اللہ اللہ کرو !!
زندگی اللہ پاک کی بیش بہا نعمتوں میں سے ایک ہے ۔اسے آخری سانس تک بھر پور جینا چاہیے ۔۔جیسے آج کل کے بچوں کا پسندیدہ قول ہے کہ YOLO..یعنیYou live only once …
لیکن ہمارے معاشرے میں کچھ الگ ہی چلن ہے ۔۔اکثر شادی بیاہ اور دیگر محافل میں ایسی مخلوق کو دیکھا جو ایک طرف سادہ سے کپڑوں میں ملبوس بیٹھی ہوتی ہیں ۔۔صحت کے حالات بھی کچھ بہتر نہیں ہوتے ۔۔آنکھیں کچھ خالی خالی سی ۔۔۔جی یہ ہماری وہ خواتین ہیں جو پچاس اور ساٹھ کی دہائی پار کر چکی ہوتی ہیں ۔کبھی اپنے گھر کی ملکہ ۔۔۔جس کے گرد پورا نظام گھومتا ہے ۔۔۔گھر کی دیکھ بھال ،بچوں کی پرورش ،میاں جی کے ناز نخرے ،رشتہ داریاں نبھانے میں ایسی مگن ہوتی ہے کہ اپنے آرام ، اپنی گرتی صحت کی طرف توجہ ہی نہیں دے پاتی۔ وقت کی ریت مٹھی سے پھسلتی جاتی ہے ۔۔ دبے پاٶں بڑھاپا بھری جوانی کو نگلنے لگتا ہے ۔۔بچے اپنے پاٶں پر کھڑے ہو کر اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہو جاتے ہیں ۔۔۔ایسے میں ہماری خواتین جو چاردیواری کے اندر ہی زندگی گزار لیتی ہیں اچانک ایک بے کار پرزے کی مانند ۔۔۔۔۔کسی کونے میں دبکنے پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔گھر کا انتظام وانصرام نئے آنے والوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے ۔۔اور اگر یہ آگے بڑھ کر کچھ کرنا بھی چاہیں تو انہیں کہا جاتا ہے بس اب آپ آرام کریں ۔۔اللہ اللہ کریں ۔۔اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔۔ساری عمر کولہو کے بیل کی طرح ذمہ داریاں نبھانے کے بعد آرام ان کا حق بھی بنتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان پر زندگی سے لطف اٹھانے کے دروازے بھی رفتہ رفتہ بند کر دیے جائیں ۔۔وہ مائیں جو اپنی راتوں کی نیند بھی قربان کر دیتی ہیں کیا اب ان کا یہ حق نہیں کہ ان کے آرام کے ساتھ ساتھ ان کے لیے زندگی گزارنے کی بہترین دلچسپیاں بھی تلاش کی جائیں ۔۔۔میں نے اکثر 30 ، 35 سال کی بوڑھی خواتین کو بھی دیکھا ۔وقت کے بے رحم ہاتھوں اور مشکلات نے ان کی زندگی کٹھن بنا دی ہوتی ہے ۔بقول شاعر
اب تو خوشی کا غم ہے نہ غم کی خوشی مجھے
بے حس بنا چکی ہے بہت زندگی مجھے
۔۔جب ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں تو ان کی صحت بھی جواب دینے لگتی ہے ۔۔کچھ ہمارا طرز زندگی بھی ایسا ہے کہ جس میں ورزش اور دیگر سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے خواتین جو گھر کے اندر رہنے پر مجبور ہوتی ہیں وہ بہت جلد بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔۔ جس میں جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی امراض بھی ہیں ۔۔
اس موضوع پر قلم اٹھانے کا خیال ایک بہت خوبصورت ویڈیو کو دیکھنے کے بعد آیا ۔۔افشاں احمد کچھ دہائیاں قبل ایک چائلڈ سٹار کے طور پر سہیل رعنا کے موسیقی کے پروگرام میں داخل ہوئیں ۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک مقبول گلوکارہ بن گئیں ۔۔اور اب جب کہ وہ ایک سینیئر شہری ہیں انہوں نے کراچی میں ایک بہت پیارے گروپ کی بنیاد رکھی ۔۔۔
جس میں انہوں نے اپنی سوسائٹی کی خواتین اور حضرات کو شامل کیا ہے ۔۔یہ سب سینیئر شہری ہیں۔۔شام کے اوقات میں سب اکٹھے ہوتے ہیں ۔۔باقاعدہ موسیقی کا انتظام ہوتا ہے افشاں احمد گانوں کے پرنٹ آٶٹ نکال کر سب شرکاء میں تقسیم کر دیتی ہیں ۔۔اور پھر سب مل کر موسیقی کی دھنوں پر لہک لہک کر گاتے ہیں ۔۔اس دوران ان کے چہروں کی چمک مسکراہٹ اور خوشی دیدنی ہوتی ہے ۔۔۔ان میں سے کچھ کا انٹرویو کیا گیا تو بولے کہ ہم نانی دادی بن چکے ہیں ۔۔۔ہمارے بچوں کو بھی کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ہم یہ چند لمحات خوشی اور مسرت کے گزارتے ہیں ۔۔اس محفل کے دوران ان سب سینیئر شرکاء کو بچوں کی مانند ہنستے ،کھلکھلاتے، شرارتیں کرتے دیکھا گیا ۔۔ان کا کہنا تھا کہ ہم پورا ہفتہ اس پروگرام کا انتظار کرتے ہیں ۔۔۔اپنی جوانی کے دور کی غزلیں گیت گا کر طبیعت بھی جوان ہو جاتی ہے ۔۔۔افشاں احمد رضاکارانہ طور پر اس پروگرام کا انعقاد کرتی ہیں ۔۔ان کا کہنا ہے کہ سوسائیٹی کے سینیر شرکاء بہت جوش اور خروش سے اس پروگرام میں شرکت کرتے ہیں ۔۔۔اسی طرح ایک اور ویڈیو نے بھی متاثر کیا ۔جس میں پشاور کے شاہی باغ میں کچھ بزرگ حضرات ایک گروپ کی شکل میں ورزش کرتے نظر آئے ۔۔۔
اس گروپ کو آرمی سے ریٹائرڈ ایک ایسی شخصیت چلا رہی ہے جو دوسروں کے لیے بھی قابل تقلید مثال قائم کر رہی ہے ۔۔انہوں نے بتایا کہ اس باغ کے ارد گرد بہت گنجان آباد علاقے ہیں ۔۔تنگ و تاریک گلیاں اور چھوٹے چھوٹے مکانات ہیں ۔ایسے میں یہ باغ کسی نعمت سے کم نہیں ۔۔۔انہوں نے کہا کہ وہ صبح سویرے نماز کے بعد یہاں پر آ جاتے ہیں ۔۔اور ورزش شروع کرتے ہیں ۔۔پہلے دوڑ لگاتے ہیں اور پھر اس کے بعد ہلکی پھلکی ورزش کرتے ہیں ۔۔ان کی دیکھا دیکھی کچھ اور سفید ریش بزرگ بھی ان کے گروپ میں شامل ہو گئے ۔۔اور روزانہ باقاعدگی سے صبح سویرے باغ میں آنا شروع ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر تعداد ریٹائرڈ حضرات کی تھی ۔۔جنہوں نے بتایا کہ جب سے گروپ جوائن کیا ہے تب سے طبیعت ہلکی پھلکی اور مزاج خوش باش ہو گیا ہے ۔۔۔صبح کی تر و تازہ ہوا سبزہ اور رنگین پھول اور اس کے ساتھ ساتھ ہم عمر لوگوں کی صحبت ۔۔۔یہ سب مل کر ان حضرات کے لیے ایک پرکشش اکٹھ بن گیا ۔۔جہاں ورزش کے بعد خوش گپیاں بھی ہوتی ہیں اور ساتھ میں حالات حاضرہ پر تبصرہ بھی ۔۔۔گروپ کے شرکا نے بتایا کہ ہمیں یہاں بہت اچھے دوست مل گئے ۔۔۔گھر بیٹھے بیٹھے تو ہمیں زنگ لگ رہا تھا لیکن یہاں پر آ کر انہیں بہت خوشی محسوس ہوتی ہے ۔۔۔اور ساتھ میں صحت پر بھی اچھا اثر ڈل رہا ہے ۔۔۔مزے کی بات یہ کہ گروپ لیڈر نے بتایا کہ اکثر ان کے ساتھ نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہو کر ورزش کرتے ہیں لیکن وہ اتنی باقاعدگی سے نہیں آ تے جتنی کہ یہ سینیئر شہری ۔کچھ عرصہ ہوا ہمارے ہاں خواتین میں دینی خاص کر درس کی محافل بہت مقبول ہو رہی ہیں ۔۔جس کی ایک بنیادی وجہ سوشل میڈیا اور موبائل کا استعمال بھی ہے جس سےانہیں گھر بیٹھے پتہ چل جاتا ہے کہ نزدیک ترین محافل کہاں پر منعقد ہو رہی ہیں ۔۔اب اکثر خواتین خانہ خاص کر بزرگ خواتین ان درس کی محافل میں باقاعدگی سے شرکت کرتی ہیں ۔۔۔
ایک فائدہ تو یہ ہے کہ دین کی سمجھ بوجھ حاصل ہوتی ہے لیکن دیکھا جائے تو پس منظر میں بڑی وجہ ہماری ان خواتین کی بوریت ہے جنہیں گھر کے ایک کونے میں اللہ اللہ کرنے کے لیے بٹھا دیا جاتا ہے ۔۔اب وہ روزانہ مخصوص اوقات میں ان محافل میں شرکت کرتی ہیں ۔۔دین کا علم حاصل کرتی ہیں ۔۔قران فہمی حاصل کرتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی ہم عمر خواتین کے ساتھ کچھ لمحات بتانے کا وقت بھی مل جاتا ہے ۔۔نئی نئی دوستیاں بنتی ہیں اور یوں ان کی زندگی کے چند لمحات روزانہ بڑے دلچسپ گزر جاتے ہیں ۔۔۔مغرب میں دیکھا جائے تو سینیئر شہریوں کے لیے باقاعدہ کمیونٹی سینٹرز بنے ہوتے ہیں ۔۔جہاں وہ اکٹھے ہو کر مختلف تفریحی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔۔وہ ساری عمر کماتے ہیں اور بڑھاپے میں خوب سیر و تفریح کرتے ہیں ۔۔۔ان کی صحت بھی قابل رشک ہوتی ہے ۔۔70، 80 کی خواتین اور مرد حضرات دوڑتے بھاگتے سائیکلیں چلاتے نظر آتے ہیں ۔۔جبکہ ہمارے ہاں بزرگوں کی دلچسپی کے لیے حکومتی اور نجی دونوں سطح پر کوئی انتظام نہیں ۔۔۔یہ بزرگ ہمارے معاشرے کا نہایت اہم حصہ ہیں ۔۔چین اور جاپان جیسے ملکوں میں سینیئر شہریوں کی تعداد بہت بڑھ گئی ہے لیکن ان کے پالیسی سازوں نے پہلے ہی سے اس کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی ہے ۔۔۔
چین کی بزرگ شہریوں کے لیے مخصوص صنعت، جسے "سلور اکانومی” (Silver Economy) کہا جاتا ہے، 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 31 کروڑ (310 ملین) سے زائد شہریوں کی ضروریات کو پورا کرنے پر مرکوز ہے۔
اس شعبے کو فروغ دینے والے اہم شعبوں میں اسمارٹ معاون ٹیکنالوجی، صحت کی دیکھ بھال اور نرسنگ خدمات، نیز بزرگ افراد کے لیے خصوصی ڈیجیٹل ای کامرس اور سیاحتی خدمات شامل ہیں۔
۔۔ہماری حکومت کو بھی معاشرے کے ان اہم کرداروں کے لیے ضروری اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ یہ بھی صحت مند تفریح کے کچھ اوقات گزار سکیں..ان کے لیے علاج معالجے کی سہولیات مفت ہوں ،سفر اور سیاحت کے اچھے انتظامات ہوں۔۔ ہمارے یہ بزرگ ۔۔۔
جنہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی لمحات اس ملک کی ترقی اور ایک پوری نسل کو پرورش کرنے میں گزار دیے۔
۔۔آئیے اپنے بزرگوں کے لیے خوبصورت پروگرام ترتیب دیں جہاں وہ اپنے ہم عمر ساتھیوں کے ساتھ بیٹھ کر خوشی سکون اور تفریح کے لمحات گزار سکیں ۔۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کہنے پر مجبور ہو جائیں۔۔
زندگی شاید اسی کا نام ہے
دوریاں مجبوریاں تنہائیاں
نازپروین معروف کالم نگار اور پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائیرکٹر ہیں.