آج کل یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایسے لوگوں کی ویڈیوز سے بھرے پڑے ہیں جنہوں نے اپنی زندگی بدل ڈالی۔ کہیں ڈیڑھ سو کلو وزنی آدمی چند مہینوں میں پچھتر کلو کا ہو گیا، کہیں ایک سو بیس کلو والا نوّے کلو پر آ گیا۔ ہر روز کی ویڈیو، ہر ہفتے کی تصویر، ہر مہینے کی نئی شکل۔ چہرہ بدل گیا، جسم بدل گیا، لباس بدل گیا، اعتماد بدل گیا، بلکہ بعض اوقات تو آدمی کو پہچاننا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف وہ لوگ بھی ہیں جو کبھی ہوا کے جھونکے سے ہلتے محسوس ہوتے تھے، اب ورزش، مناسب غذا اور مستقل مزاجی سے صحت مند اور توانا دکھائی دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے آج کے دور کا سب سے مقبول شوق ہی "ٹرانسفارمیشن” بن گیا ہو۔
اسی رجحان نے بازار بھی گرم کر رکھا ہے۔ فیس بک کھولیں تو اشتہار سامنے آ جاتا ہے کہ یہ والا قہوہ پیجیے، چند ہفتوں میں وزن کم ہو جائے گا۔ دوسرا کہتا ہے یہ کیپسول کھائیے، آئینے میں خود کو پہچان نہیں پائیں گے۔ کوئی جڑی بوٹیوں کا نسخہ بیچ رہا ہے، کوئی دیسی سفوف، کوئی جادوئی ڈائٹ پلان اور کوئی ایسا فارمولا جس میں نہ ورزش کی ضرورت ہے، نہ پرہیز کی، نہ پسینہ بہانے کی۔ صرف آرڈر کریں، استعمال کریں اور اگلی تصویر میں خود کو نیا انسان پائیں۔ انہی خوابوں کی بدولت آج نہ جانے کتنے لوگوں کا چورن کامیابی سے بک رہا ہے۔
ذاتی طور پر بھی میں نے بہت سے لوگوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے بدلتے دیکھا ہے۔ کسی نے جم جا کر محنت کی، کسی نے روزانہ پیدل چلنے کی عادت اپنائی، کسی نے باقاعدہ ڈائٹ پلان پر عمل کیا اور کسی نے صرف اپنی قوتِ ارادی کے سہارے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ حقیقت یہی ہے کہ موٹے آدمی کا پتلا ہو جانا اور بہت پتلے آدمی کا مناسب وزن حاصل کر لینا اب کوئی غیر معمولی بات نہیں رہی۔ یہ منظر اب روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
لیکن آج ایک ایسی ٹرانسفارمیشن دیکھی کہ میں کچھ لمحوں کے لیے حیران بھی رہ گیا اور مسکرائے بغیر بھی نہ رہ سکا۔
یہ ٹرانسفارمیشن کسی انسان کی نہیں تھی، کسی اداکار کی نہیں تھی، کسی انفلوئنسر کی نہیں تھی، بلکہ مشہور و معروف روزنامہ جنگ کی تھی۔
مجھے یاد ہے، ایک زمانہ تھا جب اخبار کے پہلے صفحے پر لکھا ہوتا تھا: "آج کا اخبار بیس بڑے اور بارہ چھوٹے صفحات پر مشتمل ہے۔” اخبار ہاتھ میں لیا جاتا تو یوں محسوس ہوتا جیسے پورا شہر، پورا ملک اور آدھی دنیا اس کے اندر سمٹ آئی ہو۔ ایک صفحہ ختم ہوتا تو دوسرا انتظار کر رہا ہوتا، دوسرا ختم ہوتا تو تیسرا ہاتھ ہلا رہا ہوتا۔
آج بہت عرصے بعد میں نے روزنامہ جنگ خریدا۔
ہاکر نے اخبار میرے ہاتھ میں دیا تو بے اختیار میرے منہ سے نکلا، "بھائی، یہ پوری نہیں ہے۔”
وہ مسکرایا اور نہایت اطمینان سے بولا، "پوری ہے جناب!”
میں نے دوبارہ اخبار کو دیکھا، الٹا، پلٹا، شاید کوئی حصہ رہ گیا ہو، شاید باقی صفحات کہیں اور ہوں، شاید ہاکر سے کوئی غلطی ہو گئی ہو۔ مگر نہیں، وہ واقعی مکمل تھا۔
اخبار ہاتھ میں پکڑ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے اخبار نہیں بلکہ ٹشو پیپر یا کوئی نیپکن اٹھا لیا ہے۔ جیسے چپس کا کوئی خالی پیکٹ یا جیسے سگریٹ کی ڈبی سے نکلی ھوئی پنی ہو۔ یا جیسے کوئی خزاں گزیدہ پتا ھاتھ میں لے لیئے ھو۔ اخبار تھا یا کوئی دم توڑتا دق کا مریض۔
تین ورقوں اور چھ صفحات پر مشتمل تھا اج کا روزنامہ جنگ۔ یقین ہی نہ آیا۔ میں نے ایک بار پھر صفحات گنے، پھر دوبارہ گنے، شاید میری گنتی غلط ہو۔ مگر اس بار غلطی میری نہیں، زمانے کی تھی۔ وہ تحریر بھی کہیں نہیں ملی کہ اج کا اخبار کتنے صفحات پر مشتمل ھے۔
یوں لگا جیسے اخبار نے بھی وزن کم کرنے کا وہی پروگرام اختیار کر لیا ہو جو آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسرا شخص کر رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان کی ٹرانسفارمیشن دیکھ کر خوشی ہوتی ہے، اخبار کی ٹرانسفارمیشن دیکھ کر دل میں ایک عجیب سی اداسی اتر آتی ہے۔
شاید روزنامہ جنگ کی اس ٹرانسفارمیشن کی وجہ یہ ہے کہ خبریں اب کاغذ سے زیادہ موبائل کی اسکرینوں پر زندہ رہتی ہیں۔ صبح دروازے پر اخبار کے انتظار کی جگہ اب موبائل پر نوٹیفکیشن کا انتظار ہوتا ہے۔ سیاہی کی خوشبو کو ٹچ اسکرین نے بدل دیا ہے، اور موٹے تازے اخبار کی جگہ چند ہلکے پھلکے صفحات نے لے لی ہے۔
یا پھر میر صاحب کی غیر ضروری دیدہ دلیری اور کنٹروورسیز میں گھسنے کی انتھک کوششیں اس کی وجہ ھیں۔
لوگوں کی ٹرانسفارمیشن تو سمجھ میں آتی ہے، کیونکہ وہ صحت مند، چاق و چوبند اور پُراعتماد ہو جاتے ہیں۔ مگر اخبار کی یہ ٹرانسفارمیشن پہلی بار دیکھی ہے۔ اس تبدیلی نے ہنسایا بھی، حیران بھی کیا اور کہیں نہ کہیں دل کے ایک کونے میں یہ احساس بھی جگا دیا کہ کچھ چیزیں صرف وزن کم نہیں کرتیں، اپنے ساتھ ایک پورا عہد بھی سمیٹ لے جاتی ہیں۔
گردش زمانہ بھی ایک بڑی وجہ ہے اور مالکان کی بے وقوفیاں بھی اچھے خاصے اخبار کو سمارٹ اور سلم بنا دیتی ہیں۔
حیف صد حیف ۔ ۔ ۔
آپ کی کیا رائے ھے اس بارے میں ؟؟