پاکستان: وقت اچھا بھی آئے گا ناصر

کیسے اتفاقات ہیں زمانے کے؟ پاکستان نے اپنی قیمتی معدنیات کے حوالے سے ایک بین الااقوامی کانفرنس ( پاکستان منرلز انوسٹمنٹ فورم) کے انعقاد کی صورت گری شروع کی تو جعفر ایکسپریس پر حملہ ہو گیا اور اب جب یہ کانفرنس اسلام آباد میں منعقد ہو رہی ہے تو کوئٹہ میں یاروں کو شدید احتجاج آیا ہوا ہے ۔

وجوہات تلاش کرنا اور جوازوں کے ڈھیر لگا دینا کوئی مشکل کام نہیں ہوتا ۔ فالٹ لائنز ہر ملک میں ہوتی ہیں اور کمی کوتاہیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان کا حل بھی ہونا چاہیے اور اس کا مطالبہ بھی ۔ سوال مگر ایک اور ہے۔ اور سوال یہ ہے کہ جب جب پاکستان میں معاشی امکانات کے کچھ نقوش واضح ہونے لگتے ہیں، ملک میں افراتفری ، احتجاج اور ہیجان کیوں پھیلایا جاتا ہے۔ یہ اتفاق ہے یا یہ ـ حسن اتفاق ہے؟
مسائل ا ور محرومیاں یہاں بھی ہوں گی ، اور مسائل بھی ہوں گے لیکن یہ وجوہات یعنی ریز ن نہیں ہیں یہ سب ایکسکیوز یعنی بہانہ ہیں۔

خلاصہ بہت سادہ سا ہے۔ دنیا پٹرول سے آگے بڑھ رہی ہے اور قیمتی دھاتوں اور معدنیات کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ گوادر کے بعد ، سی پیک کے امکانات سے متصل اگر پاکستان اپنی معدنیات کی قوت کو درست انداز سے استعمال کر پاتا ہے تو مستقبل پاکستان کا ہے۔ یروشلم ٹریبیون کے الفاظ تھوڑی دیر کے لیے مستعار لوں تو پٹرول کی دنیا میں آج جو مقام سعودی عرب کو حاصل ہے ، قیمتی دھاتوں اور معدنیات کی دنیا میں دس پندرہ سال بعد یہی مقام پاکستان کو حاصل ہونے والا ہے۔ ایک کشمکش جاری ہے اور اس کا میدان پاکستان ہے ۔ پاکستان میں تہہ در تہہ پراکسیز کام کر رہی ہیں۔

داخلی سیاست کے آزار نے حالات حاضرہ کو ملامتی تصوف بنا دیا ہے ۔ اب پاکستا ن کے حوالے سے کوئی منفی خبر ایسے تلاش کی جاتی ہے جیسے کوئی میلے میں بچھڑی اولاد کو تلاش کر رہا ہو۔ ایسے خبر مل جائے اس پر ڈھول پیٹے جاتے ہیں اور خبر نہ مل سکے تو خواہش کو خبر بنا لیا جاتا ہے۔

پاکستان کو دشنام دیں ، اس کے ناکام ہونے کی خبر سنائیں ، مخبوط الحواس قسم کا تجزیہ پیش کریں ، پوسٹ لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہے۔ یہ محض سیاست کا آزار نہیں ، یہ الگوردم کا کمال بھی ہے۔

ایک صف بندی ہے جس میں اپنے اپنے عنوانات کے تحت مختلف اقسام کے لشکری جمع ہیں۔ اپنی غلطیوں سے انکار یقیناً ممکن نہیں ، لیکن جیسے میں نے عرض کی یہ غلطیاں اس ساری چاند ماری کی وجہ یعنی ریزن نہیں ، یہ اس کا ایکسکیوز یعنی بہانہ ہیں۔ واردات کچھ اور ہے۔

یہ وقت بڑا اہم ہے۔ ایک جانب گوادر سے جڑی امیدیں حقیقت بن رہی ہیں اور گوادر کی بندرگاہ کیا چیز ہے ، جو جانتے ہیں وہ خوب جانتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے پاس انتہائی قیمتی دھاتوں کے ذخائر ہیں جنہیں آج تک ہاتھ ہی نہیں لگایا گیا۔ لگایا گیا تو اس کی نوعیت بہت جزوی قسم کی ہے۔ اب پاکستا ن اس طرف کا رخ کر رہا ہے اور یہ بات اگر کامیابی سے آگے بڑھتی ہے اور پاکستان کی حکومت قومی مفاد کا خیال رکھ پاتی ہے تو مستقبل کا پاکستان کچھ اور ہوگا۔

بندرگاہ سے جڑے معاشی امکانات پر ، ان سطور میں تفصیل سے لکھا جا چکا ہے۔اور قیمتی معدنیات کا معاملہ یہ ہے کہ تھوڑے کہے کو ہی کافی سمجھا جائے کہ پاکستان کے پاس وہ کچھ ہے جس کی آنے والے سالوں میں دنیا کو بے حد ضرورت ہو گی۔ پاکستان اس بندوبست میں مرکزی حیثیت کا حامل ہو گا۔

ٹرمپ نے جب اقتدار سنبھالا تو تجزیوں کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔ مرکزی خیال یہی تھا کہ اب پاکستان کی کوئی اہمیت نہیں ۔ مضامین باندھے گئے کہ پاکستان اس وقت عالمی برادری کے لیے ’ ریلیونٹ‘ نہیں رہا۔ اسکی کوئی اہمیت نہیں رہی۔ وہ دنیا کے لیے ایک بوجھ ہے ، وغیرہ وغیرہ۔ جب تجزیہ کاری کی کل مہارت سیاسی چاند ماری اور اس کا حدود اربعہ ہی سیڈ سے لے کر شی سیڈ تک ہو تو یہی ہوتا ہے۔
واقفان حال کو معلوم تھا کہ ایسا نہیںہے ۔اور جاننے والے جانتے ہیں کہ پاکستان کی اہمیت آنے والے دنوں میں کیا ہو گی۔ یہ بات پاکستا ن کے بد خواہوں کو بھی معلوم ہے جنہوں نے بلوچستان میں پراکسی وار کا میدان گرم کر دیا ہے۔ کھیل ایک ہی ہے عنوانات مختلف ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ عام آدمی دانستہ پھئلائے گئے ایک ابہام کا شکار رہے اور یکسو نہ ہو سکے۔

یہ گویا جانتے ہیں کہ پاکستان اس فیز سے گزر گیا تو ایک مختلف پاکستان ہو گا۔

اس وقت اسلام آباد میں او جی ڈی سی ایل کے زیر اہتمام پاکستا ن منرلز انوسٹمنٹ فورم کا اجلاس ہو رہا ہے جس میں دنیابھر سے لوگ شریک ہو رہے ہیں۔ آپ ایک مزید اتفاق دیکیے کہ کچھ اوورسیز نونہال اس وقت سرگر م ہیں اور وہ امریکی وفد کے سربراہ ایرک میئر کو لکھ رہے ہیں کہ وہ پاکستان نہ جائیں اور اس کانفرنس کا بائیکاٹ کریں۔ یہ مہم اگر چہ ناکا م ہو چکی ہے اور متعلقہ وفود نے واضح کر دیا ہے کہ وہ پاکستان میں ہونے والے اس اجتماع کا حصہ بنیں گے تاہم سوال یہ ہے کہ جب جب پاکستا ن میں کوئی بڑی معااشی سرگرمی ہونے لگتی ہے تو کچھ عناصر اسے سینگوں پر کیوں لے لیتے ہیں ، وہ اس کے خلاف متحرک کیوں ہو جاتے ہیں۔

آپ ان عناصر کو دیکھیے ، ان کی قدر مشترک کو دیکھیے ، ان کی ٹائمنگ کو دیکھیے۔اور نکتے ملاتے جائیے۔ تصویر خود بخود واضح ہو جائے گی۔ سیاست کی دھوپ چھائوں سب نے ہی دیکھی ہے۔ کسی کا مسئلہ اخلاقی اقدار کبھی رہا ہی نہیں ،سب کشمکش اقتدار کے حریف ہیں۔ اسی کا نام اور پالیٹکس ہے۔ لیکن اتنا فرق تو رہنا چاہیے کہ حکومت کی حدود کہاں تک ہیں اور ریاست کی حدود کہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ حکومت کے خلاف شوق سے مہم چلائی جا سکتی ہے لیکن جس مہم کے نشانے پر ریاست ہو اس پر سوال ٹھتے ہیں۔ اتنی غیر معمولی اہمیت کا کانفرنس ہو رہی ہو تو جو اس کے خلاف مہم برپا کرتے ہیں ، وہ حکومت ا ور رریاست کے باریک فرق کو نظر اندازکرتے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب غیر دانستگی میں ہو رہا ہے یا دانستہ طور پر ہو رہا ہے۔ جو آج حکومت میں ہیں ، کل اپوزیشن میں ہوں گے اور جو آج اپوزیشن ہیں کل حکومت میں ہو سکتے ہیں ، آپ دھوپ میں ہوں یا چھائوں میں ، آپ کی سرگرمی ریاست کے مفاد سے متصادم نہیں ہونی چاہیے۔ پاکستان ان دنوں سے نکل آئے گا ، اس پر اچھے دن انشا اللہ ضرور آئیں گے۔ امکانات کی ایک دنیا ہے جس نے آباد ہونا ہے۔ سڑک ناہموار ہے لیکن پاکستا ن کا سفر جاری ہے۔ یہ جاری رہے گا۔ یہ سفر سب کا سفر ہے۔ حکومت کا بھی ، اپوزیش کا بھی ۔کہ گھر تو آخر اپنا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے