پیر : 05 نومبر 2018 کی اہم ترین عالمی خبریں

[pullquote]امریکی پابندیوں کے برخلاف ایران تیل کی فروخت جاری رکھے گا، روحانی[/pullquote]

ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران ان پابندیوں کو توڑ دے گا جو امریکا نے تہران پر دوبارہ نافذ کر دی ہیں۔ ایران کے سرکاری ٹیلی وژن پر نشر ہونے والے خطاب میں حسن روحانی کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایرانی تیل کی برآمدات صفر پر آ جائیں مگر ایران تیل فروخت کرتا رہے گا۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تہران حکومت پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں آج پیر کے روز سے نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

[pullquote]افغان سکیورٹی چیک پوسٹ پر طالبان کا حملہ، تیرہ اہلکار ہلاک[/pullquote]

پیر کی صبح افغان فوج اور پولیس کے ایک چیک پوائنٹ پر طالبان کے حملے میں کم از کم 13 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے صوبائی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ غزنی صوبے کے خوگیانی ضلعے میں اس حملے کے بعد اضافی سکیورٹی دستے روانہ کر ديے گئے ہیں۔ صوبائی گورنر کے ترجمان عارف نوری کے مطابق اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں سات فوجی اور چھ پولیس اہلکار تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ سکیورٹی فورسز کی جھڑپ تین گھنٹے تک جاری رہی، جس میں چھ طالبان جنگجو ہلاک جب کہ دیگر دس زخمی ہوئے۔

[pullquote]دو سعودی شہری خاشقجی قتل کے شواہد مٹانے ترکی آئے تھے، ترک حکام[/pullquote]

ترک حکام کی جانب سے پیر کے روز کہا گیا ہے کہ جلاوطن سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد دو سعودی شہریوں کو قتل کے شواہد مٹانے کے لیے استنبول بھیجا گیا تھا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ایک حکومتی اہلکار نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ترک پولیس کی جانب سے قونصل خانے کی تلاشی سے قبل سعودی عرب سے ایک ٹاکسیکولوجسٹ اور ایک کیمکل ماہر کو قتل کے ثبوت مٹانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ترک حکام نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان سعودی شہریوں کی استنبول آمد کا واحد مقصد قتل کے شواہد چھپانا تھا۔ جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں قتل کیا گیا تھا۔

[pullquote]امریکا کے لیے چینی کاروباری آرڈرز میں ایک تہائی کمی[/pullquote]

امریکا کے لیے چینی درآمدی آرڈرز میں ایک برس قبل کے مقابلے میں ایک تہائی کے قریب کمی ہوئی ہے۔ چینی شہر گوانگ جو میں ہونے والے تجارتی میلے کے منتظمین کے مطابق حالیہ میلے کے دوران گزشتہ برس کے مقابلے میں امریکا کو 30.3 فیصد کم کاروباری آرڈرز ملے ہیں۔ اس کے علاوہ آسٹریلیا اور کینیڈا کے لیے بھی تجارتی آرڈرز میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ جاپان، جنوبی کوریا، آسیان اور برکس ممالک کے لیے تجارتی آرڈرز میں اضافہ ہوا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ جاپان کے لیے 74.4 فیصد رہا۔

[pullquote]ایران جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہیں کرے گا، پومپیو[/pullquote]

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔ مائیک پومپیو نے اتوار کو یہ بیان ایران پر امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ سے ایک روز قبل واشنگٹن میں دیا۔ آج پیر کے روز سے ایران پر امریکی پابندیوں پر مکمل نفاذ عمل میں آ چکا ہے۔ ایران پر نافذ امریکی پابندیوں میں سن 2015ء میں تہران حکومت اور عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد نرمی کی گئی تھی، تاہم رواں برس کے وسط میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے باہر نکلنے اور ایران پر دوبارہ ان سخت پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔ امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے بات چیت میں مائیک پومپیو نے یورپی کمپنیوں کو بھی خبردار کیا کہ انہیں کاروبار کے لیے ایران یا امریکا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہو گا۔

[pullquote]شام میں اسلامک اسٹیٹ کے حملے میں 12 امریکی حمایت یافتہ جنگجو ہلاک، مبصر گروپ[/pullquote]

شامی تنازعے پر نگاہ رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا ہے کہ شدت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ کے ایک حملے میں امریکی حمایت یافتہ 12 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جہادیوں کی جانب سے امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے جنگجوؤں کو مشرقی شام میں ایک کار بم حملے کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ آبزرویٹری کے مطابق اس واقعے میں دیگر 20 افراد زخمی بھی ہوئے۔ تاہم سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نے ایسے کسی واقعے میں اپنے جگنجوؤں کی ہلاکت کی تردید کی ہے۔ دوسری جانب بتایا گیا ہےکہ امریکی قیادت میں بین الاقوامی اتحاد کی جانب سے مشرقی شام میں فضائی حملے کیے گئے۔ آبزرویٹری کے مطابق ان فضائی کارروائیوں میں 14 شہری اور نو شدت پسند ہلاک ہوئے۔

[pullquote]جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا اجلاس[/pullquote]

وسیع تر اتحاد پر مبنی حکومت میں شامل اور جرمنی کی دوسری بڑی جماعت سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک اہم اجلاس اتوار کے روز منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں پارٹی عہدیداروں نے عوام میں اس جماعت کی گرتی ہوئی مقبولیت کے موضوع پر بات چیت کی۔ گزشتہ ماہ جرمن ریاستوں باویریا اور ہیسے میں ہونے والے علاقائی انتخابات میں اس جماعت کی مقبولیت میں قریب دس فیصد کی کمی دیکھی گئی تھی۔ اسی طرح جرمنی میں چانسلر انگیلا میرکل کی قدامت پسند جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین کو بھی عوام میں گرتی مقبولیت کا سامنا ہے۔ اتوار کے روز اس اجلاس میں ایس پی ڈی نے تاہم قیادت میں تبدیلی کی ضرورت کو مسترد کر دیا۔

[pullquote]چینی صدر کا درآمدات میں اضافے اور محصولات میں کمی کا وعدہ[/pullquote]

چینی صدر شی جن پنگ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ درآمدات میں اضافے اور محصولات میں کمی کے لیے اقدامات کریں گے۔ انہوں نے یہ بات شنگھائی میں ایک ہفتے پر محیط تجارتی نمائش کے افتتاح کے موقع پر کہی۔ شنگھائی میں سی آئی آئی ای یا چائنا انٹرنیشنل امپورٹ ایکسپو پانچ نومبر سے دس نومبر تک جاری رہے گی، جس میں ہزاروں غیرملکی کمپنیاں شریک ہیں۔ شی جن پنگ نے اس ایکسپو میں اپنے خطاب میں کہا کہ بیجنگ حکومت تعلیم، ٹیلی کمیونیکشن اور ثقافت کے شعبوں میں اپنے دروازے کھولے گی اور غیرملکی کمپنیوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

[pullquote]سعودی عرب کا انسانی حقوق کا ریکارڈ، اقوام متحدہ میں بحث[/pullquote]

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں سعودی عرب کے انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ پر بحث آج ہو گی۔ جینوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل میں سعودی عرب کے حوالے سے اس بحث کا آغاز ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے، جب ریاض حکومت جلاوطن صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے تناظر میں شدید عالمی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ جمال خاشقجی کو استنبول میں قائم سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔ پیر کے روز اقوام متحدہ سعودی عرب کے یمنی تنازعے میں کردار کے حوالے سے یونیورسل پیروڈک ریویو کا آغاز بھی کر رہی ہے۔

[pullquote]یمنی تنازعے کا حل، برطانیہ کا سلامی کونسل پر زور[/pullquote]

برطانوی وزیرخارجہ جیریمی ہُنٹ نے کہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں یمنی تنازعے کے حوالے سے نئے اقدامات پر دباؤ بڑھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار برس سے جاری اس تنازعے کے خاتمے کے لیے سلامتی کونسل کو مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ برطانیہ امریکا کے ساتھ مل کر یمن میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک قرارداد کے مسودے کی تیاری میں مصروف ہے۔ اس سے قبل امریکا نے یمنی جنگ کے فریقوں سے کہا تھا کہ وہ تیس روز کے اندر فائربندی کریں اور سیاسی مذاکرات کا آغاز کریں۔

[pullquote]چین میں سرکاری راز مبینہ طور پر افشا کرنے والے مقید کارکن کی زندگی خطرے میں[/pullquote]

انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے چینی جیل میں قید ہوانگ شی کی زندگی کی بابت خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظمیوں کے مطابق پولیس کے زیرحراست شدید علیل ہوانگ شی کو اگر طبی امداد نہ دی گئی، تو وہ فوت ہو سکتے ہیں۔ ہوانگ شی کو چین کا ’پہلا سائبر حکومت مخالف‘ کہا جاتا ہے۔ 55 سالہ ہوانگ شی کو ’ریاستی راز افشا‘ کرنے کے الزام کے تحت سن 2016ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ہوانگ شی ’سکس فور تیانوانگ‘ نامی ویب سائٹ چلایا کرتے تھے، جو چین میں چار جون سن 1989ء کو تیاننمن چوک پر جمہوریت کے حامیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے حوالے سے تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے