مذاکرات کے دوسرے دور میں تاخیر کیوں؟

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد ہونے والی جنگ بندی نے وقتی طور پر خطے کو ایک بڑے تصادم سے بچا لیا، لیکن اصل امتحان اب مذاکرات کے میدان میں جاری ہے۔ پہلے دور کے مذاکرات کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کی حکمت عملی، کمزوریوں اور بارگیننگ پوزیشن کو بخوبی سمجھ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوسرے دور میں داخل ہونے سے پہلے دونوں فریق نہ صرف محتاط ہیں بلکہ اپنی شرائط کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش میں بھی مصروف ہیں، جس کے باعث تاخیر ناگزیر نظر آتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اعتماد کی فضا قائم نہیں ہو سکی۔ امریکہ بظاہر کشیدگی میں کمی اور خطے میں استحکام کا خواہاں ہے، مگر اس کی پالیسی محض جنگ بندی تک محدود نہیں۔ واشنگٹن چاہتا ہے کہ ایران کو ایک ایسے معاہدے پر آمادہ کیا جائے جس میں اس کے جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور دفاعی صلاحیتوں پر مزید قدغنیں لگائی جا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ مذاکرات کو دباؤ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے، تاکہ ایران کو زیادہ سے زیادہ رعایتیں دینے پر مجبور کیا جا سکے۔

دوسری جانب ایران کی حکمت عملی بھی واضح اور دو ٹوک ہے۔ تہران جنگ بندی کو کسی کمزوری کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہتا بلکہ اسے برابری کی سطح پر مذاکرات کا آغاز سمجھتا ہے۔ ایران کے لیے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اسے عالمی سطح پر اقتصادی ریلیف دیا جائے، پابندیوں میں نرمی ہو، اور کسی بھی معاہدے کی صورت میں بین الاقوامی ضمانت فراہم کی جائے تاکہ ماضی کی طرح یکطرفہ انخلا کا خطرہ نہ رہے۔ ایران “بیل آؤٹ پیکیج” کی شکل میں معاشی سہارا بھی چاہتا ہے، جو اس کی معیشت کو سنبھالنے میں مدد دے سکے۔

یہی وہ بنیادی تضاد ہے جو مذاکرات کے دوسرے دور میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے۔ ایک طرف امریکہ دباؤ بڑھا کر زیادہ حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران برابری اور ضمانتوں کے بغیر آگے بڑھنے کو تیار نہیں۔ دونوں فریق بیک وقت جنگ سے بچنا بھی چاہتے ہیں اور اپنے مفادات کا مکمل تحفظ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ اس کشمکش میں وقت ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے—جتنا وقت گزرے گا، اتنا ہی ہر فریق اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔

مزید برآں، عالمی اور علاقائی سیاست بھی اس تاخیر میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ امریکہ اپنی داخلی سیاسی صورتحال اور اتحادیوں کے دباؤ کو مدنظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ ایران اپنے عوامی بیانیے اور داخلی استحکام کو نقصان پہنچائے بغیر کوئی قدم اٹھانا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ روس، چین اور یورپی طاقتوں کے مفادات بھی اس عمل پر اثرانداز ہو رہے ہیں، جو چاہتے ہیں کہ کوئی بھی معاہدہ ان کے اسٹریٹجک مفادات کے خلاف نہ جائے۔

موجودہ حالات یہ بتاتے ہیں کہ مذاکرات کا دوسرا دور محض تکنیکی یا سفارتی تاخیر کا شکار نہیں، بلکہ یہ ایک سوچے سمجھے وقفے کا نتیجہ ہے جس میں دونوں ممالک اپنی چالیں ترتیب دے رہے ہیں۔ یہ تاخیر بظاہر منفی دکھائی دیتی ہے، مگر درحقیقت یہ اس بات کی علامت بھی ہو سکتی ہے کہ دونوں فریق کسی جلد بازی میں نہیں بلکہ ایک دیرپا اور اپنے حق میں بہتر معاہدہ چاہتے ہیں۔

اگر آنے والے دنوں میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کون سا فریق کتنی لچک دکھاتا ہے اور کیا دونوں ممالک اپنے زیادہ سے زیادہ مطالبات کے بجائے کسی درمیانی راستے پر آمادہ ہوتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال یہی کہا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کی میز سجی ہوئی ہے، مگر اصل کھیل ابھی باقی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے