اگر فرانس ایک چمن ہوتا تو میں اس کا پھول، ایک حوض ہوتا تو میں مچلی، ایک جنگل ہوتا تو میں ایک درخت، ایک صحرا ہوتا تو میں ذرہ، ایک پیر ہوتا تو میں مرید وغیرہ وغیرہ نہ جانے فرانس میں ایسا کیا ہے جو دیکھے بغیر میرے قلب و نظر پر چھایا ہے۔ میں جب بھی ملکوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو فرانس اوپر اٹھ کر اور آگے بڑھ کر میری نگاہوں کے سامنے ایسا چھا جاتا ہے کہ مجھے فرانس کے علاؤہ کرہ ارض پر کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا بس ہر طرف فرانس ہی فرانس ہوتا ہے۔
یاد رکھیں انسان صرف جسمانی وجود سے گھوم پھر کر چیزوں اور مقامات کو آشکار نہیں کرتا بلکہ ہر جسم میں ایک روح اور ذہن بھی ہوتا ہے جو کائنات بھر میں گھومتے پھرتے ہیں اور ایسی بھی چیزیں دلوں میں لا کر رکھ دیتے ہیں جو کبھی آنکھوں نے نہیں دیکھیں ہوتی ہیں۔ اللہ نے اس پوری کائنات میں کوئی ایک ذرہ بھی بے مقصد پیدا نہیں فرمایا ہر چیز، ہر جگہ، ہر فرد، ہر واقعے اور مقام کی اللہ کی نظر میں ایک اہمیت اور افادیت ہوتی ہے اور ایک مقصد بھی ہوتا ہے تب ہی وہ وجود پا لیتا ہے اور ہاں اس اہمیت اور افادیت کا اعتراف بطور مخلوق ہمارا بھی فرض بنتا ہے کہ اسے سمجھیں، مانیں اور ہو سکیں تو برتیں بھی۔
فرانس، ایک بھرپور اور متنوع تاریخ کا حامل ملک، جس نے سیاست، ثقافت، ادب، معاشرت اور سائنس جیسے مختلف پہلوؤں میں دنیا کی ترتیب و تشکیل میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ فرانس اس قابل ہے کہ اس پر اپنی بھرپور توجہ ڈال کر وہاں کے تاریخی، سیاسی، ثقافتی، علمی، ادبی، سماجی اور سائنسی حسن و عظمت کو دریافت کیا جائے، مزید برآں عالمی سطح پر اس کی قابل قدر حیثیت، شراکت اور اثر و رسوخ کو بھی اجاگر کیے جائیں۔ فرانس نے حال ہی میں اعلان کیا کہ "وہ آئندہ چند ماہ میں فلسطین کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا”۔ اس کے علاؤہ فرانس نے سعودی عرب کے ساتھ مل کر ہر اس قدم اور کوشش کا ساتھ دیا جو مشرق وسطی کے سنگین ترین مسئلے کے حل کے لیے بروئے کار آ رہی ہے۔
تاریخی طور پر، فرانس ایک طویل اور تہہ در تہہ ماضی رکھتا ہے جس نے اس کی شناخت اور اثر و رسوخ کو قائم کر دیا ہے۔ رومن فتح سے لے کر شارلمین کے ماتحت فرینکش بادشاہت کے عروج تک، فرانس یورپی تاریخ کا ایک محوری ملک رہا ہے۔ 1789 کے فرانسیسی انقلاب نے ملکی تاریخ میں ایک اہم موڑ لیا، جس کے نتیجے میں پہلی فرانسیسی جمہوریہ کا قیام اور نپولین بوناپارٹ کا بالآخر عروج ہوا۔ فرانس کی نوآبادیاتی سلطنت نے افریقہ، ایشیا اور آمریکہ سمیت مختلف علاقوں کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کو ترتیب دینے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
فرانس عالمی معاملات میں بھی ایک کلیدی کھلاڑی رہا ہے، امن کے لیے لگے مذاکرات ہو یا جنگ کے لیے سجا میدان، موثر سفارت کاری ہو یا فعال بین الاقوامی تعلقات، فرانس کی حیثیت ہمیشہ مضبوط رہی ہے۔ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بانی ارکان میں سے ایک کے طور پر، فرانس عالمی سطح پر امن اور تعاون کا پرجوش حامی رہا ہے۔ فرانسیسی لیڈروں جیسا کہ چارلس ڈی گال اور فرانکوئس مٹرینڈ نے ملک کے سیاسی منظر نامے پر دیرپا اثر چھوڑا ہے۔
فرانس فن، تفریح، موسیقی، کھانوں اور فیشن میں اپنی شراکت کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ ملک صدیوں سے فنکارانہ جدت طرازی کا مرکز رہا ہے، جس میں تاثریت اور حقیقت پسندی جیسی تحریکیں یہاں شروع ہوئیں ہیں۔ 2019 میں دس کروڑ سیاحوں نے فرانس کا رخ کیا تھا، یہ سیاحوں کے حوالے سے دنیا بھر میں ایک ریکارڈ ہے۔ فرانسیسی کھانوں کو دنیا بھر میں اس کی نفاست اور تنوع کے لیے مانا جاتا ہے، جس میں coq au vin اور bouillabaisse جیسے پکوان فرانسیسی ذوق کی مشہور علامتیں بنی ہیں۔ فرانسیسی فیشن ہاؤسز جیسے چینل اور ڈائر نے دنیا بھر کے رجحانات کو متاثر کرتے ہوئے پرکشش اور جاذب انداز کے بے شمار معیارات قائم کیے ہیں۔
ادب میں فرانس نے دنیا کے نامور ادیبوں اور مفکرین کو پیدا کیا ہے۔ تاریخ میں، ادب کے شعبے میں، فرانس نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ امن نوبل انعام اپنے نام کر دیا ہے۔ والٹیئر اور روسو سے لے کر وکٹر ہیوگو اور البرٹ کاموس تک، فرانسیسی ادب کئی نسلوں کے لیے تحریک کا ذریعہ رہا ہے۔ فرانسیسی مصنفین نے ژاں پال سارتر کے وجودی فلسفے سے لے کر چارلس باؤڈیلیئر کی رومانوی شاعری تک، مختلف موضوعات اور طرزوں کی ایک وسیع رینج دنیا کے حوالے کی ہے۔
فرانس سماجی تحریکوں اور فعالیت میں بھی سب سے آگے رہا ہے۔ انسانی مساوات ہو یا پھر عمومی انصاف، انسانی حقوق کا معاملہ ہو یا پھر بنیادی آزادیوں کی تحفظ حقیقت یہ ہے کہ ہر جگہ اور موقع پر فرانس کی توانا آواز سنائی دیتی ہے۔ تاریخ میں فرانس کا انقلاب جمہوریت اور انسانی حقوق کی جنگ میں ایک اہم لمحہ ثابت ہوا تھا، جس نے دنیا بھر میں مختلف تحریکوں کو متاثر کیا۔ فرانس امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے خلاف جنگ میں بھی ایک اہم رہنما رہا ہے، جیسا کہ چرچ اور ریاست کی علیحدگی سے متعلق 1905 کا قانون اور 2013 کا قانون جس میں ہم جنس پرستوں کو شادی کا قانونی حق دیا گیا تھا۔ (ان دونوں کاموں کو میرا نظریاتی نظام انہضام ہضم نہیں کر پاتا، فرانسیسی قوم کی زندگی میں یہ بہت بڑی اور بری علتیں ہیں)۔
فرانس طب، طبیعیات اور ریاضی جیسے شعبوں میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ فرانسیسی سائنس دانوں جیسے میری کیوری، لوئس پاسچر، اور بلیز پاسکل نے ایسی اہم دریافتیں کی ہیں جنہوں نے قدرتی دنیا کے بارے میں انسانی ادراک کی سرحدوں کو توسیع بخشی ہے۔ فرانس میں پاسچر انسٹی ٹیوٹ اور فرانسیسی نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ جیسے معتبر تحقیقی ادارے موجود ہیں، جو کہ سائنسی علوم کی حدود کو دن بہ دن آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔
فرانسیسی طرزِ زندگی کا ایک واضح پہلو فن اور ثقافت کے لیے ان کا بے تحاشا جذبہ ہے۔ فرانس صدیوں سے فنکارانہ اور ثقافتی تحریکوں کا مرکز رہا ہے، جس نے دنیا کے عظیم فنکاروں، ادیبوں اور موسیقاروں کو پیدا کیا۔ فرانسیسیوں میں خوبصورتی اور جمالیات کی جانب گہری رغبت پائی جاتی ہے، جو ان کے شاندار فن تعمیر، بے مثال فیشن اور عالمی معیار کے عجائب گھروں جیسے لوور اور میوزی ڈی سے ظاہر ہوتی ہے۔
فرانسیسی طرز زندگی کا ایک اور اہم پہلو اعلی ترین معیار کی ماکولات و مشروبات سے ان کی محبت ہے۔ فرانسیسی کھانوں کو دنیا بھر میں اس کی نفاست اور ذائقے کے لیے مانا جاتا ہے، جس میں coq au vin، boeuf bourguignon، اور croissants جیسے پکوان عالمی سطح پر مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔ فرانسیسی اپنی نفاست سے بھرپور روایات پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں، مسحور کن ریسٹورنٹس میں تازہ اور مقامی اجزاء سے منہ میں پانی بھرنے والے پکوان تیار کیے جاتے ہیں جو کہ لذت کام و دہن کے کام آتے ہیں۔
فرانسیسی طرز زندگی میں فرصت، راحت اور آرام کی اہمیت پر برابر زور دیا جاتا ہے۔ فرانسیسی "joie de vivre” کے تصور پر یقین رکھتے ہیں، جس کا ترجمہ "زندگی کی خوشی” ہے۔ یہ فلسفہ لوگوں کو زندگی کی سادہ لذتوں سے لطف اندوز ہونے کی ترغیب دیتا ہے، چاہے وہ دوستوں کے ساتھ آرام سے کھانے کا لطف اٹھانا ہو، کسی دلکش مقام پر ٹہلنا ہو، یا کسی اچھی کتاب کے ساتھ کیفے میں آرام کرنا ہو۔ فرانسیسی اپنے کام اور زندگی کے درمیان توازن کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں، بہت سے کاروبار دوپہر کے کھانے کے وقفوں میں بند ہوتے ہیں اور اس طرح اگست کا پورا مہینہ گرمیوں کی تعطیلات کے لیے۔ آرام اور راحت پر یہ زور فرانسیسیوں کو کام کے تناؤ میں مبتلا ہونے سے روک کر زندگی کو دوبارہ چارج کرنے اور اس سے برابر لطف اندوز ہونے کا موقع دیتا ہے۔ فرانسیسی طرز زندگی خاندان اور برادری پر بھی بہت زیادہ زور دیتا ہے۔ خاندانی تعلقات فرانسیسی معاشرت میں ناقابل یقین حد تک اہم ہیں، بہت سے لوگ اپنے خاندان کے بزرگوں کے ساتھ قریبی تعلقات برقرار رکھتے ہیں۔ فرانسیسی لوگ اپنی مضبوط برادریوں پر فخر کرتے ہیں اور ایک دوسرے سے خوب منسلک رہتے ہیں۔
فرانس کے تعلیمی نظام کو اس کے سخت تعلیمی معیارات اور اعلیٰ معیاری تعلیمی اداروں کے لیے بڑے پیمانے پر جانا جاتا ہے۔ اس نظام کو کئی سطحوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کا آغاز پری اسکول سے ہوتا ہے اور پرائمری اور سیکنڈری تعلیم تک جاری رہتا ہے۔ ثانوی کے بعد کے مرحلے پر، طلباء کے پاس یونیورسٹیوں، گرینڈز ایکولز، یا خصوصی اداروں میں جانے کا اختیار ہوتا ہے جنہیں "écoles supérieures” کہا جاتا ہے۔ فرانس کے تعلیمی نظام کی سب سے نمایاں خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے تعلیمی نظام اور رجحان میں تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ فرانس کی یونیورسٹیاں نظریاتی علم اور فکری استفسار پر مضبوط توجہ کے ساتھ سیکھنے کے لیے اپنی تحقیق پر مبنی نقطہ نظر کے لیے مشہور ہیں۔ اس نے ریاضی، فلسفہ اور ادب جیسے شعبوں میں ایک رہنما کے طور پر ملکی ساکھ بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
فرانس کی معروف یونیورسٹیوں میں Sorbonne University، Ecole Normale Supérieure، اور Sciences Po جیسے ادارے شامل ہیں، یہ سبھی اپنے شاندار تعلیمی پروگراموں اور عالمی معیار کی فیکلٹی کے لیے مشہور ہیں۔ یہ یونیورسٹیاں ہیومینٹیز اور سوشل سائنسز سے لے کر انجینئرنگ اور نیچرل سائنسز تک بہت سارے مضامین پیش کرتی ہیں، جو طلباء کو اپنی تعلیمی دلچسپیاں آگے بڑھانے اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ فرانس کے تعلیمی نظام کو اس کی بلند تعلیمی معیار، تحقیق پر مرکوز توجہ اور تنقیدی سوچ پروان چڑھانے پر زور دینے کے لیے مانا جاتا ہے۔ ملک کی سرکردہ یونیورسٹیاں دنیا بھر سے طلباء کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہتی ہیں جو فرانس کی پیش کردہ بھرپور فکری روایت اور اعلیٰ معیار کی تعلیم سے مستفید ہونے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔
فرانس ایک ایسا ملک ہے جو اپنی عظمت اور تنوع کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، جو اسے واقعی کروڑوں سیاحوں کے لیے ایک منفرد اور دلکش منزل بناتا ہے۔ پیرس کے شاندار فن تعمیر سے لے کر بورڈو کے دلکش انگور کے باغات تک، فرانس سیاحوں کو حیران کرنے کے لیے روح پرور مناظر سے بھری ایک پوری دنیا پیش کر رہا ہے۔ فرانس کی عظمت کا ایک اہم پہلو اس کے ثقافتی ورثے میں مضمر ہے۔ یہ ملک دنیا کے چند مشہور ترین مقامات کا گھر ہے، جیسا کہ ایفل ٹاور، لوور میوزیم اور پیلس آف ورسائی۔ یہ مقامات نہ صرف فرانس کی تاریخی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس کی فنکارانہ اور تعمیراتی مہارتوں کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔
جس طرح افراد مختلف علتوں کا شکار ہوتے ہیں اس طرح اقوام اور ممالک بھی ہوتے رہتے ہیں۔ میں فرانس کی عظمت اور شان و شوکت پر اس کا قدر دان ضرور ہوں لیکن اس کے باوجود چند ایک ایسی علتیں بھی وہاں پائی جاتی ہیں جو کہ مجھے کبیدہ خاطر کر رہی ہیں۔ میں سوچتا ہوں اے کاش یہ علتیں فرانس میں کبھی نہ ہوتی تو اس کی عظمت اور شان سالم رہتی اور اس کے قدر دان کبھی بھی کبیدہ خاطر نہ ہوتے۔ فرانسیسی لوگ حد درجہ شراب نوش واقع ہوئے ہیں۔ دنیا کے سب سے معیاری اور مہنگے شراب فرانس میں بنائے جاتے ہیں اور استعمال کیے جاتے ہیں۔ بارز سب سے مصروف اور پر رونق مقامات ہوتے ہیں۔ اس طرح بارہ سال قبل ایک ایسا قانون پاس کیا گیا تھا جس میں ہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت دی گئی تھی، یہ سیدھا سادہ خدا اور فطرت کے خلاف جنگ ہے اور اس جنگ میں انسان ہمیشہ ہارتا چلا آ رہا ہے۔ اس طرح گزشتہ چند عشروں سے فرانسیسی قوم میں نہ صرف نسل پرستی بہت بڑھ گئی ہے بلکہ قوم کی نفسیات میں اتار بھی گئی ہے۔ انسانیت کا ملک اگر اس طرح نسل پرستی پر مبنی نفرت اور زہر ناکی سے متاثر ہوگا یہ میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
چارلس ڈیگال کہا کرتے تھے کہ "ہر فرد ایک اپنے ملک کا شہری ہوتا ہے اور دوسرا فرانس کا شہری ہوتا ہے”۔ کبھی اتنی وسعت قلبی اور کبھی آج کی تنگ نظری اللہ اللہ۔ فرانس میں نسل پرستی کی بنیاد پر بے شمار نوجوانوں کو نشانہ بنانا کس قدر دکھ اور افسوس کی بات ہے۔ اس کے علاؤہ یہ کہ زندگی کو عیش و عشرت کا موقع ہی سمجھنا اور آگے پیچھے کی کوئی فکر نہ کرنا ایک بہت بڑی علت ہے، ایک پر راحت زندگی بسر کرنا عیب نہیں لیکن عیاشی میں بالکل ڈوبنا بہت بڑا عیب ہے۔ فرانس میں کئی کھانے خالص شراب میں پکائے جاتے ہیں اور کھائے جاتے ہیں اور کھلائے جاتے ہیں۔ یہ سب غلط ہے۔