آج کے دور میں دین کی سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ اسے اس کی اصل شکل میں باقی رکھا جائے—نہ اسے سیاست کا ہتھیار بنایا جائے، نہ کاروبار کا، اور نہ ہی "روحانیت” کے نام پر شریعت سے آزاد کر دیا جائے۔ افسوس، ہمارے معاشرے میں ایک مخصوص طبقہ تصوف کے مقدس عنوان کو استعمال کر کے عام مسلمانوں کو قرآن و سنت سے دور کر رہا ہے، اور خود کو ایسا "منتخب بندہ” ظاہر کرتا ہے جس پر عام شریعت لاگو ہی نہیں ہوتی۔ یہی وہ خطرناک سوچ ہے جسے بےنقاب کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
یہ گروہ اپنے ماننے والوں کو یوں بہکاتا ہے: "ہمیں نماز کی حاجت نہیں، ہمارا دل اللہ سے جُڑا ہے”، "ہم باطن میں عبادت کرتے ہیں، تمہیں نظر نہیں آتی”، "ظاہری شریعت ہم پر لاگو نہیں، ہم تو حق کے رازدان ہیں”، "قرآن کا وہی مفہوم ہے جو آج ہم بیان کرتے ہیں، صدیوں پرانے معانی پر یقین رکھنا جہالت ہے”۔ یہ خیالات نہ صرف اسلامی عقائد کے صریح خلاف ہیں، بلکہ ایمان کے لیے زہر قاتل ہیں۔ قرآن و سنت کا پیغام دو ٹوک ہے: شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لیے ہے، اس میں نہ کمی ہو سکتی ہے، نہ اضافہ۔
تصوف کی اصل وہی ہے جو تزکیہ نفس، اخلاص اور اللہ کی قربت پر مبنی ہو۔ حضرت جنید بغدادی رحمہ اللہ نے فرمایا: "وہی صوفی ہے جو قرآن و سنت کا پابند ہو۔” یعنی وہی تصوف برحق ہے جو انسان کو شریعت سے جوڑتا ہے۔ لیکن جو تصوف نماز سے روکے، دین کے بنیادی اصولوں سے دُور کرے، نبی کی سنت کو صرف "ظاہری رسم” قرار دے کر بےوقعت بنائے—تو وہ تصوف نہیں، بلکہ نفس و شیطان کی چال ہے۔
یہ بھی المیہ ہے کہ آج بہت سے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بجائے اپنے پیر کی پیروی کو دین کا مرکز بنائے بیٹھے ہیں۔ ہر پیر کے مرید کی مخصوص ٹوپی، مخصوص رنگ کے کپڑے، مخصوص انداز—گویا ایمان کا پیمانہ رسول کی سنت کے بجائے کسی برانڈ کا حصہ بن جانا ہو۔ حالانکہ اصل روحانیت تو یہ ہے کہ انسان کا لباس، عادت، طرزِ زندگی اور دل، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو۔ جب رسول کی جگہ کوئی اور شخصیت مرکزِ تقلید بن جائے، تو یہ عقیدت شرک کی سرحدوں کو چھونے لگتی ہے۔
ہمیں صرف وہی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا، اور جس پر خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے عمل کیا۔ نہ اس میں کسی اضافے کی گنجائش ہے، نہ کسی کمی کی۔ نہ کوئی الگ ذکر، نہ نیا لباس، نہ نئی روش۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں کسی پیر یا مرشد کی ضرورت نہ تھی، اور آج بھی نہیں ہے۔ جس نے نبی کی سنت کو تھام لیا، وہ کامیاب ہوا؛ اور جو اس کے سوا کچھ تلاش کرتا ہے، وہ گمراہ ہے۔
جو شخص اسلام کی اصل شکل سے ہٹ کر جینے کو ترجیح دے، وہ کردار کے اعتبار سے مشکوک ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مردوں کی اور مردوں کو عورتوں کی مشابہت اختیار کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
"لَعَنَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّهَاتِ مِنَ النِّسَاءِ بِالرِّجَالِ، وَالْمُتَشَبِّهِینَ مِنَ الرِّجَالِ بِالنِّسَاءِ”
(صحیح بخاری: 5885)
ترجمہ: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں پر لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں، اور ان مردوں پر بھی لعنت فرمائی جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔”
آج کچھ لوگ دین کے نام پر ایسے افعال انجام دے رہے ہیں جن پر شرم آتی ہے۔ کوئی مرد عورتوں کے لباس میں رقص کرتا ہے، کوئی ہیجڑوں کے درمیان ناچتا ہے، کوئی دربار پر تھرک کر "روحانیت” کے نام پر فحاشی پھیلا رہا ہے۔ جو ہاتھ اللہ کے حضور اٹھنے چاہئیں، وہ زمین پر تھرکنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ جو اللہ اور رسول کو راضی کرنے کے بجائے پیر کو خوش کرنے کے لیے ناچے، اس کا دین سے کوئی واسطہ نہیں۔
یہ خودساختہ "مرشد”، "پیر” اور "روحانی رہنما” دراصل روحانیت کے لبادے میں چھپے کاروباری لوگ ہیں۔ ان کے پاس نہ علم ہے، نہ شریعت کی سمجھ، نہ قرآن کا نور، نہ سنت کی خوشبو۔ یہ سادہ لوح عوام کو "کرامات” اور "خفیہ علوم” کا لالچ دے کر اپنا غلام بنا لیتے ہیں۔ الہام اور خوابوں کے نام پر دعوے کرتے ہیں، حالانکہ قرآن و سنت کے خلاف آنے والی ہر بات باطل ہے، خواہ وہ الہام میں ہو یا خواب میں۔
اسلام کی خوبصورتی اس کی سادگی اور وضاحت میں ہے۔ نماز، روزہ، زکٰوۃ، حج، حسنِ اخلاق، صبر، سچائی، اخلاص—یہی دین کی بنیادیں ہیں۔ نہ ان میں کوئی باطنی راز چھپا ہے، نہ کوئی چھٹا رکن، نہ ساتواں دروازہ۔
قرآن فرماتا ہے:
"الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الْإِسْلَامَ دِینًا”
(سورۃ المائدہ: 3)
ترجمہ: "آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کیا۔”
ہمیں ایسے تصوف سے خبردار رہنا ہو گا جو دین کو بگاڑنے کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اصل صوفی وہی ہے جو نماز کا پابند ہو، سنت کا عاشق ہو، اور دنیا سے بےرغبتی کے ساتھ دل اللہ سے جوڑنے والا ہو۔ جو شریعت سے ہٹ کر روحانیت کا دعویٰ کرے، وہ اللہ کا دوست نہیں بلکہ نفس و شیطان کا دھوکہ ہے۔