جب لٹیرے دوبارہ ملے

یکم اگست 2026ء کی صبح بھی دیگر دنوں کی طرح ایک معمول کی صبح تھی۔ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد میں اپنے روزمرہ کے معمول کے مطابق ایک دینی ادارے میں تدریسی فرائض انجام دینے کے لیے گھر سے نکلا۔ گھڑی کی سوئیاں صبح کے پونے آٹھ بجا رہی تھیں۔ ذہن میں آئندہ اسباق کی منصوبہ بندی تھی اور دل میں یہ اطمینان کہ ایک اور دن علم کی شمع روشن کرنے میں گزرے گا۔ مگر مجھے کیا معلوم تھا کہ چند لمحوں بعد میری زندگی کا ایک اور تلخ باب رقم ہونے والا ہے۔راستے میں اچانک دو مسلح افراد میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ ایک نے پلک جھپکتے ہی پستول کی نالی میرے سر پر رکھ دی، جبکہ دوسرے نے میرے ہاتھ سے موبائل فون چھین لیا۔

یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہوا اور پھر وہ دونوں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں ساکت کھڑا صرف یہی سوچ رہا تھا کہ چند سیکنڈ پہلے تک جو چیز میری ملکیت تھی، وہ اب کسی لٹیرے کے ہاتھ میں تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر یہ احساس دل کو زخمی کر رہا تھا کہ میری جان بھی خطرے میں تھی۔الحمد للّٰہ! اللّٰه تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے میری جان محفوظ رکھی۔ مال دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر جان کا کوئی نعم البدل نہیں۔ اس کے باوجود دل پر ایک عجیب بوجھ تھا، کیونکہ اس موبائل کے ساتھ صرف ایک آلہ نہیں چھنا تھا بلکہ برسوں کی محنت، یادیں اور قیمتی دستاویزات بھی مجھ سے جدا ہو گئی تھیں۔یہ میری زندگی کا پہلا ایسا واقعہ نہیں تھا۔

سنہ 2021ء میں کراچی کے علاقے ایوب گوٹھ میں بھی اسی انداز سے اسلحے کے زور پر میرا موبائل چھین لیا گیا تھا۔ پانچ برس گزرنے کے باوجود حالات بدلنے کے بجائے گویا وہی منظر دوبارہ میری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گیا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس مرتبہ دل پہلے سے زیادہ زخمی ہوا، کیونکہ یہ موبائل میں نے صرف ایک ماہ قبل بڑی مشکل سے خریدا تھا۔

پانچ سال تک میں ایک پرانا موبائل استعمال کرتا رہا، جو اپنی عمر پوری کر چکا تھا۔ وہ بار بار خراب ہوتا، بند ہو جاتا اور میرے تدریسی، صحافتی اور تحریری کاموں میں رکاوٹ بنتا تھا۔ مالی حالات ایسے نہ تھے کہ فوراً نیا فون خرید لیا جاتا۔ میں نے اپنی ضروریات محدود کیں، تھوڑی تھوڑی بچت کی اور قطرہ قطرہ رقم جمع کی۔ بالآخر ایک ماہ قبل نیا موبائل خریدا۔ دل میں خوشی تھی کہ اب علمی اور صحافتی کام پہلے سے بہتر انداز میں انجام دے سکوں گا، مگر شاید تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

مالی نقصان یقیناً تکلیف دہ ہے، مگر اس سے کہیں زیادہ قیمتی وہ مواد تھا جو اس موبائل میں محفوظ تھا۔ میری تحریریں، اخبارات میں شائع ہونے والے مضامین، تحقیقی نوٹس، درسی مواد، اہم دستاویزات، ذاتی تصاویر، ضروری رابطہ نمبرز اور وہ معلومات، جنہیں دوبارہ جمع کرنا شاید ممکن نہ ہو، سب ایک لمحے میں میری دسترس سے باہر ہو گئیں۔ انسان پیسہ دوبارہ کما لیتا ہے، لیکن بعض یادیں، علمی سرمایہ اور برسوں کی محنت کبھی واپس نہیں آتی۔یہ حادثہ صرف میری ذات تک محدود نہیں۔ کراچی میں ہر روز سینکڑوں شہری اسی اذیت سے گزرتے ہیں.

کوئی مزدور اپنی دن بھر کی کمائی سے محروم ہوتا ہے، کوئی طالب علم اپنی تعلیمی زندگی کا سرمایہ کھو دیتا ہے، کوئی بزرگ اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے، کوئی ملازم اپنی ضروری دستاویزات سے محروم ہو جاتا ہے، تو کوئی مزاحمت کی پاداش میں اپنی جان تک گنوا دیتا ہے۔ ہر واردات صرف مالی نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ شہریوں کے دلوں سے احساسِ تحفظ بھی چھین لیتی ہے۔اسٹریٹ کرائم محض موبائل، نقدی یا موٹر سائیکل چھیننے کا نام نہیں، بلکہ یہ شہریوں سے ان کا سکون، اعتماد اور احساسِ تحفظ بھی چھین لیتا ہے۔ جس شخص پر اسلحہ تان دیا جائے، وہ اس خوف کو شاید پوری زندگی فراموش نہیں کر پاتا۔ جب کوئی شہری روزگار، تعلیم، عبادت یا کسی جائز ضرورت کے لیے گھر سے نکلے اور اس کے اہلِ خانہ واپسی تک تشویش میں مبتلا رہیں تو یہ صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا المیہ ہوتا ہے۔

کراچی پاکستان کا سب سے بڑا معاشی اور تجارتی شہر ہے۔ لاکھوں لوگ ہر روز رزقِ حلال کی تلاش میں گھروں سے نکلتے ہیں۔ ان میں مزدور بھی ہوتے ہیں، اساتذہ بھی، طلبہ بھی، ڈاکٹر بھی، صحافی بھی اور کاروباری افراد بھی۔ ان سب کی ایک ہی خواہش ہوتی ہے کہ شام کو بخیریت اپنے گھروں کو لوٹ جائیں، مگر جب سڑکوں پر اسلحہ بردار لٹیرے دندناتے پھریں تو عام آدمی کے دل سے تحفظ کا احساس ختم ہونے لگتا ہے۔اللّٰه تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا:

"اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔”(سورۃ البقرۃ: 195)

یہ آیت صرف انفرادی احتیاط ہی نہیں بلکہ معاشرے میں ایسے حالات پیدا کرنے کی بھی تلقین کرتی ہے جہاں انسانی جان اور مال محفوظ رہیں۔

رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:”مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”(صحیح بخاری: 10، صحیح مسلم: 40)

اگر اسلام ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے لیے باعثِ امن بننے کی تعلیم دیتا ہے تو اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اسلحے کے زور پر دوسرے کی جان، مال اور عزت کو خطرے میں ڈال دے۔اس مسئلے کا تعلق صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں سے نہیں بلکہ معاشرے کی مجموعی صورتحال سے بھی ہے۔ بے روزگاری، منشیات، غیر قانونی اسلحہ، اخلاقی زوال اور قانون سے بے خوفی ایسے عوامل ہیں جو جرائم کو بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ریاست کی پہلی اور بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔

اگر ایک شہری چند برسوں کے اندر دو مرتبہ ایک ہی نوعیت کی واردات کا شکار ہو جائے تو یہ اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ اس مسئلے پر مزید سنجیدگی سے غور کیا جائے۔اس سانحے نے مجھے ایک بار پھر یہ احساس دلایا کہ دنیا کی ہر نعمت عارضی ہے۔ انسان کتنی ہی محنت سے کوئی چیز حاصل کرے، اگر اللّٰه تعالٰی کی مشیت کچھ اور ہو تو وہ لمحوں میں اس سے محروم بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے مواقع پر مومن کی اصل طاقت اس کا ایمان، صبر اور اللّٰه تعالٰی پر توکل ہوتا ہے۔اس کے باوجود میرے دل میں شکر کا جذبہ غالب ہے کہ اللّٰه تعالیٰ نے میری جان محفوظ رکھی۔ موبائل دوبارہ خریدا جا سکتا ہے، کچھ دستاویزات دوبارہ تیار ہو سکتی ہیں، مگر انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اہم دستاویزات کا بیک اپ محفوظ رکھیں، موبائل کی سیکیورٹی خصوصیات فعال کریں، غیر ضروری طور پر قیمتی اشیاء نمایاں نہ کریں اور مشکوک مقامات پر زیادہ محتاط رہیں۔ اگرچہ یہ اقدامات جرائم کا مکمل حل نہیں، لیکن نقصان کو کسی حد تک کم ضرور کر سکتے ہیں۔

آخر میں اربابِ اختیار سے میری مؤدبانہ گزارش ہے کہ اسٹریٹ کرائم کو محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہ سمجھا جائے۔ ہر واردات کے پیچھے ایک خاندان کی پریشانی، ایک محنت کش کی کمائی، ایک طالب علم کا مستقبل، ایک استاد کی علمی محنت اور ایک شہری کا احساسِ تحفظ وابستہ ہوتا ہے۔ شہری صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ احساسات رکھنے والے انسان ہیں، جنہیں آئینِ پاکستان نے جان و مال کے تحفظ کا بنیادی حق دیا ہے۔اللّٰه تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے شہر کراچی کو امن، سکون اور خیر کا گہوارہ بنائے، ہر شہری کے جان و مال کی حفاظت فرمائے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنے فرائض دیانت داری اور مؤثر انداز میں انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ہر آزمائش میں صبر، استقامت اور اپنے رب پر کامل بھروسا رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا ربّ العالمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے