کثیر اللسان افراد بہتر مسئلہ حل کرنے والے کیوں ہوتے ہیں؟

آج کی دنیا میں کامیابی صرف ڈگری یا فنی مہارت سے وابستہ نہیں رہی بلکہ ایسے افراد زیادہ اہمیت رکھتے ہیں جو مختلف حالات کا تجزیہ کر سکیں، نئے ماحول سے خود کو ہم آہنگ کریں اور پیچیدہ مسائل کا مؤثر حل تلاش کر سکیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں متعدد زبانوں کا علم انسان کی سوچ کو نئی جہت عطا کرتا ہے۔

عام تاثر یہ ہے کہ نئی زبان سیکھنے کا مقصد صرف بیرونِ ملک ملازمت یا تعلیم حاصل کرنا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں وسیع ہے۔ ہر زبان اپنے ساتھ ایک نئی ثقافت، مختلف طرزِ فکر اور مسائل کو دیکھنے کا منفرد زاویہ بھی لاتی ہے۔ جب کوئی شخص ایک سے زیادہ زبانیں سیکھتا ہے تو وہ مختلف معاشروں کے اندازِ فکر کو سمجھنے لگتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کی تجزیاتی صلاحیت، فیصلہ سازی اور تخلیقی سوچ میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

تحقیقی مطالعات بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کثیر اللسان افراد ذہنی لچک، یادداشت اور توجہ برقرار رکھنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہی خصوصیات انہیں کاروبار، تحقیق، انجینئرنگ، طب، سفارت کاری اور بین الاقوامی اداروں میں پیچیدہ مسائل حل کرنے میں ممتاز بناتی ہیں۔ وہ صرف زبان تبدیل نہیں کرتے بلکہ ضرورت کے مطابق اپنا زاویۂ فکر بھی تبدیل کر لیتے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی زبانوں کی اہمیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جرمنی، جاپان، فرانس اور خلیجی ممالک سمیت کئی ممالک ایسے پیشہ ور افراد کو ترجیح دیتے ہیں جو اپنی فنی مہارت کے ساتھ مقامی زبان اور ثقافت سے بھی واقف ہوں۔ اس لیے زبانوں کا علم اب صرف ایک اضافی قابلیت نہیں بلکہ بین الاقوامی تعلیم، تحقیق اور روزگار کی جانب ایک اہم قدم بن چکا ہے۔

پاکستان جیسے نوجوان آبادی والے ملک میں زبانوں کی تعلیم کو محض ایک اختیاری مضمون نہیں بلکہ قومی ترقی کی حکمت عملی کا حصہ بنانا چاہیے۔ اگر ہماری جامعات طلبہ کو فنی تعلیم کے ساتھ عالمی زبانوں کی مہارت بھی فراہم کریں تو وہ بین الاقوامی مواقع سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ملک کی معاشی و علمی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں اکیڈمی آف لینگویجز اینڈ پروفیشنل ڈویلپمنٹ (ALPD)، یونیورسٹی آف لاہور زبانوں کی تعلیم کو عملی زندگی، پیشہ ورانہ ترقی اور عالمی مواقع سے جوڑنے کی ایک قابلِ قدر کوشش کر رہی ہے۔ یہاں طلبہ کو صرف زبان نہیں سکھائی جاتی بلکہ انہیں ایسے ماحول سے روشناس کرایا جاتا ہے جہاں زبان ایک عملی مہارت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔

آخرکار، متعدد زبانیں جاننے کا اصل فائدہ صرف مختلف زبانوں میں گفتگو کرنا نہیں بلکہ مختلف انداز میں سوچنا سیکھنا ہے۔ مستقبل انہی افراد کا ہوگا جو نئی معلومات کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکیں، مختلف ثقافتوں کے ساتھ مؤثر رابطہ قائم کر سکیں اور پیچیدہ مسائل کے لیے متوازن اور دانشمندانہ حل پیش کر سکیں۔ اسی لیے زبان سیکھنا دراصل بہتر مستقبل، وسیع تر مواقع اور مضبوط فکری صلاحیت کی جانب ایک اہم سرمایہ کاری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے