اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں ایک نئے شہر کی تعمیر کا منصوبہ محض ایک تعمیراتی پراجیکٹ نہیں بلکہ اس شہر کے جغرافیائی، ماحولیاتی اور سماجی وجود پر ایک ایسا حملہ ہے جس کے اثرات صدیوں تک بھگتنا پڑیں گے۔
یہ شہر جو کبھی اپنی ہریالی اور پرسکون ماحول کی وجہ سے دنیا کے خوبصورت ترین دارالحکومتوں میں شمار ہوتا تھا، آج ہوس اور منافع خوری کی بھینٹ چڑھ رہا ہے۔ اگر ہم ماضی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جنگلات کا صفایا انسانیت کے لیے کبھی بھی سودمند ثابت نہیں ہوا۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی قدرتی جنگلات کو کاٹ کر کنکریٹ کے جنگل بسائے گئے، وہاں قدرت نے اپنا انتقام سیلابوں، شدید گرمی اور قحط کی صورت میں لیا۔
برازیل کے ایمیزون جنگلات کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں بے دریغ کٹائی نے نہ صرف ہزاروں نایاب جانوروں کی نسلیں ختم کر دیں بلکہ کرہ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کا باعث بنی۔ پاکستان میں بھی ہم نے دیکھا کہ ہمالیہ اور ہندوکش کے دامن میں درختوں کی کٹائی نے سوات اور مری جیسے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک آنے والے سیلابوں کو جنم دیا جس میں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
اسلام آباد کی موجودہ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ یہ شہر اب مزید بوجھ اٹھانے کی سکت ہی نہیں رکھتا۔ ایک چھوٹا سا شہر جو چند لاکھ کی آبادی کے لیے بنا تھا، اب لاکھوں کی اضافی آبادی اور گاڑیوں کے دھوئیں تلے دب چکا ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیاں اس شہر کے لیے ایک ڈھال کا کام کرتی ہیں، یہ یہاں کے درجہ حرارت کو کنٹرول کرتی ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
جب آپ ایک ہزار ایکڑ پر پھیلا ہوا جنگل صاف کریں گے اور پہاڑوں کو کاٹ کر وہاں سیمنٹ کی سڑکیں بنائیں گے، تو آپ دراصل اس شہر کا گلا گھونٹ رہے ہوں گے۔ درختوں کے خاتمے سے مارگلہ میں پائے جانے والے تیندوے، ہرن، نایاب پرندے اور دیگر جنگلی حیات بے گھر ہو جائیں گے، جو پہلے ہی سکڑتے ہوئے مسکن کی وجہ سے انسانی آبادیوں کا رخ کر رہے ہیں۔ یہ حیاتیاتی تنوع کی وہ تباہی ہے جس کا ازالہ اربوں روپے خرچ کر کے بھی نہیں کیا جا سکتا۔
سب سے المناک پہلو وہ انسانی المیہ ہے جو اکثر ایسی "ترقی” کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ اسلام آباد کے گرد و نواح میں دہائیوں سے آباد غریب بستیوں اور دیہاتوں کو اکثر ان بڑے پراجیکٹس کے لیے مسمار کر دیا جاتا ہے۔ غریب لوگ جو نسل در نسل یہاں مقیم تھے، انہیں معمولی معاوضہ دے کر یا طاقت کے زور پر دربدر کر دیا جاتا ہے، جبکہ ان کی زمینوں پر اشرافیہ کے لیے پرتعیش ولاز اور کمرشل پلازے کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔
یہ غریب طبقہ اپنی چھت سے بھی محروم ہو جاتا ہے اور اس کا روزگار بھی چھین لیا جاتا ہے، جس سے معاشرتی ناہمواری اور جرائم میں اضافہ ہوتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس تمام تر تباہی کا مالی فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اس کا براہ راست فائدہ اس طاقتور مافیا کو ہوتا ہے جس میں بڑے ڈویلپرز، بااثر بیوروکریٹس اور وہ مفاد پرست ٹولہ شامل ہے جو زمین کے کاروبار کو سونے کی کان سمجھتا ہے۔ یہ لوگ سستے داموں جنگلاتی زمینیں ہتھیا کر انہیں کروڑوں روپے کے پلاٹوں میں تبدیل کرتے ہیں اور عوام کی آنکھوں میں "جدید طرز زندگی” کی دھول جھونکتے ہیں۔
پاکستان میں خاص طور پر 2022 کے بعد سے جو ہائبرڈ نظام مضبوط ہوا ہے، اس نے ملک کے دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کو بھی مفلوج کر دیا ہے۔ اس نظام کے تحت ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن میں نہ تو عوامی رائے شامل ہے اور نہ ہی مستقبل کی فکر۔ اس ہائبرڈ ڈھانچے میں جوابدہی کا تصور ختم ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے اسلام آباد جیسے حساس علاقے میں ایسے میگا پراجیکٹس لائے جا رہے ہیں جو سراسر قانون اور فطرت کے خلاف ہیں۔
اس نظام کی سب سے بڑی دشمنی اسلام آباد کے ماحول اور پہاڑوں سے اس لیے ہے کیونکہ یہ پہاڑ اور جنگلات "کمرشلائز” نہیں ہو سکتے جب تک انہیں کاٹا نہ جائے۔ ایک طاقتور مافیا کی نظر میں یہ سرسبز پہاڑ صرف ایک "ڈیڈ ایسٹ” (Dead Asset) ہیں جن سے پیسہ نہیں کمایا جا رہا، اس لیے وہ اسے سیمنٹ اور سریے کے ڈھیر میں تبدیل کر کے اپنا بینک بیلنس بڑھانا چاہتے ہیں۔ پارلیمان کی کمزوری اور بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی نے ان منافع خوروں کے لیے راستہ صاف کر دیا ہے، کیونکہ یہاں اب کوئی ایسا نمائندہ نہیں جو عوام کے لیے ان پہاڑوں کا مقدمہ لڑ سکے۔
یہ ہائبرڈ نظام دراصل ماحولیاتی دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے، جہاں قانون صرف غریب کے لیے ہے اور پہاڑ کاٹنے والے مافیا کے لیے ہر راستہ کھلا ہے۔ اگر آج اسلام آباد کی شعور رکھنے والی عوام اور اصلاحی گروپوں نے ان "ریڈ لائنز” کا تحفظ نہ کیا، تو مستقبل قریب میں یہ شہر رہنے کے قابل نہیں رہے گا اور ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ورثے میں صرف خشک ندی نالے، گرد و غبار اور پتھروں کا ڈھیر دے کر جائیں گے۔ مارگلہ کی پکار دراصل اس شہر کے آخری سانسوں کی آواز ہے جسے سنا جانا اب ناگزیر ہو چکا ہے۔
محسن نقوی کی زیرِ نگرانی اسلام آباد میں شروع کیے جانے والے نئے تعمیراتی منصوبے اور مارگلہ کی حدود میں مداخلت دراصل اس شہر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔ جب ایک ایسا انتظامی ذہن، جو صرف سڑکوں، پلوں اور کنکریٹ کے ڈھانچوں کو ترقی سمجھتا ہو، اسلام آباد جیسے حساس ماحولیاتی زون کا فیصلہ ساز بن جائے تو تباہی کے اثرات کسی ایک دہائی تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی کئی نسلوں کا مستقبل داؤ پر لگ جاتا ہے۔ محسن نقوی کے دور میں جس تیز رفتاری سے "ترقی” کا غلغلہ بلند کیا جا رہا ہے، اس کے پیچھے چھپا اصل نقصان اسلام آباد کی وہ فطری روح ہے جسے دوبارہ کبھی زندہ نہیں کیا جا سکے گا۔
مستقبل کے حوالے سے سب سے بڑا خطرہ اسلام آباد کے زیرِ زمین پانی کا مکمل خاتمہ ہے۔ مارگلہ کی پہاڑیاں اور ان کے دامن میں موجود جنگلات قدرتی طور پر "ایکویفر ری چارج” کا کام کرتے ہیں۔ جب ان پہاڑوں کو کاٹ کر وہاں سڑکیں بچھائی جائیں گی اور ایک ہزار ایکڑ پر کنکریٹ کی چھتیں ڈال دی جائیں گی، تو بارش کا پانی زمین میں جذب ہونے کے بجائے نالوں کے ذریعے ضائع ہو جائے گا۔ مستقبل قریب میں اسلام آباد کے شہری بوند بوند کو ترسیں گے اور یہ شہر ایک بنجر صحرا کی تصویر پیش کرے گا جہاں پانی صرف ٹینکر مافیا کی مرہونِ منت ہوگا۔
دوسرا بڑا نقصان درجہ حرارت میں وہ ہولناک اضافہ ہے جسے ماہرینِ ماحولیات "اربن ہیٹ آئی لینڈ” کہتے ہیں۔ اسلام آباد کا درجہ حرارت پہلے ہی گزشتہ چند برسوں میں کئی ڈگری بڑھ چکا ہے۔ محسن نقوی کی ان سکیموں کے نتیجے میں جب ہزاروں درخت کاٹ دیے جائیں گے، تو مارگلہ سے آنے والی ٹھنڈی ہوائیں ختم ہو جائیں گی اور سیمنٹ کے یہ بلاکس گرمی کو جذب کر کے شہر کو ایک تندور میں بدل دیں گے۔ وہ شہر جہاں لوگ گرمیوں میں مری جیسا احساس لینے آتے تھے، وہاں ایئر کنڈیشنر کے بغیر زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے گا، جس سے بجلی کا بحران اور معاشی بوجھ مزید بڑھے گا۔
ماضی میں ہم نے دیکھا کہ کیسے پشاور اور لاہور میں درختوں کی کٹائی اور بے ہنگم فلائی اوورز نے ان شہروں کی آب و ہوا کو زہر آلود کر دیا۔ لاہور آج دنیا کا آلودہ ترین شہر بن چکا ہے کیونکہ وہاں بھی اسی طرح کے "سیمنٹ زدہ” ترقیاتی ماڈل کو اپنایا گیا تھا۔ محسن نقوی کا وہی لاہور ماڈل اب اسلام آباد پر مسلط کیا جا رہا ہے، جہاں جنگلات کو "فضول زمین” سمجھ کر وہاں پلاٹنگ کی جا رہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا مالی فائدہ اس مخصوص ڈویلپر کلاس اور بیوروکریٹک اشرافیہ کو ہوگا جو فائلیں بیچ کر ارب پتی بن جاتے ہیں، جبکہ عام شہری آلودگی، بیماریوں اور قدرتی آفات کی صورت میں اس کی قیمت چکاتا ہے۔
2022 کے بعد سے ملک پر مسلط ہائبرڈ نظام دراصل جوابدہی سے عاری ہے۔ محسن نقوی جیسے چہرے اسی نظام کا تسلسل ہیں جنہیں عوامی جذبات یا ماحولیاتی بقا سے کوئی سروکار نہیں۔ ان کا ہدف صرف قلیل مدتی واہ واہ سمیٹنا اور طاقتور حلقوں کے مالی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ اسلام آباد کی مارگلہ پہاڑیاں ہماری آخری دفاعی لائن ہیں۔ اگر ان اسکیموں کو نہ روکا گیا تو مستقبل کا مؤرخ لکھے گا کہ ایک خوبصورت شہر کو چند پلاٹوں اور کمیشن کی خاطر ان لوگوں کے ہاتھوں ذبح کر دیا گیا جنہیں نہ مٹی سے پیار تھا اور نہ ہی اس کی ہریالی سے۔ یہ اسلام آباد دشمنی نہیں بلکہ انسانیت دشمنی ہے جس کا خمیازہ ہم سب کو بھگتنا ہوگا۔