اسلام آباد میں ڈبہ بند جوس پینے سے ہلاکتوں کا دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے جس کی محکمہ صحت کے حکام اور دارالحکومت کے بڑے اسپتالوں نے بھی تردید کر دی ہے۔
پچھلے ہفتے پاکستان میں سوشل میڈیا پر ایسے دعووں کی بھرمار رہی جن میں کہا گیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زہریلا ڈبہ بند جوس پینے سے تین افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔
یہ دعویٰ غلط ہے۔
دعویٰ
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف نے لکھا کہ ”گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران جی-سکس (G-6) کے علاقے میں مبینہ طور پر جوس پینے سے تین ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن کی عمریں بالترتیب 34، 19 اور 22 سال تھیں۔“
پوسٹ میں مزید یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ تشویشناک حالت میں دو مریضوں کو سی ڈی اے (CDA) اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے، جبکہ یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ جوس کے برانڈ کی شناخت نہیں ہو سکی کیونکہ انتقال کرنے والوں میں سے ایک نے مرنے سے قبل صرف ”جوس“ کا لفظ ہی بولا تھا۔
اسی طرح کے دعوے ایکس (ٹوئٹر)، فیس بک، انسٹاگرام اور تھریڈز پر بھی شیئر کیے گئے ہیں جنہیں یہاں، یہاں، یہاں اور یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
حقیقت
اسلام آباد میں ڈبہ بند جوس پینے سے ہلاکتوں کا دعویٰ غلط ثابت ہوا ہے جس کی محکمہ صحت کے حکام اور وائرل پوسٹس میں مذکورہ اسپتالوں نے تردید کر دی ہے۔
کیپیٹل اسپتال اسلام آباد (سی ڈی اے کے زیر انتظام ادارہ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر نعیم تاج نے بتایا کہ میڈیکل ریکارڈ کے جائزے اور متعلقہ محکمہ صحت کے ساتھ معلومات کے تبادلے کے بعد ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو ان مبینہ ہلاکتوں کو جوس پینے سے جوڑتے ہوں۔
ڈاکٹر نعیم تاج کے مطابق ایک مریض پہلے سے طبیعت خراب ہونے (سینے میں درد اور قے) کی شکایت میں مبتلا تھا، جوس بعد میں استعمال کیا گیا، دوسرے مریض میں جوس کے استعمال کی کوئی ہسٹری موجود نہیں تھی، دیگر کیس میں بھی علامات (قے اور سینے میں درد) سامنے آئیں، تاہم کسی مضر جوس کے استعمال کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملا۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس (DHO) اسلام آباد کے ایک اہلکار نے بھی جیو فیکٹ چیک کو تصدیق کی ہے کہ ان دعووں کا جائزہ لینے کے بعد انہیں غلط پایا گیا ہے، اہلکار کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر، ڈی ایچ او اور دیگر متعلقہ محکموں کو اسلام آباد کے کسی بھی سرکاری اسپتال میں ایسے کسی واقعے کا کوئی ریکارڈ نہیں ملا۔
پمز(PIMS) اسپتال اسلام آباد کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر عمران سکندر اور فیڈرل جنرل اسپتال کے ایک عہدیدار نے بھی ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔
مزید برآں، کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی ایک آفیشل پوسٹ میں واضح کیا ہے کہ اسپتال کے ریکارڈ کے جائزے کے بعد ان ہلاکتوں کا غیر معیاری جوس پینے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔
اتھارٹی نے مزید بتایا کہ اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے انتقال کر جانے والے افراد کی رہائش گاہوں کے قریبی بازاروں کا معائنہ بھی کیا، تاہم وہاں سے مضرِ صحت جوس کے کوئی اثرات نہیں ملے۔
فیصلہ:
متعدد سرکاری ذرائع اور سرکاری اسپتالوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسلام آباد میں ایسی کسی ہلاکت کی نہ تو کوئی اطلاع ملی ہے اور نہ ہی اسے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، اسپتال کے ریکارڈ اور مشترکہ تحقیقات کے نتیجے میں کسی بھی جانی نقصان کا جوس پینے سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا۔