کسی بھی زندہ، متحرک اور خوددار قوم کی حیات اور اس کے روشن مستقبل کی سب سے بڑی ضامن اس کی نوجوان نسل ہوتی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ دنیا بھر میں جب بھی تعلیمی، انتظامی اور معاشی ڈھانچے زوال پذیر ہوتے ہیں یا حکمران طبقہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کرتا ہے، تو کسی بھی ملک کا باشعور طالب علم اور نوجوان طبقہ سڑکوں پر نکل کر ایوانوں کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔ چند روز قبل ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں نئی دہلی کی شاہراہوں اور جنتر منتر پر ایک انتہائی جرات مندانہ اور فکر انگیز احتجاج دیکھنے کو ملا۔
وہاں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ایک حوصلہ مند طالبہ نیہا بورا نے، جو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر بھی ہیں، معروف ماحولیاتی و سماجی کارکن سونم وانگ چک کے ساتھ مل کر مسلسل تین ہفتوں یعنی اکیس روز تک سخت ترین حالات میں بھوک ہڑتال کی۔ ان کا مطالبہ محض اپنے لیے کوئی رعایت یا ذاتی سہولیات کا حصول نہیں تھا، بلکہ وہ سرحد پار پورے ملک کے تمام شہریوں کے لیے یکساں، معیاری تعلیم اور برابری کے بنیاد پر روزگار کا حق مانگ رہی تھیں۔
ان کی زبان پر ایک ہی گونجدار نعرہ تھا کہ سب کو تعلیم اور سب کو کام فراہم کیا جائے، ورنہ حکمرانوں کی ہر فتح ادھوری اور حرام سمجھی جائے گی۔ یہ منظر نامہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ایک بیدار اور زندہ معاشرہ اپنے مستقبل کے حقوق کے لیے کس طرح اتحاد اور پرامن انداز سے جدوجہد کرنا جانتا ہے۔
مگر دوسری طرف، جب ہم سرحد کے اس پار اپنے ارد گرد کے تعلیمی و سماجی ماحول پر نظر دوڑاتے ہیں، تو ایک دردناک خاموشی، گہری بی حسی اور مایوسی کا بھیانک احساس گھیر لیتا ہے۔ جن سنگین تعلیمی اور معاشی مسائل کے خلاف سرحد پار کی نوجوان نسل متحد ہو کر سڑکوں پر بیٹھی ہے، وہی مسائل پاکستان میں اس سے کہیں زیادہ سنگین، زہریلی اور تباہ کن شکل اختیار کر چکے ہیں۔ لیکن المیہ دیکھیے کہ ہمارے ہاں ان مسائل کے حل کے لیے نہ تو کوئی نیہا بورا جنم لیتی ہے اور نہ ہی قومی سطح پر اصلاح کے لیے کوئی پائیدار، منظم اور پرامن تحریک وجود میں آتی ہے۔ ہمارا پورا نوجوان طبقہ اس وقت ایک شدید قسم کے ذہنی انتشار اور نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔
ہمارے بچوں کو تین مختلف دوڑوں میں جوت دیا گیا ہے: پہلے اسکول اور کالج کے اندر صرف زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنے کی اندھی دوڑ، اس کے بعد ڈگری ہاتھ میں لے کر کسی نہ کسی طرح روزی روٹی کمانے کی ناپائیدار دوڑ، اور جب اس فرسودہ نظام میں تمام راستے بند دکھائی دیتے ہیں تو بالآخر اس ملک سے کسی بھی قیمت پر بھاگ نکلنے کی دوڑ۔ یہ صورتحال صرف ایک فرد یا چند خاندانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک پورے قومی دھارے کے بکھراؤ کی کہانی ہے۔
اگر ہم اپنے ملک کے مجموعی تعلیمی ڈھانچے کا عمیق نظر سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت کھلی کتاب کی طرح سامنے آتی ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں سے فکر، تدبر اور سیاسی شعور کا خاتمہ اس وقت سے شروع ہوا جب ریاست نے طلبہ یونینز پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ یہ سچ ہے کہ اپنے آخری ادوار میں پاکستان کی طلبہ یونینز تعلیمی اصلاحات پر توجہ دینے کے بجائے عسکریت پسندی، غنڈہ گردی اور ملک کی گندی سیاست کا آلہ کار بن چکی تھیں۔
تعلیمی اداروں اور ہاسٹلوں پر دہائیوں سے ایسے نام نہاد عناصر اور قابض سیاسی چاچے جمے ہوئے تھے جن کا پڑھائی سے دور دور تک کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ وہ نالائقوں کو زبردستی داخلے دلواتے اور تعلیمی ماحول کو یرغمال بنا لیتے تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خرابی کو دور کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ پورا سیاسی و آئینی شعور ہی ختم کر دیا جائے؟ یونینز پر اس بے جا پابندی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارے طالب علم سے اپنے جائز حقوق کے لیے بات کرنے کا سلیقہ، مکالمے کی ثقافت اور سچی قومی قیادت پیدا کرنے کا جذبہ ہی چھین لیا گیا۔
اگر آج ہم واقعی تعلیمی اداروں میں روح پھونکنا چاہتے ہیں اور طلبہ یونینز کی بحالی کی بات کرتے ہیں، تو اس کے لیے سب سے بنیادی اور لازمی شرط یہ ہونی چاہیے کہ ان یونینز کا ملکی سیاسی جماعتوں کے ساتھ کوئی تنظیمی، نظریاتی یا مالیاتی الحاق نہ ہو۔ یہ تنظیمیں صرف اور صرف طالب علموں کے تدریسی، فلاحی اور انتظامی مسائل تک محدود رہنی چاہئیں تاکہ اداروں میں دوبارہ بدمعاشی کے بجائے ایک مثبت اور خلوص پر مبنی تعلیمی قیادت پروان چڑھ سکے۔
پاکستان بھر میں پھیلے ہوئے ہمارے تعلیمی نظام کے زوال اور اخلاقی انحطاط کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ہر سال ملک کے تمام صوبوں میں میڈیکل کالجوں کے داخلاتی امتحان، یعنی ایم ڈی کیٹ (MDCAT) کے پرچے کھلے عام فروخت ہوتے ہیں اور امتحانی مراکز سے لیک ہو جاتے ہیں۔ تباہی کا یہ عالم صرف مقامی بورڈز تک محدود نہیں رہا، بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ کیمبرج کے اے لیول (A-Level) امتحانات کے پرچے بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں امتحان سے پہلے ہی سوشل میڈیا اور مارکیٹ میں دستیاب ہوتے ہیں۔ ذرا اس نفسیاتی کرب، ذہنی اذیت اور غصے کا اندازہ لگائیے جس سے وہ محنتی اور ذہین بچے گزرتے ہیں جو سال ہا سال دن رات ایک کر کے تیاری کرتے ہیں۔
لیکن جب نتائج کا وقت آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ کسی نالائق اور صاحبِ ثروت شخص کے بچے نے لاکھوں روپے پھینک کر پرچہ خرید لیا اور وہ میرٹ کی فہرست میں سب سے اوپر براجمان ہو گیا۔ اس کے بعد حکومت اور اداروں کی طرف سے امتحان کی منسوخی کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے، پرچہ دوبارہ لیا جاتا ہے، اور وہ محنتی بچہ بار بار اسی ذہنی عذاب اور پریشانی سے گزرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک بھر میں امتحانات اور پرچے لیک کرنے والے اس طاقتور بدعنوان مافیا اور تعلیمی اداروں میں بیٹھے کالی بھیڑوں کو کبھی کوئی عبرتناک سزا نہیں ملتی۔ مقامی سطح کے یہ بااثر دھرمیندر پردھان ہر بار قانونی شگافوں کا فائدہ اٹھا کر صاف بچ نکلتے ہیں اور اگلے سال ایک نیا ریٹ مقرر کر کے پورے ملک کے تعلیمی مستقبل کا نیلام گھر سجاتے ہیں۔
ملک کے تمام صوبوں، خواہ وہ پنجاب ہو، سندھ ہو، خیبر پختونخوا ہو یا بلوچستان، تمام سرکاری یونیورسٹیوں کی حالت زار اس وقت ناگفتہ بہ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر آنے والے بجٹ میں تعلیمی گرانٹس اور ہائر ایجوکیشن کی فنڈنگ میں بے رحمی سے کٹوتی کر دیتی ہیں۔ حکمران طبقے کی شاہانہ عیاشیوں، بلٹ پروف گاڑیوں کے کافلوں، پروٹوکولز اور بیرونِ ملک کے فضول دوروں کے لیے اربوں روپے کے قومی خزانے لمحوں میں لوٹا دیے جاتے ہیں، لیکن ملک کی تاریخ ساز اور تاریخی درسگاہوں کے پاس اپنے اساتذہ کو تنخواہیں دینے اور بنیادی ریسرچ لیبز چلانے کے لیے فنڈز میسر نہیں ہوتے۔
ملک کی بڑی بڑی سرکاری یونیورسٹیوں کی زمینوں کو مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے بیچے جانے کی خبریں گاہے بگاہے گردش کرتی رہتی ہیں، جبکہ دہائیوں سے ان تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی فورسز اور رینجرز کے مستقل ڈیرے جمے ہوئے ہیں۔ یہ ہمارے پورے ملک کا ایک ایسا المیہ بن چکا ہے کہ جہاں سیکیورٹی ادارے یا ریاستی کارندے ایک بار بیٹھ جائیں، وہاں سے ان کا واپس جانا ناممکن سا ہو جاتا ہے۔ ملک کی درسگاہیں بظاہر چھاؤنیوں کی تصویر پیش کرتی ہیں اور ہمارا طالب علم شدید خوف اور گھٹن کے ماحول میں سانس لینے پر مجبور ہے۔
سرکاری تعلیمی اداروں کی اس دیدہ و دانستہ تباہی کا راست فائدہ نجی تعلیمی مافیا کو پہنچایا جا رہا ہے۔ پورے ملک میں ہر گلی، کوچے اور شہر میں نجی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں بارش کے بعد کھمبیوں کی طرح اگ رہی ہیں۔ ہماری وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں نے بغیر کسی معیار اور تعلیمی جانچ پڑتال کے ہر بااثر شخص کو نجی یونیورسٹی یا انسٹیٹیوٹ کھولنے کا چارٹر بانٹ رکھا ہے۔ ان تجارتی دکانوں کا مقصد بچوں کو اعلیٰ تعلیم یا اخلاقی تربیت دینا ہرگز نہیں، بلکہ صرف اور صرف بھاری فیسوں کی مد میں منافع کمانا ہے۔ ان اداروں میں آپ پیسہ پھینکیے اور کسی بھی مضمون کی اعلیٰ ترین ڈگری حاصل کر لیجیے۔
نجی تعلیمی اداروں میں طالب علموں کے فیل ہونے کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ جو گاہک ان کو لکھوکہا روپے فیس دے رہا ہے، اسے ناکام کر کے یہ ادارے اپنا منافع بخش کاروبار خراب نہیں کرنا چاہتے۔ اس تجارتی دوڑ نے ڈگری کی قدر و قیمت کو کاغذی ٹکڑے سے زیادہ کچھ نہیں چھوڑا۔
ہمارے تعلیمی نظام کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ یہ بچے کے اندر سوچنے، سمجھنے اور سوال کرنے کی صلاحیت کو سرے سے ختم کر دیتا ہے۔ ہمارا پورا تدریسی اور امتحانی فریم ورک محض "رٹا سسٹم” پر کھڑا ہے۔ امتحانات طالب علم کی بصیرت، تنقیدی سوچ اور سائنسی شعور کا امتحان لینے کے بجائے صرف اور صرف اس کے حافظے کا امتحان لیتے ہیں۔ جو بچہ نصابی کتاب کے جملوں کو بغیر سمجھے امتحانی کاپی پر جوں کا توں الٹ دیتا ہے، وہ ہمارے نظام میں سب سے زیادہ نمبر لے کر ٹاپر مان لیا جاتا ہے، چاہے اسے اپنے پڑھائے گئے مضمون کی بنیادی الف ب بھی معلوم نہ ہو۔ مزید برآں، پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں جدید دور کی ضروریات اور مارکیٹ پر مبنی "اسکل بیسڈ” (Skill-based) تعلیم کا کہیں نام و نشان نہیں ملتا۔
جب ملک میں الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا کا دور آیا تو ملک کی ہر چھوٹی بڑی یونیورسٹی نے بنا کسی تیاری اور لیبارٹری کے صحافت اور ماس کمیونیکیشن کے شعبے کھول لیے۔ لاکھوں بچوں کو ان شعبوں میں داخل کر کے ان سے بھاری فیسیں وصول کی گئیں، لیکن عملی تربیت کا کوئی بندوبست نہ تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ یہ شعبے محض بے روزگار نوجوانوں کی نئی اور بڑی کھیپ پیدا کرنے کے کارخانے بن گئے۔ آج ملک بھر میں لاکھوں ڈگری ہولڈرز ہاتھوں میں کاغذ کے ٹکڑے تھامے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں کیونکہ ان کے پاس عملی زندگی میں بیچنے کے لیے کوئی ہنر موجود نہیں ہے۔
تعلیم کے اس ہمہ گیر زوال کے ساتھ ساتھ، ہمارے ملک کی تباہ حال معیشت اور کمر توڑ مہنگائی نے عام شہری، والدین اور طالبعلم کا جینا عذاب بنا دیا ہے۔ ایک طرف جب تعلیمی نظام مفلوج ہو چکا ہے تو دوسری طرف آئے روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا بے تحاشا اور مسلسل اضافہ غریب اور متوسط طبقے کی ریڑھ کی ہڈی توڑ رہا ہے۔ روزانہ اور ہفتہ وار بنیادوں پر پیٹرول کے نرخوں میں یہ ہولناک اضافہ پہلے سے معاشی طور پر پسے ہوئے، بدحال اور نیم مردہ عوام کے لیے "مرے کو سو درے” کے مترادف ہے۔
جب ایک عام طالب علم یا اس کے محنت کش سرپرست کو اپنی روزمرہ کی کتابوں، ہاسٹل کے اخراجات، بھاری فیسوں اور کالج پہنچنے کے کرایوں کے لیے ناپائیدار معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اس کے اندر سے تخلیقی سوچ، علم کا شوق اور سیاسی و سماجی شعور یکسر دم توڑ جاتا ہے۔ معاشی تنگی نے ہماری نوجوان نسل کو صرف بنیادی بقا کی جنگ تک محدود کر کے رکھ دیا ہے۔
جب کسی بھی ملک اور معاشرے میں معیارِ تعلیم، سائنسی و تنقیدی فکر اور معاشی استحکام مکمل طور پر معطل ہو جائیں، تو وہاں پیدا ہونے والے خلا کو پر کرنے کے لیے تعصب، تنگ نظری اور علاقائیت جنم لیتی ہے۔ آج کے پاکستانی نوجوان میں، خواہ وہ نالائق ہو یا بظاہر اعلیٰ ڈگری ہولڈر، قومی سطح کا سیاسی اور سماجی شعور مکمل طور پر ناپید ہے۔ اگر کسی نوجوان میں تھوڑا بہت سیاسی احساس نظر بھی آتا ہے، تو وہ کسی قومی نظریے کے بجائے علاقائیت، قوم پرستی یا فرقہ واریت کی زہریلی راہ سے آتا ہے۔
ہمارے نوجوان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ "صرف میری قوم یا زبان بولنے والے مظلوم ہیں”، "صرف میرے علاقے کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے”، یا "میرے فرقے کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے”۔ حالانکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ یہ ظلم اور محرومی کسی ایک صوبے یا شہر تک محدود نہیں، بلکہ پورے ملک میں چاروں طرف یہی تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ محرومی کا یہ احساس پورے دیسی نظام کی نااہلی کا نچوڑ ہے۔ اس افسوسناک ماحول میں بلوچستان اور دیگر دور دراز محروم علاقوں کے نوجوانوں کے حالات مزید دردناک اور تشویشناک ہو چکے ہیں۔ وہاں کے عام نوجوان کا صرف بلوچ ہونا ہی سیکیورٹی اداروں کی نظر میں شک کا باعث بنا دیا گیا ہے۔
ان کے نام کے ساتھ بلوچ لکھا دیکھ کر انہیں ہراساں کیا جاتا ہے یا اٹھا لیا جاتا ہے، اور پھر ان کی رہائی کے نام پر ان کے مجبور خاندانوں سے بھتے وصول کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ طالب علم اپنے اداروں میں اپنی ثقافت، لباس اور زبان کو خوشی سے سیلیبریٹ کرنا چاہیں تو اس پر بھی طرح طرح کی قدغنیں اور پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں، جس سے ان میں بیگانگی کا احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے۔
اس پورے بھیانک اور بھیڑیا صفت ماحول سے تنگ آ کر ہمارے ملک کا سب سے ذہین اور قابل نوجوان طبقہ ایک ہی مقصدِ حیات پر کاربند ہو چکا ہے کہ کسی نہ نہ کسی طرح بنیادی تعلیم کا کاغذ حاصل کرو اور اس ملک سے باہر نکل جاؤ۔ پاکستان سے پیدا ہونے والا یہ برین ڈرین (Brain Drain) آج اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ہمارے بہترین ڈاکٹرز، انجینئرز، اساتذہ اور آئی ٹی کے ماہرین ملک چھوڑ کر دنیا کے دیگر ممالک میں پناہ لے رہے ہیں۔
لیکن اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک چھوڑ کر فرار ہو جانا کسی ایک فرد کا انفرادی حل تو ہو سکتا ہے، مگر یہ ہمارے پورے معاشرے اور ملک کا اجتماعی حل ہرگز نہیں ہے۔ آپ خود بیرونِ ملک جا کر اچھی زندگی تو گزار لیں گے، لیکن پیچھے پورا ملک اور آنے والی نسلیں جہالت اور بدامنی کی اسی دوزخ میں جلتی رہیں گی۔ قومی مسائل کے اجتماعی حل کے لیے پرامن، سسٹینڈ اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے، اور ایسی تاریخی جدوجہد کے لیے ایک "نیہا بورا” کے جذبے اور بیداری کی ضرورت پڑتی ہے۔
مگر سب سے بڑا اور بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے موجودہ ماحول میں کوئی نیہا بورا جنم لے سکتی ہے؟ کسی بھی جرات مند اور باہمت قیادت کی پیدائش کے لیے ایک *زندہ معاشرے* کی ضرورت ہوتی ہے،ایک ایسا بیدار معاشرہ جو اپنے نوجوانوں کو سوچنے کی آزادی دے، جو سوال اٹھانے پر پابندی نہ لگائے، اور جو حاکمِ وقت سے اختلافِ رائے کرنے کو غداری کے زمرے میں نہ لائے۔ ہم جنگی میدان میں یا سرحدی جھڑپوں میں تو شاید اپنے دشمن کے چھ جہاز گرا کر اپنی شجاعت کے خوہ خواہ نعرے لگا لیں، لیکن محض فوجی طاقت اور ہتھیاروں کی نمائش سے کوئی قوم دنیا میں اپنا لوہا نہیں منوا سکتی اور نہ ہی اپنے معاشرے کو آگے لے جا سکتی ہے۔ دنیا میں صرف وہی اقوام حقیقی ترقی کرتی ہیں جن کا پورا نظام اور معاشرہ ہمہ جہت (Holistic) بنیادوں پر ترقی یافتہ ہو۔
ایک واقعی ترقی یافتہ اور باوقار معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں صرف فوج اور سیکیورٹی ادارے ہی مضبوط نہ ہوں، بلکہ جہاں:
* تعلیم کا نظام تحقیق، سچائی اور تنقیدی فکر پر مبنی ہو۔
* معیشت مضبوط، خودکفیل اور عام شہری کے لیے آسان ہو۔
* ادب، فلم، تخلیق اور صحافت کو بغیر کسی سنسرشپ اور خوف کے آزادانہ سانس لینے کا موقع ملے۔
* کھیل کے میدان اور ثقافتی سرگرمیاں آباد ہوں۔
* عورت کو تمام شعبائے زندگی میں مکمل تحفظ، عزت اور خودمختاری حاصل ہو۔
اور جہاں انسان کی ذہانت اور فکر پر آسمان تک کوئی غیر آئینی روک ٹوک یا قدغن نہ ہو۔
اگر کسی ملک کے اندر چند ہزار یا چند لاکھ صاحبِ اقتدار لوگ اور ارب پتی طبقہ ترقی کر جائے، اعلیٰ ترین گاڑیوں اور بنگلوں کا مالک بن جائے، جبکہ باقی کروڑوں عوام جہالت، پیٹرول کی مار، کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور خوف کے سایے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، تو یہ چند لوگوں کی کامیابی نہیں بلکہ پورے ریاست اور معاشرے کی مکمل اجتماعی ناکامی ہے۔
پاکستان کو آج بارود سے زیادہ عقل و دانشمندی کی، اور جنگی نعروں سے زیادہ معیاری تعلیمی اداروں اور معاشی انصاف کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے نوجوانوں کو اسی طرح رٹا سسٹم، پیپر لیکس مافیا، اور نجی تعلیمی دکانداروں کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا، تو ہم آنے والے کل میں دنیا کی ہر دوڑ ہار جائیں گے۔ ہمیں ایک ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں ہمارا بچہ ملک سے بھاگنے کے بجائے اس ملک کی باگ ڈور سنبھالنے کا سوچے۔ اور یہ خواب تبھی شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب ہم خوف کے بتوں کو توڑ کر اپنے تعلیمی و معاشی حقوق کے لیے ایک بیدار اور زندہ قوم کی طرح کھڑے ہوں۔