ت ۔۔ تفریح، تشدد، عورت

اگر آپ پورنوگرافی کے معاشرے پر اثرات کو سمجھنا چاہتے ہیں تو کتاب (تین ت ۔۔ تفریح، تشدد، عورت) کا پڑھنا لازم ہے۔

اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ شاید اس کتاب میں کوئی گندا مواد ہوگا تو ایسا بالکل مت سوچیے، کیونکہ یہ کتاب ایک مکمل ریسرچ ورک ہے اور آپ کو پورنوگرافی کو نئے انداز سے سمجھنے کی تحریک دے گی ۔ عامر رضا نے جس دلیری اور بہادری سے اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے اس کی داد لفظوں میں نہیں دی جا سکتی، ان کی بہادری کو ہم واہ گاہ بارڈر کے سپاہیوں والا سلوٹ پیش کیا جانا چاہیے۔

مصنف نے اپنی کتاب کے تعارف میں 2010 کی خبر کا حوالہ دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان پورن ویب سائٹ کو وزٹ کرنے والا نمبر ون ملک بن چکا ہے ۔ اس وقت یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ ہر جگہ اس کا حوالہ دیا جانے لگا ۔ میں نے بھی خبر کا حوالہ بہت سے علمی مباحثوں میں سنا ۔ ہمیشہ تذبذب اور ہیجان میں مبتلا رہا کہ پاکستان میں انٹرنیٹ کی سپیڈ اور صارفین کی کم تعداد اس خبر کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ میں ہیجان کے باوجود بھی اس خبر کی تصدیق کی طرف نہیں بڑھ سکا ۔ لیکن عامررضا چونکہ ایک محقق ہیں، انہوں نے اس کتاب کے ذریعے ہماری کم فہمی کو دور کرتے ہوئے حوالہ جات کے ساتھ اس بات کو رد کر دیا ۔ لیکن اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ پاکستان میں پورنوگرافی کا کاروبار نہیں ہو رہا۔ وہ تسلسل سے جاری ہے ۔

مصنف نے دنیا بھر میں پورنوگرافی پر ہونے والی تحقیق کا مطالعہ کرنے کے بعد پانچ مفروضے قائم کیے ہیں۔ مصنف نے واضح انداز میں لفظ مفروضہ مصنف نے واضح انداز میں لفظ مفروضہ یعنی ہائپو تھیسز کی اپنے تعارفی باب میں وضاحت کر دی ہے۔ لکھتے ہیں، کہ "سائنسی طریقے تحقیق میں مشاہدے اور مطالعے کے بعد دو ویریبلز کے درمیان رشتے کو یا ریلیشنز کو بیان کرنے کا نام مفروضہ ہے اور اس کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے تجربات کیے جاتے ہیں جو کہ اس کتاب کی انفرادی حیثیت کو برقرار رکھتے ہیں۔

مفروضہ نمبر 1

"ٹیکنالوجی کی ترقی نے پورنوگرافی کی پروڈکشن اور ترسیل کو آسان کر کے پورنوگرافک مواد پر ریاستوں کی گرفت کمزور کر دی ہے”۔

اس مفروضے میں مصنف نے پورنوگرافی کو ایک کنزیومر پروڈکٹ کے طور پر سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ جس طرح سے ہم باقی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں اسی طرح پونوگرافی بھی ایک پروڈکٹ کی طرح استعمال ہوتی ہے۔ اس مفروضے میں مصنف نے بڑی تفصیل کے ساتھ پورنوگرافی کی تاریخ اور اس کے پھیلاو کے مختلف ذرائع کا حوالہ دیا ہے، مگر مفروضے کے مطابق اس کی روک تھام کی واضح مثالیں بیان نہیں کی۔ اس کی روک تھام میں ہونے والی پیشرفت کا حوالہ کتاب کے آخری باب میں تفصیل سے ملتا ہے، جو کہ اس پہلے مفروضے کا حصہ ہونا چاہیے تھا۔ میں ایک عام قاری کے طور پر سمجھتا ہوں کہ اس باب میں مفروضے میں ریاستوں کی گرفت جو کہ مضبوط تھی۔ (اگر مضبوط تھی) اس کو تھوڑا زیادہ واضح انداز میں پیش کیا جانا چاہیے تھا۔

مختصر یہ کہ مصنف نے بتایا کہ انٹرنیٹ کی ایجاد سے پہلے ریاست کی گرفت کہیں نہ کہیں موجود تھی، مگر انٹرنیٹ کی ایجاد اور سوشل میڈیا کی بھرمار کے بعد ریاستیں اپنا کنٹرول کھو چکی ہیں، جس کے معاشرے پر ذہنی، نفسیاتی اور جنسی اثرات برے طریقے سے اثرانداز ہو رہے ہیں۔ مصنف نے 16 ایم ایم کیمرا سے لے کر گونزو پورن ( gonzo porn)کے یونرا کو تفصیل سے ڈسکس کیا گیا ہے۔ گونزو پورن کی ایجاد کے بعد پورن وڈیوز کیترسیل کا عمل تیز ترین ہوا ۔ جس میں دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ وہ خود ایسی فلموں میں ہیرو کے طور پر کام کر رہا ہے۔

مفروضہ نمبر 2

"ٹیکنالوجی نے پورنوگرافی فلموں سے کہانی کے عنصر کو ختم کر کے یونرہ ( genre)سسٹم کو تبدیل کیا اور ان وڈیوز کے بڑھتے ہوئے حجم نے عورت اور مرد کے جنسی رشتے اور کرداروں کی میکانکی ( mechanics) کو تعبیر کیا ہے”۔

مصنف نے انیس سو ساٹھ کی دہائی سے شروع ہونے والے پورن فلموں کے سنہری دورجس میں اس طرح کی فلمیں کہانی کی شکل میں پیش کی جاتی تھیں میں ایک فلم ڈیپ تھروٹ (deep throat )کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی امریکی سپریم کورٹ میں فہاشی کی نئی تعریف متعین کیے جانے کو بھی تفصیلا ڈسکس کیا ہے۔ مصنف کے مطابق ٹیکنالوجی کے بدلتے آلات کے ساتھ ساتھ ان فلموں سے کہانی کو بلکل ختم کر دیا گیا اور اس طرح یہ فلمیں فیچر فلم کی کیٹیگری سے نکل کر گونزو پورن کی کیٹیگری میں داخل ہو گئی۔

جس میںکیمرہ مین کو ایک کردار کی حیثت حاصل ہو گئی۔ ان فلموں کو حقیقت سے زیادہ قریب تر سمجھا گیا، جس کی مثالوں میں ہوم میڈ سیکس ویڈیوز وغیرہ شامل ہیں۔ مصنف کے مطابق جب کہانی کا خاتمہ ہوا تو عورت اور مرد کے کرداروں کا نئے سرے سے تعین کیا گیا۔ عورت کو ( objectify )کر کے صرف ایک کنزیومر پروڈکٹ کے طور پر لیا گیا، آسان الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ عورت کی انسانی حیثیت کو ختم کر دیا گیا۔ اب معاملہ ورچول ریالیٹی سے اے آئی سے بنی فلموں تک پہنچ چکا ہے، اے آئی اب ایک نیا یونرہ ( genre)کو جنم دے رہا ہے۔

اس مفروضے کو پڑھتے ہوئے میرے سامنے کچھ نئی مثالیں سامنے آئیں، جیسے ٹک ٹاک لائیو شوز میں بیٹھے مرد اورعورت ایک دوسرے کو مختلف قسم کے چیلنجز دیتے ہیں، ۔ جیسا کہ، بے ہودہ قسم کی حرکتیں کرنا، گالیاں بکنا، اور جسم کے کچھ خاس حصوں کو ننگا کرنے کا چیلنج وغیرہ، اور پھر ویورز ان کو مختلف اشیاء اور پیسے گفٹ کرتے ہیں۔ شاید یہ بھی پورن کی کوئی جدید شکل ہو، اس بارےمیں عامر رضا مزید ریسرچ کر سکتے ہیں۔

مفروضہ نمبر 3

"پورنو گرافی خواتین کی جنسی شے کے طور پر تجسیم کرتی ہے۔ جو انہیں مرد سے کم تر ثابت کرتے ہوئے ان کے خلاف ہتک آمیز رویہے کی آبیاری کرتی ہے”۔
عامر رضا میڈیا کے ماہر ہونے کے ساتھ ساتھ میڈیا کے استاد بھی ہیں، تو انہوں نے اس کتاب میں عورت کیتجسیم ( objectification ) کو میڈیا کی تھیوریز کے ذریعے ثابت کرنے کی عمدہ کوشش کی ہے، جس میں انہوں نے بیسیوں پورن سٹڈیز کا حوالہ دے کر اپنے مفروضے کا تجزیہ کیا ہے۔ کتاب کے مقدمے میں روش ندیم صاحب نے تہذیبی ارتقاء کو زیر بحث لاتے ہوئے بیان کیا ہے کہ کس طرح مادرسری معاشرہ پدرسری معاشرہ میں تبدیل ہوا اور آج یہ پدرسری معاشرہ عورت کو مکمل انسان سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔

مصنف نے عورت کے جنسی استحصال کو نہ صرف تاریخی حوالوں سے بیان کیا ہے بلکہ حسب حال مثالوں سے بھی واضح کیا ہے۔ جس میں ایک بڑی مثال انہوں نے پاکستانی سیاسی حلچل سے پیش کی ہے۔ 2022 کے پی ٹی آئی کے ملتان کے جلسے میں ایک نوجوان نے خاتون سیاستدان کا نام لکھ کر اسے MILF-e-Millat لیبل کیا ہوا تھا۔ اس نوجوان نے MILF کی اسطلاح کو یقینی طور پر پورن ویڈیوز اور ویب سائٹ سے اخذ کیاہوگا۔ لیکن پریشانی کی بات یہ ہے کہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں اس طرح کی فلمیں اور ویڈیوز کس طرح تیزی سے عورتوں کے کردار کے حوالے سے منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ عورت ایک جنسی لذت کے علاوہ اس معاشرے میں صنفی کردار بھی رکھتی ہے، جس کو ہم ختم ہوتا ہوا یا کم ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔

مفروضہ نمبر – 4

"پورنوگرافی عورت کو صنفی درجہ بندی میں کم تر دکھاتے ہوئے اسے محض ایک جنسی شے یعنی آبجیکٹ ( Ojbect) میں بدلتی ہے اور مرد کے تابع کردیتی ہے۔ یہ تینوں عناصر عورت کے خلاف تشدد کو معمول بناتے ہیں جس کا ناظر کو شعوری سطح پر ادراک بھی نہیں ہوتا”۔

مصنف نے اس مفروضے کے تجزیے کے لیے میکینن اور ڈوارکن کی سٹیڈیز کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ میکینن پورنوگرافی کو ایک طاقتور آلے کے طور پر بیان کرتی ہے اور وہ اس کی وضاحت یوںکرتی ہے۔

"پورنوگرافی دیکھنا ایک ذاتی نوعیت کا مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایک معصوم قسم کی تفریح ہے جو کہ فرد بند کمرے میں بیٹھ کر کرتا ہے بلکہ یہ ایک بہت بڑے سماجی مسئلے کی بنیاد بن سکتا ہے اور یہ سماج میں طاقت کی مساوات کو تبدیل بھی کر رہا ہے”۔

ڈوارکن کے مطابقپدر شاہی معاشرے میں مرد تو اپنی سماجی شناخت رکھتا ہے لیکن عورت کی شناخت مرد کے تابع ہوتی ہے اور پورن فلمیں اس فرق میں مزید گہرائی پیدا کر رہی ہیں۔ مرد پورن فلموں کے ذریعے کس طرح سے اپنی بالا دستی قائم کرتا ہے، اس کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

درجہ بندی (Hierarchy) ، تجسیم (objectification )، اطاعت (submission)، تشدد (violence)

مصنف نے اپنی موجود کتاب میں پہلے سے ہوئی سٹیڈیز میں رہ جانے والے خلا کو پر کرنے کے لیے یہ چار نکات کے ساتھ ویب سائٹ پر مائیکرو پورن ویڈیوز کو دیے جانے والے کیپشنز ( captions) کا مطالعہ کیا جس میں یہ اخذ کیا گیاکہ عورت ایک کم تر حیثیت والی مخلوق ہے جس کا مقصد صرف مردوں کو جنسی لذت فراہم کرنا ہے۔ اس سٹیڈی نے اس تجزیے کو صحیح ثابت کیا جو ہم نے پیچھے بیان کیا ہے۔ ملتان کے جلسے میں ایک نوجوان نے خاتون سیاستدان کو صرف پورن فلموں کی ہیرون سے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ پورن فلموں سے معاشرے میں مردوں کے ذہنوں میں عورتوں کے بارے میں جو بیانیہ پروان چڑھ رہا ہے اس میں عورت پر ہونے والے تشدد میں مزید اضافہ دیکھا جائے گا۔

مفروضہ نمبر 5۔

"فرد کی سیاسی سماجی معاشی اور نفسیاتی شکست خوردگی اسے پورنوگرافی میں پناہ لینے پر مائل کرتی ہے”۔

مصنف نے اس مفروضے کے تحت پورنوگرافی ویڈیو کے دیکھنے کو ایک نشہ قرار دیا ہے جس طرح انسان اپنی ناکامیوں، شکست خوردگی اور حقیقت سے فرار حاصل کرنے کے لیے مختلف قسم کے نشے میں مبتلا ہو جاتا ہے، اسی طرح پورنوگرافی میں بھی وہ فرار حاصل کرتا ہے جو ایک نشے کی لت سے کم نہیں ہے۔ جس طرح دوسرے نشے انسان کی شخصیت کو مسخ کر دیتے ہیں اسی طرح پورنوگرافی کا نشہ بھی انسانی روئیوں میں منفی تبدیلیوں کا باعث بن جاتا ہے۔

مصنف نے جہاں بہت سی سٹیڈیز کے حوالے درج کیے ہیں وہیں ہر چند موجودہ مثالوں سے بھی واضح کیا ہے۔ مصنف کے مطابق جب معاشرے میں گھٹن کا ماحول بڑھ جاتا ہے تو سماج مختلف قسم کے فرار حاصل کرتا ہے۔ جس میں کچھ لوگ نشہ اور ادویات کا استعمال کرتے ہیں تو کچھ لوگ خودکشی کرتے ہیں، وہیں پر کچھ لوگ اس طرح کا مواد میڈیا کے ذریعے کنزیوم کرتے ہیں جو انسان کے لیے تسکین کا باعث بنتا ہے۔ مصنف نے پرویز مشرف کی ملک میں امرجنسی کے دوران سٹیج ڈراموں میں واہیات قسم کی زبان، لطیفے اور جگتوں پر لوگوں کا داد دینا اور مجرہ ڈانس میں اضافہ اس بات کی طرف ایک اشارہ کرتا ہے کہ فرد معاشرے اور سماج میں گھٹن کو دور کرنے کے لیے پورن کا سہارا بھی لے سکتا ہے۔ سٹیج ڈراموں کے سارے تماشائی مرد حضرات ہی ہوتے تھے۔

انہیں عارضی فرار تو حاصل ہو گیا لیکن اس کی وجہ سے جو ذہن سازی عورت کی سماج میں حثیت کے حوالے سے ہوئی وہ بہت خطرناک ہے۔ مصنف نے تاریخی حوالوںسے اس مفروضے کی تجزیاتی آبیاری کی ہے یوگوسلاویہ کی جنگ اور پورن میگزین کا ذکر اور امریکی فوجیوں کی افغان وار اور عراق وار کے دوران ابو غریب جیل میں قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والی سلوک میں پورن فلموں اور میگزین سے ماخذ شدہ طریقے کا استعمال سامنے آتا ہے۔ مصنف کے مطالعے کی وسط اتنی زیادہ ہے کہ اپنی مفروضے کو تجزیاتی بنیادوں سے پرکھنے کے لیے اورہان پاموک کے ناول سنو ( SNOW) کا ( Qualitative Analysis) کرکے اس کا پورنکے انسانی ذہن پر اثرات کے حوالے سے بھی ایک تجزیہ پیش کر کیا ہے۔

آخر میں مصنف نے پونوگرافی کو ایک بزنس موڈل کے طور پر ڈسکس کیا ہے جس میں بہت سی(underworld) جرائم کی مافیا تنظیمیں اس کاروبار میں ملوث ہو سکتی ہیں پاکستان میں چائلڈ پورنکے حوالے سے 2015 قصور کے واقعے کو اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے جس میں ایک 45 سالہ شخص بچوں کی پورن ویڈیوز بنا کرناروے کے ایک شہری کو بیچ دیا کرتا تھا۔ اس کیس میں اس شخص کو سزا تو ہو گئی لیکن سماج پر اس کے اثرات کا احاطہ کرنا ابھی باقی ہے۔

کتاب کا مقدمہ روش ندیم صاحب نے بہت محنت سے لکھا ہے۔ انہوں نے اس میں پورنوگرافی کو تاریخی اور تہذیبی نکتہ نگاہ سے بیان کیا ہے۔ انہوں نے مقدمے میں قبل از تہذیبی زمانوں سے لے کر بلیو فلموں کے دور تک عورت کی سماجی حیثیت کو تفیصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ جب سماجی تنظیم سازی کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے انسانی جبلتوں کو ملکیتی نظام کے ذریعے اور جنسی جبلت کو خاندانی نظام کے تحت کنٹرول کیا گیا۔ بحیثیت قاری جب اس کتاب کو پڑھتے ہیں تو روش ندیم کے مقدمہ اور عامر رضا کے پانچ مفروضوں کے بیان میں زبان کے اسلوب میں واضع فرق نظر آئے گا۔ مقدمہ کو مشکل ترین اسلوب کی کتابی زبان میں لکھا گیا ہے ۔

مشکل الفاظ ، غیر مقبول اسطلاحات اور پیچیدہ جملوں کی وجہ سے قاری کی پڑھنے کی روانی میں رکاوٹ پیداہوتی ہے۔ اور دوسری طرف عامر رضا کی جانب سے کتاب کے موضوعات کو آسان ترین اور عام فہم اسلوب میں لکھا گیا ہے۔ میرے خیال میں عامر رضا ایک اچھے ڈرامہ نگار اور کہانی کار اور میڈیا کے استاد ہونے کی وجہ سے انہوں نے اس کتاب کو میڈیا تھوریز اور میڈیا ریسرچ کے زاویوں اور پیمانوں کو سامنے رکھتے ہوئے لکھا ہے ۔ کتاب کا اسلوب پہاڑوں سے اترتے پانی کی طرح خود بخود بہتا جاتا ہے۔اس وجہ سے انہوں نے کتاب کو عام قاری (target audience) کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دیا ہوگا۔ اس لیے آپ کتاب کے مقدمہ کو پڑھتے ہوئے ذرا حوصلے اور صبرسے کام لیجیے گا جس کے بعد کتاب کے موضوعات آپ کا ہاتھ تھام لیں گے اور کب اور کس وقت آخری صفحہ الٹ جائے گا شاید آپ کو اندازہ بھی نہیں ہو گا۔

مغربی ممالک میں پورن سٹیڈیز کے شعبہ جات قائم ہیں جہاں اس کے حوالے سے ریسرچ کا کام بھی کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں اس پر بات کرنے والے کو مختلف القابات سے نواز دیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں اگر اس طرح کی کوئی ریسرچ کر بھی لی جائے تو وہ پبلش نہیں ہو سکتی ۔ عامر رضا کی جرات اور پبلشر کی بہادری کو سراہا جانا چاہیے ۔ کم از کم کسی نے اس موضوع کو عوام تک پہنچایا ۔ امید کرتا ہوں اب اس موضوع پر مزید مباحث، اس کے منفی اثرات پر بات اور ان کا حل کی تجویز سامنے آئیں گی۔ میڈیا سٹڈیز پر روزانہ کی بنیاد پر پاکستان میں مختلف جامعات میں ریسرچ کا کام تو ہو رہا ہے جو نیشنل اور انٹرنیشنل جرنلز میں شائع بھی ہوتا ہے لیکن عوام یا عام قاری تک اس کی کوئی رسائی نہیں ہوتی۔ میری رائے میں اگر اس طرح کے کام کو سہل انداز میں کتابی شکل دی جائے تو سماجی خدمت کے ساتھ ساتھ حساس موضوعات پر معاشرے میں بحث کا آغاز بھی ہو جائے گا۔

تبصرہ :

ڈاکٹر طیب انصاری
ڈاکٹر طیب انصاری ماس کمیونیکیشن میں پی ایچ ڈی ہیں اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشنل ٹیکنالوجی میں بطور ٹیلی ویژن پروڈیوسر کام کر رہے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے