فلسطین جغرافیائی اعتبار سے تو شام کے پڑوس میں آباد ایک مسلم ریاست ہے، قرآن وسنت نے مگر اس کو برکت اور قداست کی سرزمین کہ کر اس کا مذہبی اور روحانی مقام بھی متعین کردیا ہے، اس پس منظر میں اس کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے. اس لیے "قضیہ فلسطین” عالم اسلام کے لیے محض ایک سیاسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں ہے، دین وایمان کا قضیہ ہے، عرب دنیا کے لیے اس کی معنویت اور بھی گہری ہے، کہ ان کے ہاں یہ دین اور وطن دونوں کا قضیہ ہے، وہاں کے بالا دست طبقے کے گلے میں غلامی کا طوق کا سہی، مگر عوام کے سینوں میں فلسطین سے محبت اور اس کےلیے تڑپ آج بھی ویسے ہی شعلہ فشاں ہے، جیسے اس قضیے کے ابتدائی دنوں میں تھی، ان جذبات کی حقیقی حرارت محسوس کرنی ہو، تو عرب اہل علم کی تحریریں پڑھنی چاہییں!
انہوں نے اس پر بہت لکھا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ خوب لکھا ہے، ایسا لکھا ہے کہ اس موضوع پر عربی لٹریچر اپنے اندر ایک تاریخ، ایک زندہ احساس اور ایک مسلسل آہ وفغان سمیٹے ہوئے ہے، شیخ طنطاوی کی "ذکریات” میں لکھے گئے ان کلمات کی گونج آج بھی ذہن کے نہاں خانوں میں سنائی دیتی ہے کہ: "لقنوا أولادكم مع حليب الأمهات، وجوب الجهاد لاسترداد فلسطين، علموهم كلمة: فلسطين مع كلمة بابا وماما”.
قضیہ فلسطین کے بواکیر اور بدایات پر خاص کر ، دکتور عزہ دروزہ اور دکتور اکرم زعیتر نے عمدہ لکھا ہے، احمد اسعد الشقیری، عزالدین القسام اور دوسرے اہل قلم نے بھی فلسطین کی تاریخ اور جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر لکھا ہے، منظمۃ التحریر الفلسطینیہ کی مرتب کردہ گیارہ جلد پر مشتمل "الموسوعہ الفلسطینیہ” جس پر اگر چہ ملاحظات ہیں، مگر فلسطین کی تاریخ پر وہ ایک مفصل دستاویز ہے۔
ان کے علاوہ بھی متعدد اہل علم نے اس موضوع پر لکھا ہے، عرب اہل علم میں شیخ البانی رحمہ اللہ کا نقطۂ نظر بعض پہلوؤں سے مختلف تھا، باسیان فلسطین کے لیے ہجرت کو ترجیح دینے کا فتویٰ بھی ان کا تھا، بعد میں شیخ مدخلی نے اسی موقف کو ایک خاص انداز میں، بلکہ بسا اوقات اس سے بھی زیادہ سخت اسلوب وانداز میں پیش کیا، ان کے پیروکار "مداخلہ” کا بہر حال فلسطین کے قضیے میں یہ ایک الگ زاویۂ نظر ہے، جس سے امت کی اکثریت اتفاق نہیں کرتی!
عرب اہل علم میں آگے جا کر ڈاکٹر طارق السویدان نے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے، اور ایک منفرد انداز میں اٹھایا ہے، ، ڈاکٹر صاحب عرب دنیا کا مشہور علمی اور دعوتی نام ہے، ان کے مختلف موضوعات پر سینکڑوں لیکچرز ہیں، کبھی مختلف مجلات میں "أشرطة طارق السويدان” کے عنوان سے ان کے خطابات کا تذکرہ اور تعارف نظر سے گزرتا رہتا تھا، اب تو سوشل میڈیا نے براہ راست استفادہ بھی آسان کردیا ہے۔
وہ بنیادی طور پر کویت سے تعلق رکھنے والے عالم ، مورخ، داعی اور ٹرینر ہیں، قیادت سازی اور Leadership Training ان کے اختصاصی موضوعات میں شمار ہوتے ہیں، مختلف علمی و تاریخی موضوعات پر ان کے لیکچرز معروف ہیں، سیرت نبوی پر ان کی گفتگو تو خاصی شہرت رکھتی ہے.
زیر بحث کتاب کی ابتدا بھی بنیادی طور پر انہی لیکچرز سے ہوئی، بعد میں انہیں احساس ہوا کہ فلسطین کے موضوع پر چونکہ ایسی کوئی مرتب اور مسلسل، تاریخی ترتیب کے ساتھ لکھی ہوئی، کتابی دستاویز موجود نہیں، تو انہوں نے اپنے ان لیکچرز کو باقاعدہ کتابی صورت میں ترتیب دی، نقشہ جات وتصاویر کا اضافہ کیا، یوں یہ کام محض منتشر خطابات کا مجموعہ نہیں رہا، بلکہ فلسطین کی تاریخ کو ایک تاریخی تسلسل کے ساتھ پیش کرنے والی مستقل کتاب بن گیا، جس کے اردو ترجمے کا قرعہ فال قدرت نے مفتی اسد اللہ خان پشاوری صاحب کے نام کردیا۔
مفتی اسد اللہ خان صاحب استاد جی مولانا عبد الحلیم چشتی صاحب رحمہ اللہ کے مایہ ناز شاگرد اور ان کے ذوق تحقیق کے وارث وامین ہیں، استاد جی رحمہ اللہ مجموعہ کمالات تھے، ان کی بعض خوبیاں ایسی تھیں جو اس دور کے اہل علم میں، خصوصا بحیثیت استاد، نایاب نہ سہی، کم یاب ضرور ہیں، ان میں من جملہ ایک یہ بھی تھا کہ جو شاگرد ان کے نزدیک باکمال ہوتے، یا جن کا ان سے براہ راست علمی تعلق ہوتا، انہیں ہر موقع پر یاد کرتے، ان کی علمی سرگرمیوں کا ذکر کرتے اور ان کی خوبیوں کو دوسروں تک پہنچاتے تھے۔
مولانا اسد صاحب کا نام اسی تناظر میں پہلی بار استادجی رحمہ اللہ سے تب سنا تھا، بعد میں ان کے علم و فضل اور تحقیقی کاموں سے واقفیت بڑھتی گئی، براہ راست ملاقات کی سعادت تو اب تک نہیں ہوسکی ہے، تاہم فیس بک کے کئی فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے Communication Gap کو بڑی حد تک ختم کردیا ہے، جس کے باعث درجنوں ارباب فضل و کمال سے تعارف اور کسی نہ کسی درجے میں براہ راست شناسائی ممکن ہوگئی ہے، فیس بک ہی کے ذریعے ان کے مختلف علمی و تحقیقی کام بھی نظر نواز ہوتے رہے، "قبر پر سور بقرہ کی اول وآخر کی تلاوت، ایک تحقیقی جائزہ ” اور "تحقیق حدیث سبعۃ أحرف ” کا سرسری مطالعہ تو لائیبریری میں ہوا تھا، "ذكر إجازات الحديث في القديم والحديث” کا شاندار تحقیقی کام اور علمی مقدمہ بھی عرصہ قبل اجازات واسانید پر کام کرتے ہوئے پڑھاتھا، اس کے علاوہ بھی آپ کے علمی نگارشات سے گاہے بگاہے استفادہ ہوتا رہتا ہے.
مفتی صاحب کے علمی ذوق میں خاصا تنوع نظر آتا ہے، محقق آدمی کو ایسے ہی پہلو دار ذوق کا حامل ہونا چاہیے، موضوعات کی تحدید وتخصیص محقق کو زیبا نہیں ہوتا، نہ ہی وہ خود کو کسی خاص دائرے میں محصور رکھتا ہے، وہ ہمہ وقت علمی کاموں میں مصروف رہتا ہے، نئے موضوعات اور نئے مواقع کی تلاش میں رہتا ہے ، جہاں کوئی علمی ضرورت محسوس ہو، وہاں اپنے قلم کو حرکت دیتا ہے، 7 اکتوبر کو غزہ پر حملہ ہوا ، تب لوگوں نے حسب ذوق واستطاعت اہل غزہ کے ساتھ امداد و تعاون کے لیے ہاتھ بڑھائے، دامے، درمے مختلف طریقوں سے تعاون ہوتا رہا، قلمے اور سخنے بھی کم لوگ سرگرم نہ تھے، فیس بک کی حد تک اردو میں مولانا اسد اللہ صاحب کو مسلسل اور استقامت کے ساتھ اس عنوان پر کام کرتے دیکھتا رہا، جن کی ان علمی کاوشوں سے مجھ جیسے کئی طالب علموں کو فائدہ ہوتا رہا۔بعد میں ان منتشر اقساط کو جمع کرکے باقاعدہ کتاب کی صورت میں شائع کیا ۔
مولانا نے عنایت کرتے ہوئے کتاب کا ایک نسخہ بھیجا تھا، میری بدقسمتی کہ تب اس پر جو لکھا، حوادث زمانہ کی نذر ہوگیا، جس کی وجہ سے بڑی پریشانی ہوئی، چند دن قبل اچانک پرانے مواد میں اس کا ایک حصہ ہاتھ لگ گیا، تب بڑی خوشی ہوئی، چنانچہ حک واضافہ کرکے تیار کیا، پرسوں عالمی یوم ترجمہ کی مناسبت ان کی پوسٹ دیکھ کر خیال آیا کہ اپنے ان ٹوٹے پھوٹے کلمات کے ذریعے شیخ کی مترجم علمی کاوش کا تذکرہ ہوجائے ، کتاب کا اصل تعارف تو قضیہ فلسطین سے وابستہ اہل علم کے مقدمات میں نہایت عمدگی سے آگیا ہے۔
اللہ تعالیٰ مولانا اسد اللہ صاحب کی اس خدمت کو شرف قبولیت عطا فرمائے، اسے فلسطین کے ایمانی وتاريخی شعور اور اس کے حوالے سے امت کے دینی احساس کو زندہ رکھنے کا ذریعہ بنائے! آمین۔