ممتاز مفتی میرے پسندیدہ ادیبوں میں شامل نہیں۔ اس کی تحریریں پڑھتے ہوئے مجھے اکثر دلچسپی سے زیادہ حوصلے کی ضرورت پڑتی ہے۔ چند صفحات بعد احساس ہوتا ہے کہ بات آگے کم بڑھ رہی ہے اپنے گرد چکر زیادہ لگا رہی ہے۔ جس کیفیت کو اس کے مداح گہرائی کہتے ہیں وہ مجھے بعض اوقات ایک معمولی خیال کی طویل میزبانی محسوس ہوتی ہے۔ خیال رخصت ہونا چاہتا ہے مگر مصنف اسے ایک اور پیالی پیش کردیتا ہے۔
مفتی نے متعدد اصناف میں لکھا۔ ان کہی اور گہما گہمی کے علاوہ چپ اور روغنی پتلے اس کے افسانوی مجموعے ہیں۔ علی پور کا ایلی خودنوشت عناصر رکھنے والا ناول ہے جبکہ الکھ نگری کو اس نے اپنی آپ بیتی کا دوسرا حصہ قرار دیا۔ اوکھے لوگ اور پیاز کے چھلکے شخصی خاکوں کے مجموعے ہیں جبکہ لبیک اور ہند یاترا سفرنامے ہیں۔ یہ ادبی سرگرمی قابلِ ذکر ہے مگر کتابوں کی فہرست کو فنی عظمت کا سرٹیفکیٹ سمجھنا میرے لیے مشکل ہے۔
اس کی تحریروں میں عورت اور جنس کے ساتھ انسانی باطن اور احساسِ کمتری نمایاں موضوعات ہیں۔ گناہ اور ندامت کے علاوہ روحانی جستجو بھی اہم ہے۔ علی پور کا ایلی کے نفسیاتی پہلو پر باقاعدہ تحقیق بھی ہوئی ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ مفتی کے پاس کوئی موضوع یا شناخت ہی نہیں۔ میرا اعتراض یہ ہے کہ موضوع کی سنجیدگی کو تحریر کی گہرائی کیوں سمجھ لیا جائے۔ نفسیات کا ذکر کرنا اور انسانی شخصیت کی تہیں کھول دینا ایک ہی کارنامہ نہیں۔
مفتی کا اسلوب گفتگو اور مختصر جملوں کے ساتھ تکرار اور سوالات اور ذاتی تاثرات سے بنتا ہے۔ یہ انداز کبھی قربت پیدا کرتا ہے لیکن میرے لیے جلد تھکا دینے والا ہوجاتا ہے۔ تلاش کے حصے لفظ اور مفہوم میں لکھتا ہے۔ سیانے کہتے ہیں کہ لفظ خالی برتن ہوتے ہیں۔ آگے مختلف لوگوں کے لیے الفاظ کے مختلف مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔ بات سمجھ میں آتی ہے۔ حیرت صرف یہ ہے کہ اس مانوس خیال کے استقبال کے لیے سیانوں کی پوری مجلس کیوں بلانا پڑی۔
اسی کتاب کے حصے مدھ اور حد میں عورتوں کے متعلق عبارت ہے۔ بے پردگی اور جنسی آزادی ان کے لیے خودکشی کے مترادف ہے۔ یہاں میری شکایت صرف اختلافِ رائے نہیں۔ مختلف تصورات کو ایک ساتھ رکھ کر اتنا شدید نتیجہ نکالنے کے لیے واضح تعریف اور دلیل چاہیے۔ متعلقہ حصے میں اعتدال کی تلقین موجود ہے مگر یہ جملہ اپنی قطعیت کے مطابق استدلال نہیں پاتا۔ مصنف نے فیصلہ سنا دیا۔ قاری دلیل کی درخواست لیے بیٹھا رہ گیا۔
پیاز کے چھلکے میں قدرت اللہ شہاب کے متعلق لکھتا ہے۔ اسے کبھی غصہ نہیں آتا۔ خاکے کے سیاق میں یہ اس کے تحمل اور رواداری کی تعریف ہے مگر لفظ کبھی مشاہدے سے بڑا دعویٰ بن جاتا ہے۔ میرے نزدیک ایسی عبارت میں شخصیت نگاری عقیدت کے قریب پہنچ جاتی ہے۔ انسان کو سمجھنے کے لیے اس کی پیچیدگیاں دکھانی پڑتی ہیں۔ مسلسل تعریف سے تصویر روشن تو ہوسکتی ہے ضروری نہیں کہ واضح بھی ہوجائے۔
ابن صفی اور شفیق الرحمان اور نسیم حجازی سے تقابل میں اصناف کا فرق اپنی جگہ لیکن قاری کی حیثیت سے میری ترجیح واضح ہے۔ ابن صفی کی قصہ بندی اور شفیق الرحمان کی مزاحیہ شگفتگی اور نسیم حجازی کی واقعاتی و جذباتی کشش مجھے مفتی کی طویل شخصی توضیحات سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ یہ میری تنقیدی ترجیح ہے۔ کسی تحقیقی فیصلے کا اعلان نہیں۔
میں مفتی کی بے تکلفی اور اعترافی انداز کی پہچان تسلیم کرتا ہوں مگر پہچان اور عظمت میں فرق رکھتا ہوں۔ مجھے اس کے ہاں بعض جگہ خیال سے زیادہ کیفیت اور دلیل سے زیادہ یقین اور شخصیت سے زیادہ عقیدت ملتی ہے۔ اس کے مداح اسے پڑھ کر محظوظ ہوتے ہوں گے۔ میں اکثر پڑھتے ہوئے صفحات گنتا ہوں۔ میری پسند کا ادب اگلا صفحہ کھلواتا ہے۔ مفتی کے ہاں کبھی کبھی اسے کھولنے کے لیے خود کو سمجھانا پڑتا ہے۔