عصر حاضر میں انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ خود انسان کی بے رحمی اور بے حسی بن رہا ہے۔ افراد اور اقوام اپنے ذاتی یا قومی مفادات یا تحفظ کو یقینی بنانے کا بیانیہ لے کر اٹھتے ہیں اور طاقت و ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر دوسرے انسانوں پر برس ہا برس تک قیامتیں ڈھاتے ہیں، لاکھوں لوگوں کو تہہ تیغ کرتے ہیں، لاکھوں لوگوں کو اپنے گھروں اور علاقوں سے بے دخل کرتے ہیں، وحشت اور درندگی کے ہولناک مظاہرے کرتے رہتے ہیں۔ فوجی کاروائیاں کرتے ہوئے سکول دیکھتے ہیں نہ ہسپتال، گھر یا محلے دیکھتے ہیں نہ بازار یا عبادت گاہیں، بچے خاطر میں لاتے ہیں نہ خواتین، بوڑھے بزرگوں کا لحاظ کرتے ہیں نہ ہی کراہتے ہوئے زخمیوں کی حالت پیش نظر رکھتے ہیں۔ یہ تو ایک پہلو ہے ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ ہے یہ سب دیکھ کر بھی کروڑوں بلکہ اربوں انسان بے حسی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ لوگ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی چاروں جانب انجان بن جاتے ہیں اور اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ بطور انسان ان کی کیا ذمہ داری بنتی ہے؟
یہ ظلم، یہ بے حسی اور ان دونوں طرز عمل سے پیدا ہونے والے اندوہناک واقعات نے دنیا کو حقیقی معنوں میں ایک اذیت ناک مقام بنایا ہے جہاں چند ظالم اقوام اور عناصر مل کر پوری انسانی برادری کو بے بس اور بے توقیر کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یہ ایک کثیر الجہتی مسئلہ ہے جس کو گہرے جذباتی، تصوراتی، نفسیاتی اور تاریخی تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ سادہ لفظوں میں یہ رحمدلی اور مہربانی کے فقدان کی وہ تکلیف دہ حالت ہے جو کہ فرد سے لے کر عالمی سطح تک ہر جگہ پھیلی ہوئی ہے۔ انسانی رویے اس قدر خود غرضانہ اور احوال اس قدر پیچیدہ اور باہم خلط ملط ہو کر رہ گئے ہیں جن کی کسی کو بھی سمجھ نہیں آ رہی۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے اوپر بیٹھی ذات عرصہ دراز سے سب کچھ دیکھ رہی ہے اور بہت کچھ نوٹ بھی کر رہی اور شاید انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی دے رہی ہے کہ کہیں نہ کہیں تو یہ ٹریک پر آ جائے گا لیکن اگر ایسا کچھ نظر نہیں آیا تو اس دنیا میں مزید انسان کے رہنے کا جواز ختم ہو جائے گا اور یوں اس دنیا کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ آئیے مختلف تناظر میں موجودہ المناک دور کا ذرا سا نظارہ کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ بے رحمی اور بے حسی کی جڑیں کہاں ہیں اور اس انسانی المیے کا حل کیا ہے؟
جذباتی تناظر: احساسات کی موت اور بے حسی
جذباتی کثافت: جدید زندگی کی تیز رفتار اور مسابقتی فضاء نے انسان کو جذباتی طور پر سخت "کثیف و ثقیل” بنا دیا ہے۔ دوسروں کے دکھ درد اور بے بسی و لاچارگی دیکھنے کے باوجود اس کے ہاں ہمدردی اور احساس کا جذبہ کم سے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔
بے حسی کا راج: بڑے پیمانے پر تشدد اور انسانی المیوں کی بار بار نمائش (خصوصاً میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر) نے انسان کو دکھ درد کے مواقع پر ابھرنے والی قدرتی حساسیت سے محروم کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر، دنیا کے مختلف خطوں میں خاص کر مشرق وسطی کے محاذ پر جنگوں کے مناظر اور دنیا بھر میں سماجی ناانصافیوں کے نہایت تکلیف دہ نتائج صبح و شام دیکھنے کے باوجود لوگوں کی بے حسی جوں کے توں قائم ہے اور ان کے جذبات و احساسات میں کوئی بڑا ارتعاش نہیں آتا۔
یہ دور تنہائی کا ہے: جدید معاشروں میں انسان تکنیکی طور پر تو ہر طرح سے جڑا ہوا نظر آتا ہے لیکن جذباتی طور پر بے انتہا، تنہا ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ تنہائی زیادہ تر نامطلوب قسم کی خودغرضی میں مبتلا رہنے اور دوسروں کے حالات اور مسائل کو مسلسل نظرانداز کرنے کے سبب پروان چڑھی ہے۔
تصوراتی تناظر: اخلاقیات کا انحطاط
نفع خوری کا فلسفہ: سرمایہ دارانہ نظام اور ماحول نے انسان کو ایک "معاشی اور نفسانی جانور” میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں رحم دلی، مہربانی، احساس ذمہ داری اور لحاظ و مروت جیسے جذبات کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ مثلاً مشرق وسطی کا المناک سانحہ بزبان حال دنیا کی نظر میں محض ایک "علاقائی سیاست” ہے۔ اس طرح مختلف کاروباری کارپوریشنیں محنت کشوں کے بڑے پیمانے پر استحصال کر رہی ہیں لیکن اس کو صرف ایک "بزنس” سمجھا جاتا ہے۔
اخلاقی تناظر کی تبدیلی: مطلق اخلاقیات کے بجائے، جدید انسان "حالات کے مطابق” اخلاقیات گھڑ لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ظلم، استحصال، بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، ناجائز منافع خوریوں اور معاوضوں کی غیر منصفانہ تقسیم کو جائز قرار دینے کے لیے باقاعدہ نظریاتی یا مذہبی دلائل تراشے جاتے ہیں حالانکہ یہ سیدھا سادہ ظلم اور حق تلفی کا کیس ہے۔
قومیت اور وجودیت کے فلسفوں کی مقبولیت: فلسفہ قومیت اور فلسفہ وجودیت کے تحت آج کا انسان صرف اور صرف اپنی ذات اور اس کے متعلقات کو ہی مرکز ماننے لگا ہے۔ دوسروں کا دکھ درد اور تباہی و بربادی اس کے لیے محض ایک "تصور” سے زیادہ، کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔
نفسیاتی تناظر: باطن میں تاریکی کا چھا جانا
طاقت کی خواہش: معروف نفسیات دان فرائیڈ کے نظریے کے مطابق انسان کے اندر ایک بنیادی قسم کی”تشدد پسند” جبلت پائی جاتی ہے۔ اسی جبلت کے تحت طاقت اور کنٹرول کی خواہش اسے بے رحم بنا دیتی ہے، جیسا کہ مختلف ریاستوں کی پر تشدد پالیسیاں یا سیاسی قیادتوں کی عوامی جذبات سے کھیلنے کی جسارتیں وغیرہ۔
گروہی نفسیات (Mob Psychology): انسان اکیلا ہو تو پاس و لحاظ کرتا ہے، لیکن گروہ میں شامل ہوتے ہی اس کی اخلاقی پابندیاں اور جذباتی قدریں یکسر ختم ہو جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر آج کل دنیا کے مختلف خطوں میں ریاستی، گروہی یا نسلی تشدد کے بے رحمانہ واقعات کا تواتر سے صادر ہونا۔
نرگسیت پر مبنی نفسیات: سوشل میڈیا کی چمک دمک سے متاثر ہونا اور انفرادی کامیابی کے عمومی کلچر نے نرگسیت کو بڑھاوا دیا ہے۔ نرگسی شخص اپنی دنیا میں مست رہتا ہے اور دوسروں کے جذبات و احساسات کو کوئی خاص اہمیت نہیں دیتا۔
تاریخی تناظر: ظلم کا تسلسل سے ارتکاب
استعماری ذہنیت: تاریخ میں طاقتور قوموں نے کمزوروں کو ہمیشہ "حقیر” سمجھ کر ان پر طرح طرح کے مظالم کو روا ٹھہرایا، جیسا کہ ازمنہ وسطی اور پھر نوآبادیاتی ادوار میں غلامی کا رائج ہونا۔ آج کی دنیا میں بھی یہ ذہنیت پوری طاقت سے معاشی اور سیاسی استحصال کی سینکڑوں بلکہ ہزاروں، لاکھوں شکلوں میں موجود ہے۔
تکنیکی ترقی اور انسانی تباہی ساتھ ساتھ: جدید ہتھیاروں نے بڑے پیمانے پر قتل و غارتگری، بنیادی ڈھانچے کی تباہی بلکہ نسل کشی کو ایک روبوٹک مشق بنا دیا ہے۔ ڈرون حملوں میں ایک بٹن دبا کر سینکڑوں اور ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں، جس سے قاتلوں کے اندر احساسِ جرم ختم ہوتا جا رہا ہے۔
مفادات اور نظریات کا غلط استعمال: تاریخ کا مطالعہ اور حال کا مشاہدہ کیا جائے تو ماضی اور حال دونوں میں سیاست، تجارت، مذہب یا قومیت کے بنیاد پر لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگ مارے گئے ہیں۔ آج کے منظر نامے میں بھی جا بجا دہشت گردی، ریاستی تشدد یا نسلی تعصب اسی سوچ کا تسلسل ہے۔
سوال یہ ہے کہ حل کے طور پر کیا کچھ ممکن ہے؟
انسان دوست تعلیم اور اخلاقی تربیت کا اہتمام: انسانیت کی بنیادی قدریں (جیسا کہ ہمدردی، مہربانی، رواداری، متحمل مزاجی اور وسیع النظری وغیرہ) کو تعلیمی نظام اور نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے۔ اس طرح میڈیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تشدد اور نفرت کو نمایاں کرنے کے بجائے، انسانی ہمدردی اور مہربانی کو فروغ دینے والا مواد پیش کرے۔ اس طرح معاشرے میں ذہنی اور جذباتی صحت کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے لے کر انفرادی بے حسی اور لاتعلقی کو دور کرنے والا ماحول بنایا جائے۔ اس طرح حکومتی سطح پر معاشرے میں سماجی و معاشی عدم مساوات کو کم کرنا بے حد اہم ہے کیونکہ یہی فرق انسانی بے رحمی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اس طرح حکومتی اور ادارہ جاتی سطح پر اقوام عالم کے درمیان مفاہمت اور رواداری کے لیے باقاعدہ اقدامات اٹھایا جائے تاکہ ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے کے مواقع پیدا ہوکر نفرت اور غلط فہمیاں ختم ہو جائیں۔
قابلِ احترام قارئین! ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ انسانی بے رحمی کوئی نیا مسئلہ نہیں، لیکن عصر حاضر میں اس کی شکلیں اور مظاہر و نتائج بے انتہا مہلک، پیچیدہ اور خطرناک ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال کسی ایک فرد، قوم یا خطے کا نہیں، بلکہ پوری دنیا کا سب سے بڑا المیہ بن گیا ہے۔ یاد رکھیں اگر ہم نے اپنے اجتماعی ضمیر کو ہر سطح پر جگانے کی کوشش نہ کی، تو یہی بے رحمی اور بے حسی ہمارے وجود اور مستقبل دونوں کے لیے زوال کا سبب بن سکتی ہے۔