اور مستقبل کے بارے میں طرح طرح کے خدشات کا احساس، اکثر و بیشتر اپنے متعلقین سے شکوہ کناں رہنا، دماغ پر منفی سوچوں کا یلغار، متشدد رویوں کو اپنانا، ذہنی بے چینی کا سامنا، روحانی نا آسودگی کو محسوس کرنا، دل ہی دل میں غیر حقیقی توقعات پالنا، پانا لیکن سیر نہ ہونا اور کھونا لیکن پرواہ نہ کرنا، بھری دنیا میں تنہائی کا شکار ہو کر رہ جانا وغیرہ وغیرہ شدید تناؤ اور طویل پریشانی کی وہ گہری علامتیں ہیں جنہوں نے لمحہ موجود میں بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو سخت اذیت سے دو چار کیے ہوئے ہیں۔

یہ سب وہ سنگین نتائج ہیں جو کہ تناؤ کے گہرے عارضے اور طویل پریشانیوں سے آج کے انسان اور بالخصوص نوجوانوں کو لاحق ہو گئے ہیں اور جو آگے چل کر زندگی، صحت، صلاحیت اور خوشی کے لیے ٹھیک ٹھاک زہر قاتل بنتے ہیں۔ ایک صحت مندانہ، خوش گوار، بامقصد اور کار آمد زندگی کے لیے ضروری ہے کہ ان عوارض پر جلد از جلد قابو پا کر درست ٹریک پر آ جائیں ورنہ زندگی معنی اور لطف دونوں کہیں کھو دے گی اور ان عوارضات کے متاثرین بالکل خالی ہاتھ رہ جائیں گے۔

آئیے ایمان، مطالعے اور باقاعدہ تعمیری سرگرمیوں میں شرکت ایسی حقیقتوں کے ذریعے گہرے تناؤ اور طویل پریشانیوں سے چھٹکارا پانے کے امکان کو افادہ عام کے غرض سے زیر بحث لاتے ہیں کیا بعید گرد و پیش میں زندگی سے مایوس حضرات، کہیں نہ کہیں سے زندگی کا سراغ پانے میں کامیاب ہو۔

زندگی، کائنات اور جو کچھ ان کے درمیان پایا جاتا ہے ان سب کو اللہ کی تخلیق اور منصوبہ بندی، یقین کرتے اس کے منشاء کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرنا، ایمان کہلاتا ہے۔ ایمان محض ایک عقیدے کا نام نہیں، بلکہ یہ زندگی، دل، روح اور سلوک کا ایک ایسا زندہ تجربہ ہے جو کہ انسان کو اللہ سے جوڑتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

"اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ، اَلَا بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ "وہ لوگ جو ایمان لائے ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، سن لو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے”۔

ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ بندے کو اللہ کے ساتھ ایک گہرے رشتے میں منسلک کرتا ہے، جس میں بیک وقت یقین، عمل، اخلاق، اعتماد، محبت، خلوص، عبادت اور تسلیم و رضا سمیت بہت کچھ شامل ہوتے ہیں۔ خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ "ایک بار حضرت جبرائیل علیہ السلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا "ایمان کیا ہے؟” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا "ایمان یہ ہے کہ تم اللہ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں، روزِ آخرت اور تقدیر کے اچھے اور برے پر ایمان لاؤ”۔ (صحیح مسلم)۔ حقیقی ایمان وہ ہے جو محض زبانی دعوی نہ ہو، بلکہ یہ باقاعدہ اچھے اعمال، سچے کردار، میٹھے اخلاق، کھرے جذبات اور خیر خواہانہ احساسات میں ظاہر ہو۔ ایمان کی تکمیل صبر، شکر، محنت، محبت، خدمت اور احسان سے ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے "کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف اتنا کہہ دیں کہ ہم ایمان لائے اور انہیں آزمایا نہیں جائے گا؟” (العنکبوت: 2)۔ اس لیے ایمان ایک مستقل سفر ہے جس کا تعلق پوری زندگی اور اس کی مختلف حقیقتوں سے ہے، جن میں قربانیاں بھی ہیں اور آزمائشیں بھی، جدوجہد بھی ہے اور کامیابیاں بھی، اخلاق و کردار کے امتحان بھی ہیں اور روحانی ارتقا کا سامان بھی۔ ایمان دل کی گہرائیوں سے اللہ پر بھروسہ، اس کے احکام کی پیروی کا عزم اور آخرت کو ترجیح اول بنانے کا نام ہے۔ یہی وہ نور ہے جو انسان کو شقاوتوں، ظلمتوں، مایوسیوں اور حسرتوں سے نکالتا ہے اور اسے حقیقی کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔

آج کل کے تیز رفتار، پیچیدہ اور مسابقتی دور میں نوجوانوں کو طرح طرح کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ مثلاً انہیں تعلیمی دباؤ لاحق ہے، کیریئر کے چیلنجز درپیش ہیں، سماجی توقعات اور ذاتی مسائل میں ایک بعد واقع ہے کہ جس نے نوجوانوں کو چاروں اطراف سے گھیر لیا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ذہنی تھکن، بے چینی، نا آسودگی، عدم اطمینان اور ڈپریشن کا بری طرح شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ایمان اور مقصد حیات کے بعد مطالعے اور تعمیری سرگرمیوں کی صورت میں ایک ایسا راستہ موجود ہے کہ جس کے ذریعے لوگ بالخصوص نوجوان درپیش تناؤ اور پریشانیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

مطالعہ علم میں اضافے کا ذریعہ ہے، مطالعہ شعور کا سبب ہے، مطالعہ پر امید رکھتا ہے، مطالعہ ذہن کی وسعت کا باعث ہے، مطالعہ میں قلب و نظر کی تازگی ہے، مطالعہ خیر اور سکون کا باعث ہے، مطالعہ احساس کی زندگی ہے، مطالعہ حقیقت پسند بناتا ہے، مطالعہ وسیع الظرفی بخشتا ہے، مطالعہ طاقت اور قبولیت عطا کرتا ہے، مطالعہ کبھی مایوس نہیں ہونے دیتا، مطالعہ ایمان بڑھاتا ہے، مطالعہ اطمینان سے قریب کرتا ہے، مطالعہ توجہ کو مرکوز رکھنے میں مددگار ہے، مطالعہ نت نئی دنیاؤں سے روشناس کراتا ہے، مطالعہ نئے خیالوں، نئے تصورات اور نئے امکانات سے ملاتا ہے، غرض مطالعے میں اتنے فوائد، برکتیں اور فضیلتیں ہیں جو کہ انسان کے احاطہ تصور سے بھی باہر ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ روزانہ کم از کم ڈیڑھ گھنٹہ مطالعہ یقینی بنائیں۔سائنس پڑھیں، ادب پڑھیں، فلسفہ پڑھیں، مذہب پڑھیں، تاریخ پڑھیں، بین الاقوامی تعلقات پڑھیں، سوانح عمریاں پڑھیں، مختلف مہارتوں سے متعلق کتب پڑھیں، معلومات عامہ پر لکھی گئی کتابیں پڑھیں۔ مطالعہ نہ صرف علم بڑھاتا ہے بلکہ یہ ذہنی دباؤ اور روحانی نا آسودگی کو بھی کم کرتا ہے۔

تعمیری سرگرمیاں بھی نوجوانوں کو تناؤ، مایوسی اور طویل پریشانیوں سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ تعمیری سرگرمیوں میں مشغولیت سے بندے کو طاقت، حوصلہ، مقبولیت اور خاطر خواہ اثر و رسوخ میسر آتے ہیں اور یہ چیزیں زندگی کے بارے میں اس کا نقطہ نظر مثبت بنا دیتی ہیں۔ مختلف جسمانی، ذہنی، دینی اور سماجی سرگرمیوں کے دوران اینڈورفینز یعنی خوشی کے ہارمونز خارج ہوتے ہیں اور یہ انسان کو پُرسکون رکھتے ہیں۔ دوسروں کی مدد کرنا، بوقت ضرورت خیر خواہانہ مشورہ دینا، گھر، دفتر یا محلہ کی سطح پر صفائی ستھرائی کے عمل کا حصہ بننا، درخت لگانا، کسی کو کاروبار آغاز کرنے میں تعاون کرنا، نئی زبانیں سیکھنا، نئے مقامات کا سفر اختیار کرنا، رشتے ناطے منعقد کرنے میں مقدور بھر کوشش کرنا، کسی اجتماعی مفاد کے پراجیکٹ میں ساتھ دینا، کسی تنگ دست کے تعلیم یا بیمار کے علاج معالجے میں ہاتھ بٹانا، مختلف متصادم فریقین کے درمیان صلح کرانا وغیرہ وغیرہ ایسی اجتماعی سرگرمیاں ہیں جن میں ہر بندہ، ہر وقت، ہر جگہ شریک ہو سکتا ہے اور کوئی نہ کوئی کردار ادا کر کے اپنے رب کی خوشنودی اور دل و جان کا اطمینان پا سکتا ہے۔ اجتماعی سرگرمیوں میں مصروف لوگوں کو اللہ تعالیٰ ایک خاص قسم کی برکت، رونق، محبت، عزت، لطافت اور قبولیت عطا فرماتا ہے جو انہیں سماج میں مقبول اور محبوب بناتے ہیں۔

مختلف دیکھی اور ان دیکھی وجوہ سے کسی حد تک تناؤ اور پریشانی زندگی کا حصہ ہے، اور اسے کسی صورت بھی زندگی سے نکالا نہیں جا سکتا لیکن اسے کنٹرول کرنا ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اصل مسئلہ تناؤ کا حد سے نکلنا ہے اور اس کو حد میں رکھنا ایک پیش نظر مقصد ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم تناؤ یا پریشانی کیسے ختم کریں بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم ان عوارض کو کنٹرول کیسے کریں؟۔ نوجوان اگر اپنی روزمرہ زندگی میں ایمان کے حقیقت کو پانے، مطالعے کے اہتمام اور تعمیری سرگرمیوں میں مقدور بھر شمولیت یقینی بنائیں تو ان کے لیے نہ صرف نوع بہ نوع پریشانیوں سے نجات ممکن ہے بلکہ ایک پُراعتماد، اطمینان بخش اور کامیاب زندگی کی طرف قدم بھی بڑھا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، خوش رہنے کا راز خود کو ایمان سے معمور کرنے، بامقصد مطالعے کو لازم پکڑنے اور تعمیری سرگرمیوں میں مقدور بھر اپنے آپ کو مصروف رکھنے میں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے