ایک مدت سے شفیق الرحمن کی شاندار طنزیہ تحریروں میں موجود کردار ہمارے معاشرے کے مختلف چہروں کو بے نقاب کرتے رہے ہیں۔ ان کے مشہور زمانہ باب پاگل خانہ کو جب بھی پڑھا، ایک ہنسی سی آتی تھی۔ لیکن اب… اب یہ ہنسی کسی دل جلتے کے سسکنے جیسی لگتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ باب کتاب سے نکل کر میرے اردگرد، میرے معاشرے، میرے ملک پر مسلط ہو چکا ہے۔
آج کے حالات کچھ یوں ہیں کہ ایک شخص اگر بیروزگار ہے، چاہے ایک ہفتہ ہو، ایک مہینہ، یا پورے دو سال، تو وہ معاشرے کی نظروں سے اوجھل ہے۔ وہ نہ تو کسی فہرست میں ہے، نہ کسی منصوبے میں۔ نہ کوئی اس کی خیریت پوچھتا ہے، نہ کوئی دستک اس کے دروازے پر سنائی دیتی ہے۔ وہ اپنے فاقوں، محرومیوں اور خاموشیوں کے ساتھ جی رہا ہوتا ہے۔
یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ شخص بھی اس وطن کا شہری ہوتا ہے۔ اس کے کاندھوں پر بھی اس دھرتی کا قرض ہوتا ہے، اس کی بھی شناختی کارڈ پر وہی جھنڈا چھپا ہوتا ہے، جو ارب پتیوں کے کارڈ پر۔ لیکن فرق صرف اتنا ہوتا ہے: اس کے پاس پیسہ نہیں ہوتا۔
پھر قدرت کی کوئی لہر اسے ایک موقع دیتی ہے۔ آن لائن کوئی پروجیکٹ، کوئی چھوٹا موٹا کام، یا کسی دفتر میں ملازمت۔ وہ شخص دن رات محنت کر کے کچھ رقم کما لیتا ہے۔ زندگی کی گاڑی تھوڑی رواں ہوتی ہے۔ لیکن تب ہی، جیسے کوئی غیبی آنکھ اس کی طرف متوجہ ہو جاتی ہے۔
فون کی گھنٹی بجتی ہے، یا دروازے پر ایک اجنبی آ کر سخت لہجے میں سوال کرتا ہے:
"یہ پیسے کہاں سے آئے؟ کس کام کے ہیں؟ مکمل تفصیل دیں۔”
اب وہی شخص جو کل تک غیر موجود تھا، آج ریاست کی ترجیح بن چکا ہے۔ اس سے جواب دہی کی جا رہی ہے، اس پر نظریں رکھی جا رہی ہیں۔ اور پھر، ان پیسوں سے "ملک کا حق” یعنی ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے: جب وہ بیروزگار تھا، تو کیا وہ اس ملک کا شہری نہیں تھا؟
جب وہ فاقے کاٹ رہا تھا، تب کیوں کوئی ادارہ اس کے دروازے پر نہیں آیا؟
کیا ریاست اور حکومت صرف تب متحرک ہوتی ہے جب شہری کے ہاتھ میں تھوڑا سا سرمایہ آ جائے؟
یہ طرزِ فکر نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ خطرناک بھی۔ یہ سوچ ریاست اور شہری کے درمیان خلیج کو بڑھاتی ہے۔ معاشرے میں احساسِ بیگانگی کو جنم دیتی ہے۔
ایک عام انسان جب اپنے بل بوتے پر کچھ کمانے کے قابل ہوتا ہے، تو اسے خوش آمدید کہنے کے بجائے سوالوں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
یہ کالم صرف ایک شکایت نہیں، ایک صدا ہے۔ اس صدا میں ہر اس فرد کی آواز شامل ہے جو برسوں بے روزگاری کے عذاب سے گزرا، لیکن کسی نے نہ سنا، نہ پوچھا۔ اور جب اس نے اپنی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کی، تو اسے شک کی نگاہ سے دیکھا گیا، اسے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا۔
اگر ہم نے اس طرزِ عمل پر غور نہ کیا تو بہت جلد وہ تمام محنتی لوگ، جو آن لائن یا چھوٹے پیمانے پر کچھ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یا تو ہار مان جائیں گے یا زیرزمین چلے جائیں گے۔ اور ایک ایسا معاشرہ بنے گا، جہاں محنت کرنے والا خوفزدہ ہو گا، اور صرف وہی کامیاب ہو گا جس کے پاس پہلے ہی طاقت، وسائل اور تعلقات ہوں۔
آخر میں پھر وہی سوال…
کیا میں صرف تب اس ملک کا شہری ہوں، جب میرے پاس پیسہ ہو؟
اگر ہاں، تو پھر ہمیں آئین کی شقیں اور شہری حقوق کی باتیں بند کر دینی چاہئیں۔ اور اگر نہیں، تو پھر وقت ہے کہ ریاست ہر شہری کو برابر سمجھے — چاہے وہ فاقہ کش ہو یا سرمایہ دار۔