مطالعہ روح، جسم، دماغ اور دل کی غذا ہے۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ میں جتنا زیادہ مطالعہ کرتا ہوں، خود کو اتنا ہی بڑا جاہل قرار دیتا جاتا ہوں۔ بخدا! جب نئے نئے مفکرین، نئی کتابیں اور نئے علمی زاویے سامنے آتے ہیں تو اپنی کم مائیگی، کم علمی اور علمی کاہلی پر ترس بھی آتا ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر افسوس اس وقت ہوتا ہے یہ جب احساس ہوتا ہے کہ مجھ جیسا کنوئیں کا مینڈک کہیں خود کو سمندر کا باسی تو نہیں سمجھنے لگا تھا۔
ڈاکٹر علی شریعتی کی ایک کتاب میں نے 2011ء میں پڑھی تھی، اس کے بعد ان کے چند منتخب مضامین بھی نظر سے گزرے۔ اس بار محترم برارم انصار علی(لیکچرار اوپن یونیورسٹی) نے ان کی بہت سی کتب پی ڈی ایف کی صورت میں مہیا کی ہیں، جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔
آج کل معمول یہ ہے کہ اپنے گھر میں تھکا دینے والے کے کام کرتے کرتے جسم نڈھال ہوجاتا ہے ، تو چند لمحوں کے لیے صوفے پر بیٹھ جاتا ہوں، ٹانگیں پھیلاتا ہوں اور ڈاکٹر علی شریعتی کی کسی کتاب کے چند اوراق پڑھ لیتا ہوں۔ عجیب سی تازگی، سکون اور فکری توانائی محسوس ہوتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ذہن کی دھول اتر رہی ہو اور سوچ کے نئے دریچے کھل رہے ہوں۔
مجھ پر بھی خدا کا بڑا کرم ہے ،جب جب کام سے تھک جاؤں تو پڑھنا یا لکھنا شروع کردیتا، میرا ایمان ہے کہ مطالعہ واقعی روح، جسم، دل اور دماغ کی غذا ہے۔ یہ غذا جہاں کہیں سے بھی ملے، اور جس صاحب علم کی تحریر میں بھی خیر، حکمت، بصیرت اور فکر کی روشنی نظر آئے، اسے حاصل کرتے رہنا چاہیے۔ علم کسی ایک فرد، جماعت یا خطے کی میراث نہیں؛ جہاں حکمت ملے، وہ مومن کی گم شدہ متاع ہے۔