Echoes from the Mountains (پہاڑوں میں گونج)

پختون معاشرے کی تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ پختون خواتین نے ہر دور میں زندگی کے مختلف شعبوں میں مردوں کے شانہ بہ شانہ اپنا فعال کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے معاشرتی، ثقافتی اور قومی زندگی کے سنگلاخ راستوں پر مردوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر سفر کیا، اگرچہ انہیں ہمیشہ وہ اعتراف اور پذیرائی نہیں ملی جس کی وہ بجا طور پر مستحق تھیں۔

پشتو کے عوامی اور لوک ادب میں اس حقیقت کی واضح جھلک ملتی ہے۔ ٹپہ اور سندرہ جیسی اصناف، جنہیں عموماً خواتین کی تخلیقی میراث تصور کیا جاتا ہے، عورت کے جذبات، احساسات، نفسیاتی کیفیات اور محرومیوں کی نہایت دلکش اور جمالیاتی عکاسی کرتی ہیں۔ ان لوک اصناف میں عورت کی داخلی دنیا پوری توانائی کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔

پشتو زبان کی ایک معروف کہاوت ہے:

"پہ ښځو کښې که عقل نہ وے نو پوزه يې د پرې کولو وه”

یعنی اگر عورت میں عقل نہ ہوتی تو اس کی ناک کاٹ دی جاتی۔

یہ کہاوت دراصل عورت کی عقل، فہم اور شعور کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ پختون معاشرے میں ناک عزت، وقار اور آبرو کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ اس مثل کا مفہوم یہ ہے کہ عورت بھی مرد کی طرح عقل و ادراک رکھنے والی ایک مکمل انسان ہے۔ عورت اور مرد میں بنیادی فرق صرف جنس کا ہے، جبکہ فکری، انسانی اور اخلاقی صلاحیتوں کے اعتبار سے دونوں یکساں احترام کے مستحق ہیں۔

پختون تاریخ کی تین بڑی قومی و فکری تحریکیں پیر روشان کی تحریک، خوشحال خان خٹک کی تحریک اور بیسویں صدی میں خان عبدالغفار خان (باچا خان) کی خدائی خدمت گار تحریک اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ ان تحریکوں کے قائدین نے خواتین کی تعلیم، تربیت اور سماجی شرکت کو خصوصی اہمیت دی۔ انہوں نے خواتین کو قومی زندگی میں فعال کردار دینے کے لیے عملی اقدامات کیے اور اس عمل کا آغاز اپنے خاندانوں اور گھرانوں سے کیا۔ بعد ازاں احمد شاہ ابدالی کے عہد میں بھی خواتین کی سماجی حیثیت کو مستحکم کرنے کی کوششیں نظر آتی ہیں۔ آج پختون خواتین زندگی کے تقریباً ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔

ڈاکٹر خالدہ نسیم بھی انہی باصلاحیت اور تاریخ ساز پختون خواتین میں شامل ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک معالج ہیں اور ادبی میدان میں ایک معتبر شاعرہ، افسانہ نگار اور مترجمہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کا تعلق پشاور سے ہے، تاہم وہ گزشتہ کئی برسوں سے کینیڈا میں مقیم ہیں جہاں طب کے شعبے میں انسانی خدمت کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

حال ہی میں انہوں نے پشتو کے عظیم شاعر غنی خان کی شاعری کا انگریزی ترجمہ "Echoes from the Mountains” کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب عمدہ طباعت اور دلکش پیشکش کے ساتھ منظرِ عام پر آئی ہے اور پشتو ادب کے عالمی تعارف کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

غنی خان کا شمار پشتو ادب کے عظیم ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ انہیں علمی و ادبی حلقوں میں "لیونے فلسفی” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قدرت نے انہیں غیرمعمولی تخلیقی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ صرف ایک بلند پایہ شاعر ہی نہیں بلکہ فلسفی، مصور، مجسمہ ساز اور صاحبِ بصیرت سیاسی مفکر بھی تھے۔ ان کی شاعری میں عشق، فطرت، انسان دوستی، آزادیِ فکر اور وجودی سوالات کا ایک منفرد امتزاج ملتا ہے۔

غنی خان کی معروف انگریزی تصنیف "The Pathan” پہلی مرتبہ 1947ء میں ہندوستان سے شائع ہوئی۔ میرے محترم استاد اقبال حسین افکار کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کتاب کے دوسرے ایڈیشن کی اشاعت 1990ء میں ان کی نگرانی میں پاکستان ہی میں عمل میں آئی۔ غنی خان نے کتاب کے پہلے ایڈیشن کی ایک نقل پر اقبال حسین افکار کے لیے جو تحسینی کلمات غنی خان نے تحریر کیے تھے، وہ ان کے علمی مقام کا اعتراف ہیں اور ہمارے لیے بھی باعثِ افتخار ہیں۔

شاعری کسی قوم کی زبان، تہذیب اور روحِ عصر کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جب کوئی شاعر اپنی تخلیق میں ایسے معانی اور تجربات کو سمو دیتا ہے جو محض لفظوں سے آگے بڑھ کر انسانی وجود کی گہرائیوں کو چھو لیں تو اس کی شاعری عالمی ادب کا حصہ بن جاتی ہے۔ غنی خان بلا شبہ اسی قبیل کے شاعر ہیں۔

بدقسمتی سے غنی خان کی شاعری ابھی تک دنیا کی بڑی زبانوں میں اس تواتر سے منتقل نہیں ہو سکی جس کی وہ مستحق تھی۔ اگرچہ ان کی بعض نظموں کے اردو اور انگریزی تراجم سامنے آئے ہیں اور متعدد اہلِ علم نے ان کے فن و فکر پر گراں قدر کام کیا ہے، تاہم ان کے وسیع فکری اور شعری سرمائے کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے لیے مزید سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

ایسے ماحول میں ڈاکٹر خالدہ نسیم کا یہ ترجمہ خصوصی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ انہوں نے محض الفاظ کا ترجمہ نہیں کیا بلکہ غنی خان کی شاعری میں موجود تہذیبی، جمالیاتی اور فلسفیانہ جہات کو بھی انگریزی قاری تک منتقل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

شاعری کا ترجمہ ہمیشہ ایک مشکل اور نازک عمل سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں صرف معنی کی منتقلی کافی نہیں ہوتی بلکہ اصل متن کی فضا، موسیقیت، جذباتی تاثیر اور تہذیبی رنگ کو بھی برقرار رکھنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر خالدہ نسیم نے اس ذمہ داری کو بڑی سنجیدگی اور فنی مہارت سے نبھایا ہے۔ کئی مقامات پر انہوں نے لفظی ترجمے کے بجائے مفہوم اور تاثر کو ترجیح دی ہے، جس سے اصل شاعری کی روح محفوظ رہی ہے۔

انگریزی متن میں روانی، شعریت اور معنوی گہرائی برقرار رکھنے کی شعوری کوشش نمایاں ہے۔ پشتو کے بعض مخصوص ثقافتی اور لسانی حوالوں کو انہوں نے ایسے انداز میں منتقل کیا ہے کہ غیر پشتون قاری بھی ان کے مفاہیم تک رسائی حاصل کر سکے۔ یہی کسی کامیاب ادبی ترجمے کی سب سے بڑی خوبی ہوتی ہے۔

اگرچہ کوئی بھی ترجمہ اصل متن کی تمام لطافتوں اور باریکیوں کو مکمل طور پر منتقل نہیں کر سکتا، تاہم "Echoes from the Mountains” اس اعتبار سے ایک قابلِ قدر اور کامیاب ادبی کاوش ہے۔ آئندہ ایڈیشنز میں اگر چند اضافی توضیحی نوٹس یا مختصر لغت شامل کر دی جائے تو قارئین کے لیے اس کے فہم میں مزید آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

مجموعی طور پر "Echoes from the Mountains” پشتو ادب کے عالمی تعارف کی جانب ایک اہم اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ ڈاکٹر خالدہ نسیم نے غنی خان کے فکری اور جمالیاتی ورثے کو انگریزی زبان کے ذریعے وسیع تر دنیا تک پہنچانے کا جو فریضہ انجام دیا ہے، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہے۔ یہ کتاب صرف ایک ترجمہ نہیں بلکہ تہذیبوں، زبانوں اور ادبی روایتوں کے درمیان ایک خوبصورت پل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ڈاکٹر خالدہ نسیم کی یہ کاوش نہ صرف غنی خان کے مداحوں بلکہ عالمی ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے بھی ایک قیمتی تحفہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے