کسی بھی معاشرے میں نوجوان اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کا استعارہ ہوتے ہیں۔ ایک عام خاندان اپنے بچے کو اس امید کے ساتھ سکول بھیجتا ہے کہ ایک دن یہ تعلیم اس کے شعور کو جلا بخشے گی اور اس کے محفوظ مستقبل کی ضامن بنے گی۔ والدین اپنی عمر بھر کی جمع پونجی، اپنی خواہشات اور بسا اوقات اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بچوں کی فیسیں ادا کرتے ہیں تاکہ کل کو ان کا لختِ جگر معاشرے میں ایک معزز مقام حاصل کر سکے۔
لیکن جب یہی نوجوان ہاتھوں میں ڈگریوں کے پلندے تھامے، آنکھوں میں خواب سجائے، تعلیمی اداروں کی چمکدار راہداریوں سے نکل کر عملی زندگی کے تپتے ہوئے صحرا میں قدم رکھتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ خوابوں اور حقیقت کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہے۔ وہ نظام کی اس کمزور کڑی کا شکار ہو جاتا ہے جو تعلیم کو روزگار سے جوڑنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
ہمارے روایتی تعلیمی ڈھانچے کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہم آج بھی بیسویں صدی کے فرسودہ نصاب اور رٹہ سسٹم کے سہارے اکیسویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ڈگری کو ایک کاغذ کا ٹکڑا تو بنا دیا گیا ہے، لیکن اس کاغذ کے پیچھے چھپی مہارت (Skill) کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔
جامعات سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں گریجویٹس فارغ التحصیل ہو رہے ہیں، مگر مارکیٹ کی طلب اور ان ڈگریوں کی رسد میں کوئی تال میل نظر نہیں آتا۔ ایک ایسے دور میں جہاں دنیا مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کی سمت گامزن ہے، ہمارے نوجوان اب بھی پرانی کتابوں کے گرد آلود صفحات میں گم ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب یہ نوجوان کسی ملٹی نیشنل کمپنی یا جدید ادارے میں انٹرویو کے لیے جاتے ہیں، تو وہاں کی ضرورت اور ان کی تعلیم میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا نہیں ہوتا کہ قصور کس کا ہے، بلکہ سوال یہ ہے کہ اس خامی کو دور کیسے کیا جائے؟ جب ایک نوجوان سولہ سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی خود کو بے بس اور لاچار محسوس کرتا ہے، تو اس کے دل میں مایوسی کے ڈیرے ڈالنے لگتے ہیں۔ وہ دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک جاتا ہے، مگر ہر جگہ اسے "تجربے” کی کمی کا طعنہ دے کر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ اب کوئی اس معصوم سے پوچھے کہ جو ابھی ابھی تعلیمی ادارے کی دہلیز پار کر کے آیا ہے، وہ بیس سال کی عمر میں پانچ سال کا تجربہ کہاں سے لائے؟ یہ وہ تضاد ہے جو ہمارے پورے مروجہ طریقہ کار پر ایک سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔
درحقیقت، تعلیمی اداروں اور صنعت (Industry-Academia Linkage) کے درمیان روابط کا شدید فقدان ہے۔ دنیا بھر میں نجی شعبے اور جامعات مل کر نصاب ترتیب دیتے ہیں تاکہ طالب علم وہی کچھ پڑھے جس کی بازارِ عمل میں ضرورت ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہ پل سرے سے موجود ہی نہیں یا اگر ہے بھی تو انتہائی خستہ حال ہے۔ ستم ظریفی دیکھیے کہ ایک طرف کارخانے داروں اور کمپنیوں کو ہونہار اور ہنر مند افراد نہیں مل رہے، اور دوسری طرف لاکھوں ڈگری ہولڈرز سڑکوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ یہ تماشا نہیں تو اور کیا ہے کہ ملک کا سب سے بڑا اثاثہ، یعنی اس کی افرادی قوت، صرف درست رہنمائی اور جدید خطوط پر استوار نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہے۔
بات صرف روزگار کی فراہمی کی نہیں ہے، بات اس سوچ کو بدلنے کی بھی ہے جو ہم نے اپنے معاشرے میں پروان چڑھا دی ہے۔ ہم نے کامیابی کا معیار صرف اور صرف میڈیکل، انجینئرنگ یا کسی سرکاری نوکری کو بنا دیا ہے۔ ہم نے تکنیکی تعلیم اور فنی مہارتوں (Vocational Training) کو ہمیشہ کم تر نگاہ سے دیکھا۔ اگر کوئی نوجوان الیکٹرانکس, پلمبنگ، گرافک ڈیزائننگ یا کسی اور ہنر کی طرف جانا چاہے تو معاشرتی رویے اس کا حوصلہ توڑ دیتے ہیں۔ حالانکہ موجودہ دور ہنر کا دور ہے۔ ڈگری شاید آپ کو کسی دفتر کے دروازے تک پہنچا دے، لیکن آپ کا ہنر ہی آپ کو اس دفتر میں برقرار رکھتا ہے اور آگے بڑھاتا ہے۔
جب نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہیں ملتا، تو معاشرے میں ایک خاموش وباء جنم لیتی ہے جسے "برین ڈرین” (Brain Drain) کہا جاتا ہے۔ ہمارا بہترین ٹیلنٹ، وہ ذہن جو اس مٹی کا قرض اتار سکتے تھے، مایوس ہو کر دیارِ غیر کا رخ کر رہے ہیں۔ وہ اپنی صلاحیتیں کسی اور ملک کی ترقی کے لیے وقف کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں اپنے ہاں تحفظ اور قدر دانی کی وہ فضا میسر نہیں آتی جس کے وہ حقدار ہیں۔ ایک غریب ملک کے وسائل سے پڑھنے والے جب باہر چلے جائیں، تو نقصان صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے وجود کا ہوتا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ اب ہمیں روایتی نعروں اور طفل تسلیوں سے باہر نکلنا ہوگا۔ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ نظام کی یہ کڑی اب مزید بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہی۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری صفوں میں خوشحالی آئے، تو ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو ڈگریاں بانٹنے والی فیکٹریوں کے بجائے ہنر اور تخلیقی سوچ پیدا کرنے والے مراکز میں تبدیل کرنا ہوگا۔ انٹرنشپ کے نظام کو لازمی اور سودمند بنانا ہوگا تاکہ طالب علم دورانِ تعلیم ہی عملی زندگی کے آداب سیکھ سکے۔
امید کی شمع اب بھی روشن کی جا سکتی ہے، بشرطیکہ دردِ دل رکھنے والے فکری رہنما اور پالیسی ساز سر جوڑ کر بیٹھیں۔ نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکالنا کسی ایک فرد کی ذمہ داری نہیں، یہ ہم سب کا اجتماعی فرض ہے۔ چلیے، اجالوں کے سفر کا آغاز کریں، نصاب کو وقت کے سانچے میں ڈھالیں اور اپنے بچوں کے ہاتھوں میں صرف کاغذ کی ڈگری نہیں، بلکہ وہ ہنر دیں جس سے وہ اپنا اور اس دھرتی کا مقدر بدل سکیں۔ جب تک تعلیم اور روزگار کا یہ رشتہ مضبوط نہیں ہوگا، ترقی کا ہر خواب ادھورا اور ہر دعویٰ بے معنی رہے گا۔