خلع کے کیسوں کی بڑھتی ہو ئی تعداد کا اندازہ اس فہرست مقدمات سے بھی لگایا جا سکتا ہے ۔ 22 ستمبر 2026ء کی یہ فہرست جناب محبوب الہی صاحب فیصل آباد کے کورٹ کی ہے ۔ اس میں آج کے مقدمات کی تعداد 91 یے جن میں 34 کیس تنسیخ نکاح کے ہیں ، دوسرے نمبر پر خرچہ یعنی نان ونفقہ کے کیس زیادہ ہے ۔ اب عورتیں زیادہ تر یہی کام کرتی ہیں ۔ بچے پیدا کر کے پھر خلع لے لیتی ہیں ۔ اس کے بعد بچوں کا خرچہ لگوا کر پرانے شوہر سے پیسے بٹورتی ہیں ۔ بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں اور من پسند بندے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزارتی ہیں ۔ باپ بچوں سے دور رہتا ہے اور بچے باپ ہوتے ہوئے بھی یتیمانہ زندگی گزارتے ہیں ۔
اب گویا خلع نان ونفقہ کے کیس ایک کاروبار بن چکا ہے ۔ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ سگی تین بہنیں اپنے شوہروں سے خلع لے کر بچوں کا خرچہ لگوا کر پسیے لے رہی ہیں اور اپنے پرانے پیار نباہ رہی ہیں ایک بہن نے تو اپنی سگی مامی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شوہر کے گھر پر بھی قبضہ کر لیا ۔ مامی ہی نہی مامی کے تینوں بھانجیاں بھی اب اسی رستے پے گامزن ہیں ۔ ایسی ان گنت مثالیں ہیں کہ پیسوں کے لالچ نے رشتوں کو توڑ دیا ہے پھر خلع کی آسان ڈگری اور بچے ہر صورت میں عورت ہی کو ملنے سے مزید خرابیاں بڑھ رہی ہیں جب تک یہ قانوں درست نہی ہو گا یہ کاروبار اور بڑھے گا اور خاندان تباہ وبرباد ہوتا چلے جائے جیسے اب دن بدن خلع کی تعدا بڑھ رہی ہے ۔
یہاں پر مجھے ایک بات یاد آگئی کہ ایک سروے کے مطابق 2018 سے لے کر 2022 تک صرف پاکستان میں دو لاکھ 23 ہزار لڑکیاں فیس بک سے محبت کر کے مردوں کی ہوس کا نشانہ بنیں اور تین لاکھ سے زیاده لڑکیوں نے اپنی پرائیویٹ پکس اور ویڈیو لڑکوں کو دیں ۔ 3 ہزار لڑکیاں ایسی ہیں، جو محبت کے نام په ملنےگیئں اور لڑکوں نے الله کی قسم, ماما کی قسم, ڈیلیٹ کردوں گا کا ڈرامه کر کے خواص لمحات کی ویڈیو بنائی اور بعد میں ان کو اس ویڈیو کے زریعے بلیک میل کیا اور نعد میں بار ہا اپنی ہوس پوری کی، لڑکی سے پیسے لیے اور دوستوں کی بھی ہوس پوری کروائی .کتنی ہی لڑکیوں نے صرف اسی وجہ سے خودکشی کی ۔ کتنی ہی لڑکیوں کی ویڈیو اب بھی مختلف ویب سائٹ پہ گردش کررہی ہیں.
کتنے ایسے کیس ہیں جو رپورٹ ہی نہیں ہوتے اور ماں باپ اپنی عزت کے مارے اپنی بیٹیوں کو مار دیتے ہیں ۔
کہتے ہیں انسان اپنی غلطیوں سے سیکھتا ہے اور دوسروں کی غلطیوں سے بھی سیکھتا ہے مگر افسوس یه ہے که اتنے کیس رپورٹ ہونے کے باوجود بھی لڑکیوں کو ہوش نہیں آیا وه مسلسل اپنی عزت نیلام کرنے پہ تلی ہوئی ہیں ۔ صرف اک جملے کے آسرے په کہ "میرے والا ایسا نہیں” اور جب سب کچھ لٹا بیٹھتی ہیں تو سمجھ آتی ہے که میرے والا بھی ایسا ہی گھٹیا ہے ۔ سوچنے کی بات یه ہے که اگر میرے والا یا تیرے والا اتنا ہی اچھا ہوتا ، تو میرا رب نامحرم رشتے حلال قرار دیتا جب دیور, جیٹھ, سارے کزن, خالو, پھوپھا جیسے رشتے جن کو آپ جانتی ہیں ان کو نامحرم قرار کیوں دیتا؟
اس بات پر لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر فائده کوئی نھیں, کیوں که اب لڑکیوں کی بڑی تعداد سوشل میڈیا یوز کررہی ہیں اور آپ لوگوں کو بھی حالات کی سنگینی کا اچھے سے علم ہے ۔ اگر آپ کسی کو اچھا سمجھ کے دوستی یا محبت کررہی ہیں تو یه آپ کی زمے داری ہے اور مرد کی نفسانی خواہش کا اندازه اس بات سے لگایا جاسکتا ہے که اس کو چار شادیوں تک کی بیک وقت اجازت ہے ۔ مرد کے مقابلے میں عورت کی زمے داری زیاده ہے کہ وه اپنے آپ کو بچا کے رکھے ۔ تو یاد رکھیں چاہے سوشل میڈیا ہو یا رئیل لائف، آپ سب ہی محفوظ ہیں جب تک کہ آپ کے لہجے میں کسی نامحرم کے لیے کوئی نرمی نہ ہو ۔
موبائل فون جہاں اس نے سفر کی دوریوں کو کم کیا ہے وہاں پر ہی نیو جنریشن کا بیڑا غرق بھی کیا ہے ۔ یہ سب اسباب و واقعات صرف موبائل فون کے غلط استعمال کرنے کی کرامات ہیں ۔۔خدارا اپنے آپ پر احسان کرو اپنا آپ بچالو .موبائل فون کی آمد سے پہلے ہمارا خاندانی نظام رائج تھا ۔ جسکو آہستہ آہستہ نیو جنریشن کے نام پر ناصرف کم کیا گیا بلکہ مکمل طور پر ختم کیا جارہا ہے ۔ اس خاندانی نظام پر ایک ہلکی سی روشنی ڈالتیں ہیں کہ شائد ہماری غیرت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھے ۔
خاندانی نظام کا ” سینٹر آف گریویٹی” مربوط اسلامی خاندانی نظام ہے جبکہ اس مربوط اسلامی خاندانی نظام کا بھی ” سینٹر آف گریویٹی” رشتہ میاں بیوی کا رشتہ ازدواج ہے جو نکاح سے، وعدے اور ایگریمنٹ سے ایک نئی نسل کے جوڑے میں پیدا ہوتا ہے ۔ جو احساس سے شروع اور نکاح سے مکمل اور نبھانے سے کامیاب ہوتا ہے ۔ جیسے بابا آدم علیہ السلام اور اماں حوا علیہ السلام کی جوڑی سے ہم سب انکی اولاد ہیں اور جو اولاد آج اسلام پر وہ بھی ، جو نہیں ہے وہ بھی، ان سب کی زندگیوں کا فرق تربیت و تعلیم اور اپنی چوائس و فیصلوں پر ہے ۔ اسی رشتہ ازدواج سے پھر دیگر کنبے کا، گھر کے افراد و رشتہ داروں کا، پھر محلہ داروں اور علاقے، پھر شہر اور صوبے اور پھر ریاست کا، پھر پوری دنیا کا باہمی احترام، ادب، شفقت و مہربانی کا، انسانی سلوک کا رشتہ ہے اور یہ سب رشتے احساس کے رشتے یعنی نکاح شادی جوڑے سے ہیں تبھی انسانی نسل بڑھی یے اور اسلامی نسل کی افزائش کی سب کی بنیاد مربوط اسلامی خاندانی نظام ہے ۔
تاریخ کے آئینے میں دیکھیں تو عروج سے زوال کا سفر کیساء رہا تو اس کو مزید الٹا کر شروع ہو جاؤ تو عروجِ اسلام، خلافتِ راشدہ نظام اور مزید عروج کی ابتداء پر نبوی دور ہے اور وہ اس وقت کی مسلمان دنیا ہے ۔ ہماری خلافت راشدہ ماڈل پہلی تیس سالہ ” خلافتِ علی منہاج النبوہ ” حکومت ختم ہوگئی ، پہلے تیس سالوں کے مکمل ہوتے ہی ۔ پھر ہماری متحدہ، واحد، باہمی مشترکہ دنیا کی اسلامی حکومت ” خلافتِ عثمانیہ ” ختم ہوگئی 1917ء میں ۔ اب تب سے آج تک ہمارا آخری قلعہ ” نظامِ خاندان ” بچا ہوا ہے ۔
اس سے آگے صرف اور صرف اور صرف دنیا بھر میں ابلیسیت باقی بچ گئی ہے۔ جیسے کہ آب اسلامی خاندانی نظام نشانے پر یوں ہے کہ ہر ننگی سیکس کی ویڈیوز میں بہن ، ماں، بیٹی ، باپ ، بھائی ، دادا، دادی تک سے زناء دکھایا جاتا ہے ۔ یہ سب کیا ہے ؟ اگر ہم آب بھی ہوش میں نہ آئے تو ہم مسلم بھی ایسے ہی صرف ابلیسی معاشرہ بن کر رہ جائیں گے۔
اب ہمیں مربوط اسلامی خاندانی نظام سے پھر سے درجہ بدرجہ عروج حاصل کرنا ہوگا۔ اس کا سینٹر آف گریویٹی رشتہ، رشتہ ازدواج ہے۔ اسے مکمل قانون سازی اور ذہن سازی سے، محنت و تربیت سے دوبارہ قائم کرنا ہوگا، پھر دیگر رشتوں اور معاشرے کیلئے محنت اور مزید ساری ریاست کے اندر۔
اس مربوط اسلامی خاندانی نظام کی مضبوطی کے بعد درجہ بدرجہ اصلاح ہوتے ہوتے، پہنچتے پہنچتے پہلے وطنِ عزیز میں ریاستی طور پر خلافتِ راشدہ ماڈل نظام بحال کیا جا سکتا ہے ۔ پھر اسلامی دنیا کا اتحاد، جو کہ مکہ باہمی دفاعی معاہدے سے شروع ہو چکا ہے ۔ پھر خلافت راشدہ ماڈل ، متحدہ اسلامی دنیا کی ایک واحد، منظم، مربوط، مشترکہ خلافتِ راشدہ ماڈل عالمی حکومت بنتی ہے ۔ یہ ساری عروج سے زوال کی جانب تاریخ یونہی گراوٹ کا شکار بھی ہوئی تھی اور یونہی درجہ بدرجہ عروج پر بھی جائے گی۔ ہم جنگوں (غزوہِ ہند و ملحمتہ العظمیٰ) سے گزر کر اسلامی خلافتِ راشدہ ماڈل عالمی حکومت کے قیام پر اختتام دیکھیں گے۔ ان شاءاللہ