گوادر کا شاہی بازار: جہاں مسجد، مندر اور جماعت خانہ مذہبی ہم آہنگی کی داستان سناتے ہیں

گوادر کا تاریخی شاہی بازار صرف ایک قدیم تجارتی مرکز نہیں بلکہ مذہبی رواداری، ثقافتی تنوع اور باہمی احترام کی ایک ایسی زندہ علامت ہے جو کئی نسلوں سے قائم ہے۔ اس بازار کی تنگ و پیچیدہ گلیوں، لکڑی کے تختوں سے بنی دکانوں اور مٹی سے تعمیر شدہ قدیم عمارتوں سے گزرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کئی دہائیاں پیچھے لوٹ گیا ہو۔ یہاں کا ہر گوشہ گوادر کی قدیم تہذیب، تجارتی تاریخ اور سماجی ہم آہنگی کی ایک الگ داستان سناتا ہے۔

شاہی بازار کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہاں تقریباً سو فٹ کے فاصلے پر ایک مسجد، ایک ہندو مندر اور اسماعیلی برادری کا جماعت خانہ (عبادت خانہ) قائم ہے۔ یہ تینوں عبادت گاہیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ گوادر میں مختلف مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے لوگ برسوں سے باہمی احترام، رواداری اور امن کے ساتھ زندگی بسر کرتے آئے ہیں۔

ہماری پہلی منزل قدیم ہندو مندر تھا، جہاں ہندو برادری کے چند افراد پہلے ہی موجود تھے۔ مندر کی حالیہ برسوں میں تزئین و آرائش کی گئی ہے، تاہم اس کی قدامت اور تاریخی حیثیت آج بھی برقرار ہے۔ مندر کی بالائی منزل سے جب اردگرد کا منظر دیکھا تو ایک منفرد احساس نے دل کو چھو لیا۔ ایک طرف مندر کی گھنٹیوں کی آواز گونجتی ہے، دوسری جانب قریبی مسجد سے اذان کی صدا بلند ہوتی ہے، جبکہ چند قدم کے فاصلے پر اسماعیلی برادری کے افراد اپنے جماعت خانے میں عبادت میں مصروف ہوتے ہیں۔ یہ منظر گوادر کی اس خوبصورت روایت کا آئینہ دار ہے جس میں مذہبی اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور برداشت کو ہمیشہ اہمیت دی گئی۔

اسماعیلی برادری کے بزرگوں کے مطابق ان کا جماعت خانہ بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس کی عمر ایک صدی سے زیادہ ہے۔ ہندو برادری بھی اپنے مندر کو سو سال سے زائد قدیم قرار دیتی ہے۔ مسجد کی تعمیر کے حوالے سے مستند تاریخی معلومات دستیاب نہیں ہو سکیں، تاہم اس کے طرزِ تعمیر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھی کئی دہائیاں پرانی عبادت گاہ ہے۔

جس روز ہم شاہی بازار پہنچے، صبح کا وقت تھا۔ سورج نکل چکا تھا مگر بازار کی رونقیں ابھی پوری طرح بحال نہیں ہوئی تھیں۔ ہمیں مندر کے اندرونی حصے کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا، جبکہ مسجد اور جماعت خانے کو صرف باہر سے دیکھا جا سکا۔ اس مختصر دورے کے باوجود یہ احساس بہت گہرا تھا کہ یہ عبادت گاہیں صرف مذہبی مقامات نہیں بلکہ گوادر کی مشترکہ تاریخ، ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کی علامت ہیں۔

آج جب دنیا کے مختلف حصوں میں مذہبی عدم برداشت اور نفرت کے واقعات بڑھتے دکھائی دیتے ہیں، گوادر کا شاہی بازار خاموشی سے یہ پیغام دیتا ہے کہ امن، احترام اور رواداری ہی کسی معاشرے کی اصل طاقت ہیں۔ مسجد، مندر اور جماعت خانہ کا ایک دوسرے کے اتنے قریب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مختلف عقائد رکھنے والے لوگ محبت، اعتماد اور بھائی چارے کے ساتھ ایک ہی معاشرے میں رہ سکتے ہیں۔

گوادر کا شاہی بازار نہ صرف بلوچستان کے ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہے بلکہ مذہبی ہم آہنگی کی ایک ایسی زندہ مثال بھی ہے جسے محفوظ رکھنا اور آنے والی نسلوں تک پہنچانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے