یہی سے کھلتے ہیں الحاد کے دریچے۔۔۔

مزا آ رہا ہے۔۔۔ لڑائی سے، بحث سے، ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے سے۔

اور شاید دنیا بھی یہی تماشا دیکھ کر خوش ہو رہی ہے کہ جن لوگوں کے پاس امت کو جوڑنے کے لیے قرآن و سنت ہے، وہ ایک دوسرے کو توڑنے کے لیے الفاظ کے ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

قابلِ احترام لوگوں کا رویہ بھی قابلِ احترام ہونا چاہیے۔ عام آدمی اور عالمِ کی گفتگو میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے۔

اگر ہماری زبان، لہجہ، الزام اور اندازِ گفتگو وہی ہو جو گلی کے لونڈوں کا ہوتا ہے تو پھر پگڑی صرف سر پر رکھنے سے علم کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔۔۔۔

صحابۂ کرامؓ کے باہمی معاملات پر آج قاضی بن کر فیصلے کرنا، ہر مورخ کی روایت کو سندِ قطعی سمجھنا اور پھر اسی بنیاد پر امت کا ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرنا کوئی نئی خدمت نہیں۔ تاریخی اختلافات کو دشمنیوں کا ایندھن بنانا امت کے لیے کبھی سودمند نہیں رہا۔

اور ہماری ایک عجیب عادت ہے غلطی کی نشاندہی بھی اتنی شدت سے کرتے ہیں کہ اصل غلطی سے زیادہ نقصان ہماری نشاندہی پہنچا دیتی ہے۔

ایک شخص نے ایک جملہ غلط کہہ دیا، ہم نے جواب میں پوری شخصیت کا پوسٹ مارٹم کردیا۔ پھر اس کے جواب میں دوسرا مضمون آیا، پھر تیسرا، پھر چوتھا۔۔۔ یہاں تک کہ مسئلہ ایک جملے سے نکل کر ایمان و کفر تک جا پہنچا۔

آج ہم میں سے کوئی کسی کی نظر میں گمراہ ہے، کوئی بدعتی، کوئی فاسق، کوئی کافر۔۔۔ اور حیرت یہ ہے کہ سب کے پاس اپنے فیصلے کے لیے قرآن و حدیث بھی موجود ہے!

نسلِ نو یہ تماشا دیکھتی ہے تو ایک سوال ضرور کرتی ہے۔
اگر دین انسان کو اتنا ہی لڑاکا بناتا ہے تو پھر ہم اس دین سے کیا سیکھیں؟
ہم انہیں اخوت کا درس دیتے ہیں، مگر خود ایک دوسرے کی عزت اچھال رہے ہوتے ہیں۔
ہم انہیں برداشت سکھاتے ہیں، مگر اختلافِ رائے برداشت نہیں کرتے۔
ہم انہیں حسنِ اخلاق بتاتے ہیں، مگر مخالف عالم کے لیے ہماری زبان میں اخلاق نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔
پھر شکایت ہوتی ہے کہ نوجوان دین سے دور کیوں ہو رہے ہیں؟

بھائی! نوجوان دین سے نہیں، بعض اوقات دین کے نام پر پیش کیے جانے والے ہمارے رویوں سے دور ہوتا ہے۔

اسلامی حلیہ، داڑھی، پگڑی، جبہ اور عمامہ ہماری شناخت ہیں، لیکن جب اسی شناخت کے ساتھ ہر اختلاف پر غصہ، تحقیر، فتویٰ اور کردار کشی بھی پیکج میں ملے تو سامنے والا حلیے کو بھی شدت پسندی کی علامت سمجھنے لگتا ہے۔

پگڑی کا وقار صرف اس کے کپڑے میں نہیں، اس کے رویے میں ہوتا ہے۔

علم کی شان صرف یہ نہیں کہ آدمی کتنے حوالے یاد رکھتا ہے، علم کی اصل آزمائش تو یہ ہے کہ اختلاف کے وقت آدمی اپنے لہجے کو کتنا قابو میں رکھتا ہے۔

اور ہمیں کبھی کبھی یہ بھی یاد کر لینا چاہیے کہ ہر اختلاف کا جواب فتویٰ نہیں ہوتا، ہر غلطی کا علاج تذلیل نہیں ہوتی اور ہر تاریخی روایت درست نہیں ہوتی ۔
ورنہ پگڑیاں تو اچھلتی رہیں گی۔۔۔
فتوے بھی چلتے رہیں گے۔۔۔
سوشل میڈیا بھی تالیاں بجاتا رہے گا۔۔۔
بس نقصان یہ ہوگا کہ جس نسل کو ہم دین سے جوڑنا چاہتے ہیں، وہ خاموشی سے تماشا دیکھ کر پوچھے گی۔۔
"اگر دین والے ایک دوسرے سے ایسے لڑتے ہیں، تو ہم دین والوں کے پاس جائیں ہی کیوں؟”
یہی سے کھلتے ہیں الحاد کے دریچے ۔۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے