آج طبیعت کچھ ناساز تھی تو دل نے کہا کہ اگر جسم کام نہیں کر سکتا تو قلم ہی چلا لیا جائے آخر انسان کے پاس دل بھی تو ہوتا ہے، جو کہتا ہے کہ کچھ نہ کچھ کر ہی لیا کرو۔ ویسے میرا کام بھی ایسا ہے جس میں بندہ لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر کے بیچ کہیں گم ہو جاتا ہے، اٹھنے کی فرصت کم اور بیٹھنے کا جنون زیادہ ہوتا ہے۔ اس لیے جب بیماری بھی آ جائے تو سوچتا ہوں کہ یا تو اپنے پروجیکٹ پر کام کر لوں، یا پھر لکھ ہی لوں۔ لکھنے کا شوق تو پرانی بیماری ہے، جو شکر ہے کبھی ٹھیک نہیں ہوئی، اور امید ہے کہ نہ ہی ہو۔
کچھ دن پہلے ایک بزرگ دوست سے بات ہوئی، بڑے سمجھدار آدمی ہیں، اپنے بچوں والے بھی ہیں۔ کہنے لگے، “اب تو بچوں کو موبائل دینا مجبوری بن گیا ہے، کیونکہ زمانہ ای لرننگ کا ہے۔” میں نے بھی سوچا، سچ ہی تو ہے۔ آج علم اسکول کی دیواروں سے نکل کر موبائل کی اسکرینوں تک پہنچ چکا ہے۔ بچے یوٹیوب، کورسیرا، یوڈی می، یا ڈیجی اسکلز سے ہر طرح کے ہنر سیکھ سکتے ہیں۔ علم کی دنیا ایک انگلی کے لمس پر آگئی ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ جہاں آسانی ہے، وہاں آزمائش بھی ہے۔ انٹرنیٹ وہ چراغ ہے جس سے روشنی بھی نکلتی ہے اور جلنے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔
اب اگر والدین بچوں کو موبائل دے دیں، تو ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ نگرانی کریں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سب کو یہ نہیں پتا ہوتا کہ نگرانی کیسے کی جائے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں گوگل ایک نیک کام کر گیا ہے۔ اس نے ایک ایسا ٹول بنایا ہے جو والدین کے لیے نعمت سے کم نہیں، اور اس کا نام ہے گوگل فیملی لنک۔ یہ ٹول والدین کو یہ سہولت دیتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے موبائل پر نظر رکھ سکیں، ان کے استعمال کا وقت طے کریں، اور یہ بھی دیکھ سکیں کہ وہ کن ایپس میں وقت گزار رہے ہیں۔
طریقہ نہایت آسان ہے۔ پلے اسٹور سے “Google Family Link” ایپ انسٹال کیجیے، اپنے بچے کے لیے ایک چائلڈ اکاؤنٹ بنائیں یا ان کا پرانا ای میل استعمال کریں، پھر اسے اپنے اکاؤنٹ سے لنک کر لیں۔ چند تصدیقی مراحل کے بعد، بچے کا موبائل آپ کے کنٹرول میں آ جائے گا۔ اب آپ چاہیں تو یہ طے کر سکتے ہیں کہ بچہ دن میں کتنی دیر موبائل استعمال کرے، یا رات کو کب تک اسکرین آن رہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ نے رات نو بجے سے صبح چھ بجے تک کا وقت مقرر کر دیا، تو نو بجتے ہی موبائل خود بخود لاک ہو جائے گا۔ چاہے بچہ سو ترکیبیں آزمائے، فون ان لاک نہیں ہوگا۔
یہ سہولت اسکول کے وقت بھی کام آتی ہے۔ اگر بچہ موبائل ساتھ لے جائے تو آپ مقرر کر سکتے ہیں کہ کلاس کے دوران موبائل استعمال نہ کر سکے۔ یعنی اب بچے کے ہاتھ میں موبائل ضرور ہے، لیکن اس کی لگام والدین کے ہاتھ میں ہے۔ نتیجہ یہ کہ راتوں کی جاگ کم ہوگی، صبح کے وقت نماز کے لیے آنکھ جلد کھلے گی، اور ماں باپ کے اعصاب بھی کچھ سکون پائیں گے۔
میں اکثر کوشش کرتا ہوں کہ ایسے ٹولز پر لکھوں جو لوگوں کے لیے واقعی فائدہ مند ہوں۔ لکھتے لکھتے یہ احساس ہوتا ہے کہ اگر میری تحریر سے کسی کو ذرا سا بھی فائدہ پہنچے، تو یہی میری سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آج طبیعت خراب تھی، مگر دل نے کہا کہ چلو کچھ اچھا لکھ دو۔ سو یہی تحریر بن گئی۔
اب آپ سب دوستوں سے درخواست ہے کہ اگر آپ نے گوگل فیملی لنک استعمال کیا ہے تو اپنے تجربات ضرور بتائیں۔ اور اگر نہیں کیا، تو فوراً انسٹال کر کے دیکھیے۔ یہ چھوٹی سی ایپ ہے مگر بڑے فائدے رکھتی ہے۔ آخرکار بچوں کی رہنمائی صرف ایک ذمہ داری نہیں، بلکہ محبت کا ثبوت بھی ہے۔ اور جاتے جاتے بس اتنا کہہ دوں کہ دعا ضرور کیجیے کیونکہ آج کی تحریر بیماری میں لکھی گئی ہے، مگر دل پوری طرح صحت مند ہے۔