ہم اور ہمارا جوڈو کراٹے

ہم بچپن سے جوڈو کراٹے سیکھنے کے شوقین تھے۔اس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ بچپن میں ہمارے اسکول کے ساتھی ہمیں تنگ کیا کرتے تھے اور ان سے انتقام لینے کے لیے ہم نے سوچ لیا تھا کہ ہم جوڈو کراٹے کا سہارا لیں گے۔

ہم نے والد صاحب سےاپنی اس خواہش کا اظہار کیاتو انھوں نے ہمیشہ کی طرح ہماری اس خواہش کو پورا کیا۔

دوسری وجہ اداکار اکشے کمار کے فلموں میں ایکشن سین تھے جنھیں دیکھ کر بھی ہمیں جنون سوار ہوجاتا تھا۔ جب فلم مہرہ میں سنیل شیٹھی اور اکشے کمار ایکشن سین میں نظر آئے تو ہمیں ایسا لگا کہ جیسے ہم اپنے اسکول کے شریر لڑکوں کو سبق سکھا رہے ہوں۔

اسی دوران پی ٹی وی پر ایک ڈراما شہباز آیا کرتا تھا جو اسلام آباد مرکز سے ٹیلی کاسٹ ہوتا تھا۔ اس ڈرامے کے ہیرو نعمان مسعود تھے۔ جو مارشل آرٹ کے ماہر دکھائے گئے تھے اور ڈرامے میں بلیک بیلٹ تھے۔اس ڈرامے میں ایک اہم کردار ایسا بھی دکھایا گیا تھا جو کالج میں لڑکوں سے پریشان ہے اور اسی وجہ سے وہ مارشل آرٹ سیکھنا چاہتا ہے۔

اسی ڈرامے نے جوڈو کراٹے سیکھنے کے حوالے سے تابوت میں آخری کیل کا کام کیا اور ہم نے اپنے والد صاحب سے کہا کہ جلدی سے معلومات کریں کہ جوڈو کراٹے کہاں سکھایا جاتا ہے۔

اسی دوران ایک مزیدار قصہ بھی سناتا چلوں۔ ڈراما شہباز جو غالباً آٹھ بجے شب پی ٹی وی سے دکھایا جاتا تھا۔ ہفتے میں ایک دن ٹیلی کاسٹ ہوتا اور اس کا دورانیہ پچاس منٹ کا ہوتا تھا۔ اس وقت صرف ایک واحد اکلوتا ہمارا پیارا پی ٹی وی ہی ہوا کرتا تھا۔جسے پورا پاکستان مل کر دیکھتا تھا۔

ایک دن ہم سب فیملی ممبران اپنے ابو کے دوست کے گھر گئے۔ وہاں آٹھ بج رہے تھے اور وہ بھی ڈراما شاہین دیکھ رہے تھے ۔اس قدر عمدہ ڈائریکشن ایکٹنگ اور ساتھ ساتھ اس ڈرامے کا بیک گراؤنڈ میوزک تھا کہ کانوں کو بہت اچھا لگتا تھا اور آج بھی وہ ڈراما خوشگوار یادوں میں محفوظ ہے۔

ہم نے والد صاحب کے دوست کے گھر ڈراما شاہین دیکھا۔ واپسی میں جب ہم ان کے گھر سے جانے لگے تو ہم جوش میں آکر بے خیالی میں ان کے گھر کی دیواروں پر لاتیں اور گھونسے مارنے لگے ۔ ہمیں معلوم نہیں تھا کہ کوئی ہماری اس حرکت کو دیکھ رہا ہے۔ اسی دوران ہمارے میزبان یعنی والد صاحب کے دوست نے جب یہ منظر دیکھا تو مذاق میں کہنے لگے بھائی بس کرو دیوار توڑو گے کیا۔

ہم شرمندہ ہوگئے مگر انہیں کیا پتا کہ ہم خود کو بلیک بیلٹ اور جوڈو کا ماہر سمجھ رہے تھے اور اپنے اسکول کے دشمنوں کا قلع قمع کر رہے تھے۔

یہ بچپن کی باتیں ہیں جو یاد رہ جاتی ہیں مگر یہ ضرور ہے کہ آپ جو دیکھتے ہیں جو کھاتے ہیں اس کا اثر آپ کے دلوں ودماغ پر ہوتا ہے۔ ہمارے ایک جاننے والے بال کٹوانے کے معاملے میں بہت خوفزدہ تھے۔ ہم نے استفسار کیا تو کہنے لگے کہ ان کا نائی فلمیں دیکھنے کا بہت شوقین ہے۔

ایک دن اس نے سنی دیول کی فلم لگالی۔ فلم ایکشن سے بھرپور تھی۔جیسے ہی سنی دیول کا ڈھائی کلو کا ہاتھ ولن کے تھوپڑے پر پڑتا وہ کمبخت میرے بال چھوٹے کردیتا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ تو حد ہی ہوگئی فلم میں رونے پیٹنے اور جذباتی قسم کا سین تھا۔ اس بدبخت نے بجائے سر پر اسپرے کرنے کے منہ پر اسپرے کردیا۔ سردیوں کے دن تھے گرم پانی سے منہ اور جل گیا۔اس کے بعد ایک دن عمران ہاشمی کی فلم کا سین لگ گیا تو مردود اس سین میں اتنا کھوگیا کہ میرا کان ہی کاٹ ڈالا۔ کہنے لگے کہ اس دن کے بعد سے توبہ کرلی کہ جس نائی کے پاس کیبل لگا ہوا ہوگا وہاں بال نہیں کٹواؤں گا۔

واپس جوڈو کراٹے کی طرف آتے ہیں۔ایک دن ہمارے والد صاحب ہم دونوں بھائیوں کو اپنے ایک دوست کے پاس لے گئے۔ جو محلے ہی میں رہتے تھے اور باڈی بلڈر تھے۔ اکثر قمیص اتارے ہوئے ہی نظر آتے تھے ۔یہ بھی ان کی مہربانی تھی خیر وہ باڈی بلڈر جب بھی کسی آدمی کو دیکھتے تو اپنے بدن کو تولیا سے ڈھک لیا کرتے تھے شاید کسی نے ان سے کہ دیا تھا کہ سینا تان کر مت کھڑے رہا کرو نظر لگ جاتی ہے۔

وہ اپنے ایک دوست کے پاس ہمیں لے گئے۔ وہ جوڈو کراٹے کے ماہر تھے۔ انھوں نے بھی ایک انسٹرکٹر کا بتایا جو ان کے دوست تھے اور باقاعدہ جوڈو کراٹے کا کلب رن کرتے تھے اور اس طرح یہ الف لیلوی داستان اپنے انجام کو پہنچی اور ہم نے کلب میں جوڈو کراٹے سیکھنا شروع کیا۔ شروع شروع میں تو بڑا مزا آیا۔ جوڈو کراٹے کا لباس بھی منفرد سا تھا۔ ہم نے خوشی خوشی وائٹ بیلٹ باندھی۔

آہستہ آہستہ ہمیں یہ اندازہ ہوا کہ جوڈو کراٹے کا شوق بھاری پڑتا جارہا ہے۔ جوڈو کراٹے کی ٹریننگ بڑی مشکل تھی ۔ہم ایک دن چھوڑ کر دو گھنٹے کی ٹریننگ کے لیے جاتے تھے۔ والد صاحب ہمیں بائیک پر پہچانے جاتے اور پھر لینے کے لیے آ جاتے۔اب اندازہ ہوتا ہے کہ بچوں کو پالنا بھی مارشل آرٹ سیکھنے سے کم نہیں ہے بلکہ اچھی خاصی مغزماری کرنا پڑتی ہے۔

وقت گزرتا گیا جوڈو کراٹے کے کلب میں ہم نے ناغےشروع کردیے۔ ہماری دلچسپی روز بہ روز کم ہونے لگی۔ اس کی وجہ یہی تھی کہ لمبی کثرت کرنا ۔بھاگنا دوڑنا محنت کرنا ہمارے بس سے باہر تھا۔ اس کے باوجود ہم نے کاتے اچھے سیکھ لیے تھے۔ کاتے جو بروس لی اپنی فلموں میں کیا کرتا تھا یعنی مارشل آرٹ کی خاص ٹریننگ۔ ہمارے کلب میں ایک لڑکا فائٹ کرتے ہوئے بروس لی کی طرح آوازیں نکالتا تھا۔ ہم بچے اسے دیکھ کر بہت ہنستے تھے پھر وہ موقع بھی آیا جب ہمیں لڑنا پڑا ۔ ہم کسی سے جیتے اور کسی سے ہارے مگر سامنے والے سے لڑتے ہوئے ڈر بہت لگتا تھا۔

اس وقت جوڈو کراٹے میں ہمارے استاد فرشاد حسین قریشی ہوا کرتے تھے جو اب بھی جوڈو کراٹے سکھاتے ہیں۔ ہم نے ان ہی سے سنا تھا کہ بلیک بیلٹ جس دن ملتی ہے اس دن آدمی کو بیس کھلاڑیوں سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ باری باری آتے ہیں ایک جاتا ہے تو دوسرا آجاتا ہے۔

دنیا میں کوئی چیز بے کار نہیں ہے ۔ ہم خود چیزوں کو اچھا یا برا بناتے ہیں ۔ جوڈو کراٹے سے جہاں ورزش ہوجاتی ہے وہاں آدمی آوارہ اور بدمعاش لوگوں کو اچھی طرح سے دھو بھی سکتا ہے۔ ہمارے ٹیوشن والے سر کہتے تھے کہ جوڈو کراٹے کا کیا فائدہ لوگ پستول دکھا کر کارروائی کرتے ہیں۔ یہ تقریباً تیس سال پرانی بات ہے آج کے حالات بالخصوص کراچی کے حالات تو واقعی ایسے ہی ہیں کہ میر کا شعر بار بار ذہن میں آتا ہے۔

آفاق کی منزل سے گیا کون سلامت
اسباب لٹا راہ میں یاں ہر سفری کا

مگر اس کے باوجود سیلف ڈیفنس کے لیے جوڈو کراٹے لڑکوں اور اب تو لڑکیوں کے لیے بہت ضروری ہے۔

ہم نے جوڈو کراٹے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ اسی لیے جوڈو کراٹے نے بھی ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ہمارا جو مشن تھا کہ ہم جوڈو سیکھنے کے بعد اسکول کے ناپسندیدہ بچوں کی خوب دھلائی کریں گے وہ مشن یا خواب پورا نہ ہوسکا۔ ہم نے سفید کے بعد نیلی اور اس کے بعد پیلی بیلٹ بھی لی۔ ایک ٹرافی اور ایک کپ بھی جیتا مگر مستقل مزاجی نہ ہونے کی وجہ سے جلد ہی اپنی اوقات پر آگئے۔

شاہ رخ خان کی فلم کا ڈائیلاگ ہے کہ” اگر کسی چیز کو دل سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے” درست بات ہے کسی بھی کام کو کرنے کے لیے اسے عبادت کی طرح کرنا پڑتا ہے ۔اس میں اپنا تن من سب لٹانا پڑتا ہے مگر ہم نے دلچسپی ہی نہیں لی۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے ہمیں محبت ہوگئی تھی اور محبت بھی کیا عشق سمجھیے اور بقول غالب عشق تو آدمی کو نکما کردیتا ہے۔
آپ بھی اس کا نام جاننا چاہتے ہیں جس سے ہم سے عشق کیا کرتے تھے اور بھرپور کرتے تھے تو لیجیے ہم اس کا نام بتا رہے ہیں اور وہ ہے ہماری سستی اور ہماری کاہلی۔

جی ہاں ہماری سستی اور کاہلی کے سامنے جوڈو کراٹے کی مشکل ورزش اور بھاگنا دوڑنا سب ماند پڑگیا۔ ہماری عقل میں یہ بات آگئی کہ ہم یہ کام نہیں کرسکتے ہیں۔ یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ بعد میں ہم دوبارہ سے اپنے اسکول کے ساتھیوں سے پٹتے رہے مگر ہماری جوڈو کراٹے سے جان چھوٹ گئی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے