رخسانہ صولت: حق گوئی، ادب اور صحافت کی علامت

جنرل ضیاء الحق اپنی طاقت کے عروج پر تھے۔ ہر طرف سرعام کوڑوں کی سزا کا خوف تھا، فضا میں سنسنی تھی۔ اسی گھٹن زدہ ماحول میں اسلام آباد کی ایک پریس کانفرنس میں ایک نوجوان خاتون کو جنرل ضیاء الحق سے سوال کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے وقت کے طاقتور ڈکٹیٹر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا:
جنرل صاحب، آپ کے نوّے دن کب پورے ہوں گے؟

پورا ہال لمحہ بھر کو سکتے میں آ گیا۔ اگلے ہی لمحے کچھ اہلکاروں نے اس جرات مند لڑکی کو ہجوم سے الگ کر دیا۔ مگر جو ہونا تھا، وہ ہو چکا تھا۔ ملکی و غیر ملکی اخبارات اور نشریاتی ادارے اسی خبر کو دہراتے رہے۔ ایک نازک صنف نے ظلم کے سامنے کھڑے ہو کر ایک توانا بیانیہ تشکیل دیا تھا۔ میڈیا نے دیر تک اس بہادری کو سراہا۔ اس بے باک خاتون کا نام تھا رخسانہ صولت۔

رخسانہ صولت 1954ء میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد، انوار صولت، اس دور کے نامور صحافی تھے اور ضلع کیمبل پور (موجودہ اٹک) کی تحصیل حضرو سے تعلق رکھتے تھے۔ یہی وہ علمی و صحافتی ماحول تھا جس نے رخسانہ کے اندر حق گوئی اور ادب کی روح پھونکی۔ رخسانہ نے ابتدائی تعلیم اٹک اور پھر راولپنڈی میں حاصل کی، بعد ازاں اردو ادب میں اعلیٰ تعلیم مکمل کی۔ ان کی شخصیت راولپنڈی اور اسلام آباد کی ادبی فضاؤں میں پروان چڑھی۔
کچھ عرصے بعد ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملا۔ رخسانہ صولت کےگھر کے لال کوآرٹر کے علاقے میں شادی کی انتہائی سادہ تقریب تھی۔ اسی سادگی کے عالم میں صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق اپنی اہلیہ کے ہمراہ وہاں پہنچ گئے۔ کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وقت کا آمر ان کے گھر میں آ کھڑا ہوا ہے۔ ضیاء الحق اور ان کی اہلیہ نے نہ صرف رخسانہ صولت کو تحفے دیے، بلکہ کچھ دیر وہاں رہے۔ یہ واقعہ اس قدر دلچسپ اور متضاد تھا کہ کافی عرصے تک نجی محفلوں میں زیرِ بحث رہا۔
1980ء میں رخسانہ صولت کا پہلا افسانوی مجموعہ "گیلے حرف” شائع ہوا، ایک ایسا عنوان جو ان کی زندگی اور تجربات کا عکس تھا۔ ان کے افسانوں میں عورت کسی مظلوم یا مجبور کردار کے طور پر نہیں بلکہ باشعور، خوددار اور باوقار شخصیت کے طور پر سامنے آتی ہے۔ معاشرتی بے حسی، اخلاقی زوال اور بڑھتی ہوئی مادہ پرستی پر ان کی گرفت نہایت گہری تھی۔ ان کا اسلوب سادہ مگر اثر انگیز، جملے مختصر مگر بامعنی، اور مکالمے فطری و حقیقی ہوتے تھے۔

رخسانہ صولت کی تحریریں معروف ادبی مجلّوں جیسے آہنگ، چہار سو، اور افکار میں مستقل طور پر شامل رہیں۔ ان مجلّوں میں ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی تحریریں ادبی حلقوں میں سنجیدگی اور وقعت کے ساتھ پڑھی جاتی تھیں۔
امریکی ناقدہ لنڈا وینٹنک نے رخسانہ صولت کے افسانوں پر ایک مضمون لکھا جو لاہور کے ادبی مجلے "کتاب” میں شائع ہوا۔ مضمون نے ادبی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی۔

رخسانہ صولت اوائلِ جوانی ہی سے دور و نزدیک کے ادبی اجتماعات میں شریک رہیں۔ جیسے 1974ء میں انھوں نے کوہ مری کی میونسپل پبلک لائبریری میں ایک شاندار محفل افسانہ میں بھی شرکت کی تھی۔ جس میں راول پنڈی کے نامور افسانہ نگار، منصور قیصر اور رشید امجد نے بھی افسانے پڑھے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خواتین افسانہ نگار اپنی شناخت بنانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہی تھیں، اور رخسانہ نے اس جدوجہد کو اپنی تحریروں کا حصہ بنا کر اسے ادبی رنگ عطا کیا۔ ان کے افسانوں میں عورت کی تصویر ہمیشہ باوقار اور باشعور دکھائی دیتی ہے، اور وہ معاشرتی رویوں کی بے حسی، اخلاقی اقدار کے زوال اور مادہ پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو نہایت باریک بینی سے گرفت میں لاتی ہیں۔

رخسانہ صولت کی صحافتی جرات اور تحریری سفر محض وقتی احتجاج تک محدود نہیں رہا، بلکہ انہوں نے عملی صحافت کے میدان میں اپنی مستقل شناخت قائم کرنے کے لیے ایک مضبوط اور باوقار ادارے کی بنیاد رکھی۔ اس عزم کے تحت، انہوں نے اسلام آباد سے اپنے ہفت روزہ جریدے "نکھار” کا آغاز کیا۔ وہ خود اس منفرد ہفت روزہ کی بانی، پبلشر اور چیف ایڈیٹر بنیں اور اس کا مرکزی دفتر وفاقی دارالحکومت کے قلب، جناح سپر مارکیٹ (ایف سیون مرکز) میں قائم کیا۔ گزشتہ تین دہائیوں سے مسلسل شائع ہونے والے ہفت روزہ نکھار نے نہ صرف علاقائی بلکہ قومی سطح پر بھی اپنی غیر جانبدارانہ صحافت، گہرے سماجی شعور اور ادبی چاشنی کی بدولت ایک ممتاز مقام حاصل کیا۔ یہ جریدہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کا باقاعدہ رکن بنا اور وفاقی حکومت کے اشتہارات و عوامی نوٹسز کے لیے بھی رجسٹرڈ ہوا۔

رخسانہ صولت کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ ان کی تحریریں معاشرے کے لیے ایک آئینہ ہیں۔ ان کا فن فن برائے زندگی کی بہترین مثال ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ادب صرف تخیل کی پرواز نہیں بلکہ اپنے عہد کی سچائیوں کو بیان کرنے کا نام ہے۔ ان کی تحریریں محض ادب نہیں، اپنے عہد کی سچائی ہیں۔

اللہ تعالیٰ رخسانہ صولت کو صحت، سکون اور طویل عمر عطا فرمائے، اور ان کے قلم کو ہمیشہ تازگی اور اثر انگیزی بخش دے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے