صحافت، درحقیقت، معاشرے کی آواز ہے۔ یہ حقائق کے روشنی سے تاریکیوں کو مٹاتی ہے اور عوام کو راہِ راست آگہی فراہم کرتی ہے۔ صحافت حال کا ادب ہوتا ہے۔ صحافت تو گویا حکمت کا مرقع ہوتی ہے جہاں الفاظ کی نزاکت اور فکر کی گہرائی، دونوں مل کر قاری کے دل و دماغ پر ایک لطیف مگر جامع تاثیر چھوڑ جاتی ہیں۔
صحافت اگر سچائی کا آئینہ ہے تو ادب اس آئینے کو صیقل کرنے کا ہنر۔ صحافت اور ادب دونوں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جب یہ دونوں یکجا ہوتے ہیں، تو پھر خبر محض واقعہ نہیں رہتی، بلکہ اس میں زندگی کی رمزیت اور انسانی تجربے کی وسعت شامل ہو جاتی ہے۔ عرفان صدیقی، الطاف حسن قریشی، عطا الحق قاسمی، جاوید چوہدری اور ثروت جمال اصمعی جیسے صحافی محض صحافی نہیں بلکہ ان کا اسلوب ایک مخصوص ادبی چاشنی کا حامل ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ادب آشنا صحافت محض اطلاعات فراہم نہیں کرتی، بلکہ وہ قوم کے اذہان کو جِلا بخشتی ہے، اس کے جذبات کو سمیٹتی ہے، اس کے اخلاقیات کی حفاظت کرتی ہے اور اسے اپنے قلم، خبر اور قوت تخیل سے فکری بلندی عطا کرتی ہے۔ یہی اس کی حقیقی عظمت ہے۔
صحافت کا آغاز انسانی تہذیب کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ انسان نے رفتہ رفتہ اپنی ضروریات کا ادراک کرنا شروع کیا تو ایک وقت میں اسے خبر رسانی اور باخبری کی ضرورت کا احساس بھی ہونے لگا۔ قدیم دور میں خبریں زبانی یا تحریری شکل میں پھیلائی جاتی تھیں۔ روم میں مخصوص قسم کی تختیوں پر سرکاری اعلانات لکھے جاتے تھے، جو کہ شاید دنیا کی پہلی باقاعدہ خبر رسانی تھی۔
وسطی عہد میں، یورپ کے اندر یعنی 1440عیسوی میں چھاپہ خانے کے ایجاد کے بعد صحافت نے ایک باقاعدہ اور منظم شکل اختیار کی۔ 1605عیسوی میں جرمنی میں پہلا اخبار "Relation aller Fürnemmen und gedenckwürdigen Historien” کے نام سے شائع ہوا۔ برصغیر پاک و ہند میں صحافت کا آغاز 1780عیسوی میں "بنگال گزٹ” سے ہوا، جو انگریزی حکومت کا سرکاری اخبار تھا۔ بعد ازاں عوامی سطح پر اردو صحافت نے "جام جہاں نما” جس کا آغاز 1822ء میں اور "اردو اخبار” جس کا آغاز 1836ء میں ہوا تھا ان اخبارات کے ذریعے اردو صحافت نے ترقی کی۔
بیسویں صدی عیسوی میں ریڈیو، ٹیلی ویژن، اور آخر کار انٹرنیٹ نے صحافت کو ایک نئی جہت دی۔ آج ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل نیٹ ورکنگ نے صحافت کو تیز ترین، وسیع ترین اور عالمگیر بنا دیا ہے۔ صحافت معاشرے کا آئینہ ہے، جو عوام کو باخبر رکھنے، حکومتوں کو جوابدہ بنانے، اور عمومی انصاف کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ عصر حاضر میں صحافت کا اثر زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہے اور یہ مختلف شکلوں میں خیالات اور رویوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس کی اہمیت درج ذیل پہلوؤں سے بخوبی واضح ہوتی ہے:
1. عوامی بیداری:
صحافت عوام کو سیاسی، معاشی، سماجی، دفاعی اور بین الاقوامی مسائل سے آگاہ کرتی ہے۔ مذکورہ بالا شعبوں میں ہر دم وقوع پذیر خبروں سے لمحہ بہ لمحہ باخبر ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان پر اپنا آزادانہ ردعمل دیتے ہیں۔
2. احتساب:
میڈیا حکومتی اور ادارہ جاتی کرپشن کو بے نقاب کر کے شفافیت کو یقینی بناتا ہے۔ کرپشن اور بے ضابطگیوں سے متعلق بے شمار بڑے بڑے واقعات کا میڈیا کے ذریعے پتہ چلتا ہے۔
3. تعلیم و آگہی:
صحافت معاشرے کو مثبت رجحانات، سائنسی ترقی، اور ثقافتی اقدار سے روشناس کراتی رہتی ہے۔
4. تنقیدی سوچ:
اچھی صحافت عوام میں تنقیدی اور تجزیاتی سوچ کو فروغ دیتی ہے۔
صحافتی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں
ایک صحافی کا پیشہ نہ صرف معلومات پہنچانا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اس پر کئی طرح کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں:
1. حقائق کی درست عکاسی
صحافی کو ہمیشہ غیر جانبدار اور درست معلومات فراہم کرنی چاہیے۔ اسے ہر دم یہ احساس ہونا چاہیے کہ غلط خبریں پھیلانا معاشرے میں انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔
2. اخلاقیات کا پاس و لحاظ
بنیادی اخلاقیات کا تقاضا ہے کہ ذاتی مفاد کے لیے خبروں کو مسخ نہ کیا جائے۔ اس طرح کسی کی عزت و آبرو کو مجروح کرنے والی خبروں سے بھی گریز کیا جائے۔ اس طرح نجی زندگی کی رازداری کا احترام لازم کیا جائے۔
3. قانونی حدود کا خیال
ہر ملک کے اپنے اپنے صحافتی قوانین ہوتے ہیں۔ افواہیں پھیلانا، نفرت انگیز مواد شائع کرنا یا قومی سلامتی کو خطرہ یا نقصان پہنچانا باقاعدہ قانونی جرائم ہیں۔
4. عوامی مفاد کو ترجیح
صحافی کو ہمیشہ عوامی مفاد کو ذاتی یا سیاسی مفادات پر ترجیح دینی چاہیے۔ حیرت ہوتی ہے کہ جب صحافیوں کی اکثریت سیاسی وابستگی کے روپ میں سامنے آتی ہے جس کا مقصد جانب دارانہ انداز سے ذہن سازی ہوتا ہے نہ کہ عمومی آگہی و شعور کو فروغ دینا۔
5. ہر معاشرے کی کچھ نظریاتی بنیادیں ہوتی ہیں ان کی پاسداری سب پر لازم ہے صحافی بھی اس اصول کے پابند ہیں۔ اسلام کی اصولی تعلیمات اور اقدار سے اپنے خیالات اور قلم کو مطابق رکھنا اہل صحافت کی بنیادی ذمہ داری ہے اس سے سرمو انحراف درست نہیں۔
صحافت ایک مقدس پیشہ ہے جو کہ ہر دم معاشرے کی رہنمائی کرتا ہے۔ ایک اچھا، سچا اور کھرا صحافی وہ قرار پاتا ہے جو کہ سچائی کو بے خوفی سے پیش کرے، اخلاقی اقدار کا پاس و لحاظ رکھے، اور عوام کی حقیقی آواز بنے۔ موجودہ دور میں جب جعلی خبریں اور ہر طرح کے بے بنیاد پروپیگنڈے عام ہیں، صحافیوں کی ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ حقائق کو بے نقاب کرے اور معاشرے کو مثبت رخ پر گامزن کرنے میں اپنا فرض ایمان داری سے نبھائے۔