کارل پولانی کا تصوّرِ ثالثی (میڈی ایشن): بنیادی روح

اپنی کتاب ”دی گریٹ ٹرانسفارمیشن“ میں کارل پولانی ”ثالثی“ (میڈی ایشن) یا ”ثالثی اداروں“ کی اصطلاح اُن سماجی، قانونی اور سیاسی حفاظتی حصاروں کے لیے استعمال کرتا ہے جو انسانی معاشرے کو بے لگام اور آزاد منڈی کی طاقتوں کی تباہ کاریوں سے بچاتے ہیں۔

پولانی کا بنیادی خيال یہ ہے کہ محنت (مزدوری)، زمین اور پیسہ ایسی ”مصنوعی اشیاء“ (fictitious commodities) ہیں جو کھلی منڈی میں خرید و فروخت کے لیے پیدا ہی نہیں کی گئی تھیں۔ اگر انہیں بغیر کسی حفاظتی حصار کے آزاد چھوڑ دیا جائے، تو ایک خود کار منڈی انسانی زندگی، قدرت اور کرنسی کو محض استعمال کی معمولی اشیاء سمجھنے لگتی ہے، جس سے بڑا سماجی نقصان ہوتا ہے۔

ثالثی دراصل معاشرے کی ایک حفاظتی ڈھال ہے۔ اس میں محنت کے قوانین، فیکٹری ایکٹ، زرعی ٹیرف، سینٹرل بینکنگ کی نگرانی اور سماجی تحفظ کے نظام شامل ہیں۔ یہ ادارے منڈی کے شدید جھٹکوں اور معاشی دباؤ کو انسانی زندگی پر براہِ راست اثر انداز ہونے سے روکتے ہیں۔

ابواب 17 اور 18: خود کار نظام کی معذوری اور تباہ کن دباؤ

باب 17 جدید صنعتی ریاست کے ایک بنیادی تضاد کو بیان کرتا ہے، جسے پولانی ”ڈبل موومنٹ“ (دوہری تحریک) کہتا ہے۔ جب آزاد منڈی کے حامی بغیر کسی رکاوٹ کے تجارت کو پھیلانے پر زور دے رہے تھے، تب معاشرے نے اپنی بقا کے لیے فطری طور پر قانونی اور انتظامی حفاظتی رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ ان حفاظتی قوانین نے شہریوں کا بچاؤ تو کیا، مگر منڈی کے اپنے خود کار نظام کو معذور بنا دیا۔ ایک خود کار منڈی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اجرت، زمین کی قیمت اور پیسے کی قدر بغیر کسی رکاوٹ کے کم یا زیادہ ہوتی رہے۔ جب قانون سازی اجرت کو انتہائی کم سطح تک گرنے سے روکتی ہے، تو منڈی کا نظام رک جاتا ہے۔ صنعتی معاشرے کا بحران صرف ریاستی مداخلت یا صرف منڈی کی وجہ سے نہیں، بلکہ ان دونوں کے باہمی تصادم سے پیدا ہوا۔

باب 18 اس نظامی ناکامی اور تباہ کن دباؤ کی تفصیل دیتا ہے جو بیسویں صدی کی شروعات میں اس ادارتی جمود کے عروج پر سامنے آئے۔ پولانی ان دباؤ کو چار بنیادی شعبوں میں تقسیم کرتا ہے۔

ملکی محنت کے شعبے میں، انسانی محنت کو محض منڈی کی لاگت سمجھنے کے نتیجے میں فیکٹری ایکٹ، کم سے کم اجرت کے قوانین اور ٹریڈ یونین کے حقوق وجود میں آئے، جس سے معاشی جمود اور محنت و سرمائے کے درمیان شدید صنعتی تصادم پیدا ہوا۔

زمین اور زراعت کے شعبے میں، قدرت اور زمین کو محض جائیداد اور منافع کا ذریعہ سمجھنے سے زرعی ٹیرف، زمین کی حفاظت کے قوانین اور سرکاری امداد قائم ہوئی، جس کے نتیجے میں خوراک کی قیمتیں بڑھیں، تجارتی رکاوٹیں پیدا ہوئیں اور بین الاقوامی تجارتی تنازعات میں اضافہ ہوا۔

پیسے اور کرنسی کے شعبے میں، بین الاقوامی گولڈ اسٹینڈرڈ کی سختی سے پيروی نے سینٹرل بینک کے ذریعے پیسے کے کنٹرول اور مالیاتی مداخلت کو مجبور کیا، جس سے اجرتوں میں شدید کمی، بڑے معاشی بحران اور وسیع ملکی بے چینی پیدا ہوئی۔

سامراجی اور جیو پولیٹیکل شعبے میں، غیر آباد منڈیوں میں غیر ملکی سرمائے کے پھیلاؤ نے تجارتی بلاکس اور ریاستی توسيع پسندی کو جنم دیا، جس کا انجام طاقتور ملکوں کی باہمی رقابت، عالمی تجارت کی تباہی اور جنگوں پر ہوا۔

پولانی نے یہ ابواب 1914ء اور 1939ء کے درمیان آزاد خیال تہذیب کے زوال کو سمجھانے کے لیے لکھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے بعد، یورپی ممالک نے گولڈ اسٹینڈرڈ کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی۔ کرنسی کی قدر قائم رکھنے کے لیے، ریاستوں کو مجبوری میں سرکاری اخراجات میں کٹوتی اور اجرتوں کو کم کرنا پڑا۔ شہریوں نے جمہوری انتخابات اور مزدور تحریکوں کے ذریعے ان سخت اقدامات کی مخالفت کی۔ جب جمہوری حکومتیں بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے مطالبوں اور اپنے عوام کی بقا کی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم نہ رکھ سکیں، تو جمہوری نظام بکھر گیا۔ فاشزم، نازیزم اور آمریت نے اس بحران کو جبر کے ذریعے حل کرنے کے لیے جمہوری اداروں کو ختم کر دیا۔

پولانی کا تجزیہ جدید معاشی اور قانونی نظم و نسق کے لیے تین ضروری اقدامات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پہلا، معاشی نظام کو محض منافع کے بجائے انسانی وقار، جمہوری نگرانی اور سماجی استحکام کے تابع ہونا چاہیے۔ دوسرا، بنیادی عوامی ضرورتوں، جیسے صحت، تعلیم، ماحولیات اور انصاف کو صرف مختصر مدت کے منافع کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا چاہیے۔ تیسرا، قومی اور بین الاقوامی پالیسیوں میں ایسے واضح حفاظتی قوانین ہونے چاہئیں جو مزدوروں اور ماحول کو معاشی جھٹکوں سے بچائیں اور نظام کو تباہی سے محفوظ رکھیں۔

ابواب 17 اور 18 یہ ثابت کرتے ہیں کہ جب معاشی نظام معاشرے سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ خود کو منڈی کی ضرورتوں کے مطابق ڈھالے—بجائے اس کے کہ منڈی کو انسانی ضرورتوں کے مطابق ڈھالا جائے تو اس کا نتیجہ بالآخر ادارے مفلوج ہونے، سماجی تباہی اور سیاسی انقلابات کی صورت میں نکلتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے