پہلگام : ہمارا سوشل میڈیاکہاں کھڑا ہے؟

سوالات بہت سارے ہیں ، لیکن ان تمام سوالات کے بیچ ایک اہم سوال یہ ہے کہ پہلگام واقعے کے بعد ہمارا سوشل میڈیا کیا کہہ رہا ہے؟ اس سوال کے جواب سے ہی معلوم ہو سکے گا کہ ففتھ جنریشن وار کیا ہوتی ہے اور ہم اس میں کہاں کھڑے ہیں؟

ہمارا سوشل میڈیا ، عرصہ ہوا ویپنائز ہو چکا ہے۔ کس نے کیا اور کیسے کیا ، یہ کہانی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ حکومت ا ور ریاست کی مخالفت کا فرق مٹا دیا گیا ہے۔ اودھم مچا ہے اور اس اودھم میں ایک ہی اصول کارفرما ہے ، اور وہ یہ کہ جب تک سیاسی اختلافات ہیں، تب تک کسی چیز کو امان نہیں ۔ نہ عدالت کو ، نہ فوج کو ، نہ ریاست کو۔ اس بیمار رویئے کے ہنگام پہلگام پہلا بڑا چیلنج ہے۔

دیکھنا یہ ہو گا کہ سوشل میڈیا کے لشکری یہاں ریاست اور حکومت کا فرق ملحوظ خاطر رکھ پائیں گے یا ایک بار پھر وہی طوفان بد تمیزی برپا ہو گا کہ سیاسی تلخیوں میں حساب برابر کرنے کا موقع سمجھتے ہوئے اپنی ہی ریاست کو سینگوں پر لے لیا جائے گا اور دشمن کے بیانیے کی سہولت کاری کی جائے گی۔

مجھے اس باب میں کبھی شک نہیں رہا کہ بہت ساری قوتوں نے پاکستان میں سوشل میڈیا میں انوسٹمنٹ کر رکھی ہے۔ ( انوسٹمنٹ صرف مالی نہیں ہوتی) ۔ بھارت ان میں سر فہرست ہے۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں بھارت نے اپنی پوزیشن کا خوب استعمال کیا ہے۔ الگوردمک مینجمنٹ میں اس کی ہنر کاری سے انکار ممکن نہیں۔ یہ جو پاکستا ن مخالف پوسٹیں آتے ہی وائرل سی ہو جاتی ہیں ، اس میں الگوردمک مینجمنٹ کا بھی بڑا کمال ہے۔

کون جانے کتنے پیجز ، پاکستانیوں کے نام سے چل رہے ہوں اور آپریٹ کہیں ا ور سے ہو رہے ہوں گے۔ کسے معلوم ٹرینڈ کہاں سے سیٹ ہوتا ہے اور اس میں مقامی سہولت کاری کیسے ہوتی ہے۔ کون دانستہ طور پر اس عمل کا حصہ ہوتا ے اور کون نادانستگی میں استعمال ہوتا ہے۔ ماضی میں ہم نے دیکھا کہ بہت سے مقامات ایسے آئے جہاں بیرون ملک بیٹھی سیاسی قیادت نے ، اسٹیبلشمنٹ سے حساب پورے کرنے کی کوشش میں وہ لائن بھی عبور کر لی جو حکومت کو ریاست سے جدا کرتی ہے۔

مقصد ایک ہی ہے کہ اس حکومت کو اور اس اسٹیبلشمنٹ کو نیچا دکھانا ہے اور کوئی پرواہ نہیں کہ اس عمل میں ریاست کے مفادات بھی پامال ہو جائیں۔ کھلے عام کہا جاتا رہا کہ فلاں نہیں تو پھر ہماری بلا سے ملک رہے نہ رہے۔اور یہ کہنے والے عام کارکنان نہیں ، پارلیمانی سیاست کے لوگ بھی اس بیانیے میں شامل تھے۔

سوشل میڈیا کے اس طوفان بد تمیزی میں ریاست کے مفادات کو بھی سینگوں پر لیا جاتا ہے اور کہیں کسی بھی ملک کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو جائے، کچھ مسئلہ ہو جائے تو حکومت ا ور اسٹیبلشمنٹ کو کٹہرے میں کھڑے کر کے اس سے لطف لیا جاتا ہے۔یہ طے کر لیا گیا کہ یہ ہی غلط ہیں۔ ان کا مسئلہ دنیا کے کسی بھی ملک سے کسی بھی معاملے میں ہو ، یہی غلط ہیں۔ غیر ذمہ داری کے اس سونامی میں سیاسی قیادت بھی شامل ہے جو بیرون ملک بیٹھ کر حکومت کا بازو مروڑتے مرڑتے اس سے بالکل بے نیاز ہو جاتی ہے کہ ساتھ کہیں ریاست کا بازو بھی تو نہیں مروڑا جا رہا۔

کچھ یوٹیوبرز ہیں جن کی معیشت ہی نفرت کے اس کھل پر کھڑی ہے۔ جتنا زہر بھرو گے اتنی ریٹنگ آئے گی اور جتنی ریٹنگ آئے گی اتنے ڈالر ہمراہ لائے گی۔

یہ دو رویے جب باہم مل جاتے ہیں تو نا معقولیت مجسم ہو جاتی ہے۔

بھارتی میڈیا کا رویہ ہمارے سامنے ہے۔ اس پرو حشت سوار ہے۔ یہ وحشت بلا سبب نہیں۔ بھارت کا میڈیا بالعموم بھارتی حکومت کا ابلاغی ونگ بن کر کام کرتا ہے، جب معاملہ امور خارجہ اور بالخصوص پاکستان سے متعلق ہو تو پھر یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارت کا میڈیا اس کی وزارت خارجہ کا کوئی ذیلی ونگ ہے۔ ابلاغ کی دنیا میں ، میرے جیسے طالب علموں کی پریشانی یہ ہے کہ پاکستان کے سوشل میڈیا کا رویہ کیا ہو گا؟
کیا بیرون ملک بیٹھے بعض سیاسی لوگ اور ان کے یوٹیوب کے ہمنوا اس موقع پر ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے یا وہ ’موقع موقع ‘ پکارتے یلغار کر دیں گے کہ سارے حساب پورے کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

سچ پوچھیے تو مجھے کوئی خوش فہمی نہیں ہے۔ جو کچھ ہم اس سوشل میڈیا پر دیکھ چکے اور جس طرح یہاں دانستہ طور پر نفرت کا ایک کارپوریٹ طوفان کھڑا کیا گیا ہے اس میں کچھ بعید نہیں کہ کہ ہمارے اپنے سوشل میڈیا پر وہی کچھ کہا جانے لگے جو اس وقت بھارتی میڈیا پر کہا جا رہا ہے۔

ہمارے مشاہدے میں جو کچھ آ چکا ہے اس کے بعد خیر کی توقع رکھنا مشکل ہے۔ سوشل میڈیا پر بیرون ملک سے جو زہر ٹرینڈز کی شکل میں اس معاشرے کی رگوں میں انڈیلا جاتا ہے اور بعد میں جسے مقامی سطح پر بھی ایندھن فراہم کیا جاتا ہے یہ معمولی چیلنج نہیں ہے۔اس کی حدود قیود کے بارے میں ٹھوس فیصلے کرنا ہوں گے۔ ورنہ یہ ایک ایسا چیلنج بنے گا کہ بات سنبھل نہیں پائے گی۔

سوشل میڈیا محض سماجی رائے کا اظہاریہ نہیں ہے۔ ابلاغ کی یہ دنیا ویپنائز ہو چکی ہے۔ اس کی لگامیں کسی اور کی کے ہاتھ میں ہیں۔ الگوردم کا بندوبست کسی اور کے پاس ہے۔ کوئی اور طے کرتا ہے کہ کون سا مواد وائرل ہو گا اور کون سے مواد پر غیر اعلانیہ پابندی ہو گی یا اس کی ریچ نہ ہونے کے برابر کر دی جائے گی۔ڈوریں کوئی اور کہیں اور سے ہلا رہا ہوتا ہے اور کٹھ پتلیاں سمجھتی ہیں یہ ان کی آزادی رائے کا رقص ہے۔

خدا نہ کرے ایسا ہو مگر خدشہ یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پتا چل جائے گا کہ ففتھ جنریشن وار کیا ہوتی ہے اور اس میں ہم کس مقام پر کھڑے ہیں اور دشمن کس حد تک انوسٹمنٹ کر چکا ہے۔

بھارت کی جانب سے اس فالس فلیگ آپریشن کے ہالی وڈ کی کسی فلم جیسے ڈرامے کے بعد کسی ممکنہ جارحیت کے سوال کا جواب تو مقبوضہ کشمیر کے فاروق عبداللہ نے یہ کہہ کر دے دیا کہ اگلوں نے بھی چوڑیاں نہیں پہنی ہوئیں ، بھارت نے حملہ کرنا ہے تو کر لے ، ہم کون سا روک رہے ہیں۔ تا ہم جو میدان سوشل میڈیا پر لگے گا ، اس کے خدشات بہت حقیقی اور بہت سنگین ہیں۔

ہر قسم کے ابے نندن کے لیے چائے کے کپ تیار رکھیے۔ میٹھا کم اور پتی تیز۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے